دفترِ خارجہ کا سعودی عرب پر حوثی حملوں پر شدید تشویش کا اظہار: یمن تنازع کے سیاسی و پُرامن حل کے لیے خطرہ قرار

منصور احمد,September 08,2026

اسلام آباد (نیوز اینڈ نیوز) — 8 ستمبر 2026ء

پاکستان کے دفترِ خارجہ نے سعودی عرب کے متعدد جنوبی شہروں ابہا، خمیس مشیط، جازان اور نجران میں آبادی اور اہم اقتصادی تنصیبات پر یمن کے حوثی جنگجوؤں کے متواتر حملوں کی شدید ترین الفاظ میں مذمت کرتے ہوئے واضح کیا ہے کہ یہ غیر ذمہ دارانہ عسکری اقدام یمن تنازع کے پُرامن، سیاسی اور دیرپا حل کے لیے کی جانے والی عالمی و علاقائی کوششوں کو شدید نقصان پہنچا سکتا ہے۔

ترجمان وزارتِ خارجہ کی جانب سے جاری کردہ باضابطہ پریس ریلیز میں کہا گیا ہے کہ عام شہریوں اور معاشی مراکز کو نشانہ بنانے والے حوثی جنگجوؤں کے یہ بزدلانہ حملے برادر اسلامی ملک سعودی عرب کی جغرافیائی خودمختاری اور علاقائی سالمیت کی کھلی اور سنگین خلاف ورزی ہیں۔ دفترِ خارجہ نے زور دے کر کہا کہ اس طرح کے اشتعال انگیز اقدام پوری مشرقِ وسطیٰ کے امن، توازن اور پائیدار استحکام کے لیے گہرا خطرہ بن رہے ہیں۔

ترجمان نے پرزور الفاظ میں اعادہ کیا کہ پاکستان اس مشکل گھڑی میں اپنے برادر ملک سعودی عرب کے ساتھ شانہ بشانہ کھڑا ہے اور اس کی سیکورٹی و سلامتی کے لیے اپنی مکمل اور غیر مشروط حمایت کا اعادہ کرتا ہے۔

وزارتِ خارجہ کے بیان میں مزید واضح کیا گیا ہے کہ پاکستان، اقوامِ متحدہ کے چارٹر (منشور) اور تسلیم شدہ بین الاقوامی قوانین کی روشنی میں سعودی عرب کے اپنے علاقے، عوام اور معاشی اثاثوں کے دفاع کے لیے اٹھائے جانے والے تمام تر ضروری اقدامات اور اس کے جائز عسکری و دفاعی حق کی مکمل طور پر پرزور حمایت کرتا ہے۔

ترجمانِ دفترِ خارجہ نے اپنے اختتامی کلمات میں کہا کہ حکومتِ پاکستان خطے میں کشیدگی کے خاتمے، پائیدار امن کی بحالی اور دیرپا استحکام کے حصول کے لیے ہر ممکن سفارتی کوششیں اور اپنا کلیدی کردار مسلسل جاری رکھے گی تاکہ خطہ مزید تصادم اور بے چینی سے محفوظ رہ سکے۔

پاکستان کی سعودی عرب میں شہری تنصیبات پر حوثی حملوں کی شدید مذمت: وزیراعظم شہباز شریف کا کامل یکجہتی کا اظہار

کاشف عباسی , September 08,2026

اسلام آباد (نیوز اینڈ نیوز) — 8 ستمبر 2026ء

پاکستان نے سعودی عرب کی حدود میں شہری علاقوں اور اہم توانائی کی تنصیبات کو نشانہ بنانے والے حوثی جنگجوؤں کے حالیہ ڈرون و بیلسٹک میزائل حملوں کی شدید ترین الفاظ میں مذمت کی ہے۔ اسلام آباد نے واضح کیا ہے کہ بے گناہ شہریوں پر ایسے بزدلانہ حملے نہ صرف معصوم انسانی جانوں کے لیے شدید خطرہ ہیں بلکہ پورے مشرقِ وسطیٰ کے نازک امن اور سلامتی کے لیے انتہائی تباہ کن ثابت ہو سکتے ہیں۔

وزیراعظم پاکستان شہباز شریف نے سماجی رابطے کی بین الاقوامی ویب سائٹ “ایکس” پر جاری کردہ اپنے خاص اور باضابطہ بیان میں سعودی عرب کے جنوبی شہروں میں شہری اور اقتصادی انفراسٹرکچر کو نشانہ بنانے کے اس واقعے کی سخت الفاظ میں مذمت کی۔

وزیراعظم نے اپنے بیان میں تشویش کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ ان شریر حملوں کے نتیجے میں متعدد بے گناہ افراد شدید زخمی ہوئے ہیں۔ انہوں نے خادم الحرمین الشریفین، سعودی قیادت اور برادر سعودی عوام کے ساتھ پاکستان کی جانب سے کامل اور غیر متزلزل یکجہتی کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ اس نوعیت کی پرتشدد عسکری کارروائیاں عام انسانی آبادی کو خطرے میں ڈالنے کے ساتھ ساتھ علاقائی توازن و سلامتی کے لیے سنگین خطرہ بن چکی ہیں۔

شہباز شریف نے پرزور انداز میں اعادہ کیا کہ پاکستان ہمیشہ کی طرح سعودی عرب کی جغرافیائی خودمختاری، ملک گیر سلامتی اور علاقائی سالمیت کے تحفظ کے لیے اپنے مضبوط، تاریخی اور اصولی موقف پر قائم ہے۔ انہوں نے ان حملوں میں زخمی ہونے والے تمام افراد کی جلد اور مکمل صحت یابی کے لیے نیک تمناؤں کا اظہار اور خصوصی دعا بھی کی ہے۔

پاکستان کی جانب سے یہ اہم سفارتی بیان ایک ایسے وقت میں سامنے آیا ہے جب سعودی حکام کے مطابق یمن کے حوثی گروپ کی جانب سے ابہا، خمیس مشیط، جیزان اور نجران میں کیے گئے حملوں میں خواتین اور بچوں سمیت 73 افراد شدید زخمی ہوئے ہیں اور بین الاقوامی خبر رساں ادارے رائٹرز کے مطابق ان حملوں سے کچھ توانائی کی تنصیبات کا آپریشن بھی متاثر ہوا ہے۔

دوسری طرف حوثی عسکری ترجمان یحییٰ سریع نے دعویٰ کیا ہے کہ انہوں نے یمن پر ہونے والے حالیہ سعودی فضائی حملوں کے جواب میں طویل فاصلے تک مار کرنے والے ڈرونز اور بیلسٹک میزائلوں کا استعمال کرتے ہوئے سعودی عرب کے اقتصادی و عسکری مراکز پر جوابی حملہ کیا ہے۔ سرحد کے دونوں اطراف سے بڑھتی ہوئی اس شدید عسکری کشیدگی نے بین الاقوامی تجارتی راستوں اور عالمی توانائی کی منڈیوں کی سلامتی پر شدید تشویش کے بادل پھیلا دیے ہیں۔

یمن پر 120 سے زائد سعودی فضائی حملوں کے بعد حوثیوں کا شدید جوابی ردِعمل: سعودی عرب پر درجنوں میزائل اور ڈرونز داغنے کا دعویٰ

روزینہ اسماعیل, September 08,2026

صنعاء (نیوز اینڈ نیوز) — 8 ستمبر 2026ء

یمن کے حوثی عسکری گروپ نے اعلان کیا ہے کہ انہوں نے گزشتہ تین روز کے دوران یمنی سرزمین پر 120 سے زائد سعودی فضائی و بحری حملوں کے ردِعمل میں سعودی عرب کے اہم اقتصادی اور عسکری اہداف کو نشانہ بناتے ہوئے درجنوں بیلسٹک میزائل اور بارود سے لیس ڈرونز داغے ہیں۔

حوثی مسلح افواج کے ترجمان یحییٰ سریع نے اپنے باضابطہ بیان میں دعویٰ کیا ہے کہ یمنی عسکری دستوں نے طویل فاصلے تک مار کرنے کی صلاحیت رکھنے والی ایک انتہائی بڑے پیمانے کی ملٹری آپریشنل کارروائی مکمل کی ہے۔ ان کے بقول اس جامع حملے میں درجنوں جدید بیلسٹک میزائلوں اور ڈرونز کا مربوط استعمال کیا گیا، جن کا بنیادی ہدف سعودی عرب کے اندر قائم مختلف عسکری اڈوں اور حساس معاشی تنصیبات کو بنانا تھا تاکہ حالیہ سعودی بمباری کا منہ توڑ جواب دیا جا سکے۔

یہ سنسنی خیز پیش رفت ایک ایسے نازک موڑ پر سامنے آئی ہے جب سعودی وزارتِ خارجہ کی جانب سے منگل کی صبح باضابطہ آگاہ کیا گیا تھا کہ ابہا، خمیس مشیط، جیزان اور نجران میں حوثی حملوں کے نتیجے میں خواتین اور بچوں سمیت 73 شہری زخمی ہوئے ہیں۔ ریاض حکومت نے خبردار کیا تھا کہ بے گناہ شہریوں اور عام انفراسٹرکچر پر متواتر بمباری کے انتہائی سنگین نتائج برآمد ہو سکتے ہیں۔

اس عسکری ٹکراؤ سے قبل یمن کے حوثی ابلاغی ادارے ‘المسیرہ’ کی رپورٹ میں دعویٰ کیا گیا تھا کہ سعودی جنگی طیاروں نے گزشتہ شب صوبہ الجوف کے شہر الحزم میں واقع ‘سینٹرل کریکشنل فیسلٹی’ یعنی مرکزی جیل کو شدید فضائی بمباری کا نشانہ بنایا۔ حوثی حکام کے مطابق تباہ شدہ جیل کے ملبے سے ایک خاتون سمیت 11 افراد کی لاشیں نکالی جا چکی ہیں جبکہ مزید 20 سے زائد افراد کی تلاش کے لیے ریسکیو آپریشن جاری ہے۔ حوثیوں کا یہ بھی الزام ہے کہ الجوف کے علاوہ البیضا، مارب، تعز اور الحدیدہ پر بھی کروز میزائلوں سے شدید حملے کیے گئے ہیں۔

علاوہ ازیں حوثی عسکری ترجمان نے گزشتہ 24 گھنٹوں کے دوران سعودی فورسز کے چار جدید ترین جاسوس ڈرونز، جن میں ایک طاقتور سی ایچ-4 ڈرون بھی شامل ہے، کو فضا میں ہی تباہ کرنے کا نیا دعویٰ کیا ہے۔ تاہم سعودی عسکری حکام یا سرکاری ذرائع کی جانب سے حوثیوں کے تازہ ترین فضائی و میزائل حملوں، ڈرونز کی تباہی اور جیل پر بمباری کے ان دعوؤں پر فی الوقت کوئی باضابطہ تبصرہ جاری نہیں کیا گیا ہے۔

حوثی حملوں میں خواتین اور بچوں سمیت 73 افراد زخمی: سعودی عرب کا سخت ردِعمل، شدید مذمت

محمود احمد, September 08,2026

ریاض (نیوز اینڈ نیوز) — 8 ستمبر 2026ء

سعودی عرب کی وزارتِ خارجہ نے یمن کے حوثی گروپ کی جانب سے جنوبی مملکت کے اہم شہروں ابہا، خمیس مشیط، جیزان اور نجران میں شہری آبادی اور حساس اقتصادی تنصیبات کو نشانہ بنانے کے سنگین واقعات کی شدید ترین الفاظ میں مذمت کی ہے۔ سعودی حکام کے مطابق ان پرتشدد اور بزدلانہ حملوں کے نتیجے میں خواتین اور بچوں سمیت کم از کم 73 شہری زخمی ہو گئے ہیں۔

سعودی وزارتِ خارجہ کی جانب سے جاری کردہ باضابطہ اور اہم اعلامیے کے مطابق، حوثی ڈرون اور میزائل حملوں کی زد میں آ کر جنوبی سعودی عرب کے مختلف اور اہم حصوں میں واقع توانائی اور دیگر بنیادی انفراسٹرکچر کی عمارتیں متاثر ہوئی ہیں۔ سعودی حکام نے ان کارروائیوں کو خطے کے امن کے لیے ایک انتہائی خطرناک عسکری کشیدگی قرار دیتے ہوئے اپنے شہریوں، مقیم غیر ملکیوں اور قومی مفادات کی ہمہ وقت حفاظت کو یقینی بنانے کے پختہ عزم کا اعادہ کیا ہے۔

وزارتِ خارجہ نے اپنے تفصیلی بیان میں واضح کیا کہ حوثی ملیشیا نہ صرف زمینی اہداف بلکہ بحیرۂ احمر جیسے اہم ترین تجارتی راستے پر بھی تجارتی بحری جہازوں کو مسلسل اور منصوبہ بند طریقے سے نشانہ بنا رہی ہے، جس سے بین الاقوامی بحری آمدورفت اور آزادانہ سمندری تجارت کی سلامتی کو کھلے خطرات لاحق ہو چکے ہیں۔ سعودی عرب نے حوثیوں سے پرزور مطالبہ کیا ہے کہ وہ فوری طور پر ان مخالفانہ کارروائیوں کا سلسلہ بند کریں اور تجارت کو مفلوج کرنے سے باز رہیں۔

اعلامیے کے مطابق، ریاض حکومت یمن کے ساتھ ساتھ اپنے تمام عرب اور اسلامی ہمسایہ ممالک کی سلامتی اور پائیدار استحکام کو داؤ پر لگانے والے حوثی گروپ کے کسی بھی جارحانہ قدم کو یکسر مسترد کرتی ہے۔ بیان میں حوثیوں کی طرف سے خطے میں امن کی مسلسل کوششوں کو ناکام بنانے اور بات چیت کو معطل کرنے پر گہرے دکھ اور افسوس کا اظہار بھی کیا گیا ہے۔

سعودی حکومت نے عالمی برادری کو خبردار کرتے ہوئے واضح الفاظ میں کہا ہے کہ مملکت کو اپنی جغرافیائی خودمختاری کے تحفظ، قومی وسائل کی سلامتی اور ملک میں موجود تمام شہریوں کی حفاظت یقینی بنانے کے لیے ہر ممکن اور تمام ضروری اقدامات اٹھانے کا پورا آئینی و بین الاقوامی حق حاصل ہے۔ ریاض نے باور کرایا کہ اپنی سرزمین پر حملوں کو ہرگز برداشت نہیں کیا جائے گا اور اس طرح کی کارروائیوں کے سنگین نتائج برآمد ہو سکتے ہیں، جبکہ اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل سے بھی فوری طور پر اپنی ذمہ داریاں نبھانے کا مطالبہ کیا گیا ہے۔

یمن میں لڑائی میں ایک بار پھر شدید تپش: حوثیوں کا سعودی عرب پر فضائی حملوں اور کروز میزائل کارروائیوں کا بڑا الزام

محمود احمد, September 07,2026

صنعا (نیوز اینڈ نیوز) — 7 ستمبر 2026ء

یمن کے حوثی باغی گروپ نے دعویٰ کیا ہے کہ سعودی عرب نے یمن کے متعدد صوبوں میں شدید فضائی حملے کیے ہیں اور کروز میزائلوں سے مختلف اہم اہداف کو نشانہ بنایا ہے۔ حوثیوں کے زیرِ انتظام کام کرنے والی سرکاری خبر رساں ایجنسی صبا کے مطابق ان تازہ فضائی اور میزائل حملوں کے دوران صوبہ الجوف، البیضا، مأرب اور تعز کے متعدد حساس مقامات کو نشانہ بنایا گیا ہے جس سے علاقے میں شدید کشیدگی پھیل گئی ہے۔

حوثی گروپ کی جانب سے سعودی عرب پر ان شدید حملوں کا یہ دعویٰ ایک ایسے وقت میں سامنے آیا ہے جب یمن میں زمینی جنگ ایک بار پھر انتہائی خونریز اور شدت اختیار کر گئی ہے۔ حوثی جنگجو اس وقت بین الاقوامی بحری تجارت کے لیے انتہائی اہمیت کی حامل آبنائے باب المندب سے متصل اہم اور تزویراتی علاقوں کی جانب تیزی سے پیش قدمی کرنے کی کوششیں کر رہے ہیں جہاں انہیں شدید مقاومت کا سامنا ہے۔

موصولہ رپورٹوں کے مطابق گزشتہ چند روز سے حوثی جنگجوؤں اور بین الاقوامی سطح پر تسلیم شدہ یمنی حکومت کی باقاعدہ مسلح افواج کے درمیان گھمسان کا معرکہ جاری ہے۔ ان جھڑپوں میں اب تک دونوں جانب سے بڑی تعداد میں ہلاکتوں کی اطلاعات موصول ہوئی ہیں۔ واضح رہے کہ یمنی حکومتی فورسز کو سعودی عرب کی مکمل سفارتی و عسکری حمایت حاصل ہے جبکہ خود کو انصار اللہ کہلوانے والے حوثی گروپ کو ایران کا قریبی اتحادی تصور کیا جاتا ہے۔

اس وقت حوثی گروپ دارالحکومت صنعا سمیت شمالی یمن کے تمام وسیع و عریض علاقوں پر قابض ہے، جبکہ یمنی حکومت کے حامی دستے ملک کے جنوبی اور مشرقی حصوں سمیت اہم ساحلی اور بندرگاہی علاقوں کا کنٹرول سنبھالے ہوئے ہیں۔ حالیہ لڑائی کا مرکزی نقطہ تعز، الحدیدہ کے مغربی اضلاع اور المَخا کے اطراف کا خطہ ہے، جو باب المندب کی اہم سمندری گزرگاہ تک براہِ راست رسائی فراہم کرتا ہے۔ یمنی حکومتی فورسز نے بھی حوثی ٹھکانوں پر جوابی کارروائیاں کرتے ہوئے بعض اہم علاقوں کا کنٹرول دوبارہ حاصل کرنے کا دعویٰ کیا ہے۔

اس تمام تر جنگی صورتحال کے پیشِ نظر حوثیوں نے سعودی عرب کے خلاف جوابی سمندری ناکہ بندی کا اعلان کرتے ہوئے سعودی تیل بردار جہازوں اور ان کی نقل و حمل کو نشانہ بنانے کی کھلی دھمکیاں بھی دی ہیں۔ چونکہ آبنائے باب المندب دنیا بھر کی تیل اور تجارتی ترسیل کی اہم ترین شاہراہ ہے، اس لیے اس خطے میں جنگ کے پھیلنے سے عالمی جہاز رانی اور توانائی کے منڈیوں میں شدید بحران پیدا ہونے کے خدشات ظاہر کیے جا رہے ہیں۔ فی الوقت سعودی حکام نے حوثیوں کے ان تازہ الزمات پر کوئی باقاعدہ تبصرہ یا آزادانہ تصدیق جاری نہیں کی ہے۔

حوثی عسکریت پسندوں کا راکٹوں اور ڈرونز سے اچانک زمینی حملہ؛ جواب میں یمنی فورسز کی سخت جوابی کارروائی

محمود احمد, September 04,2026

صنعاء / تعز (نیوز اینڈ نیوز) — 4 ستمبر 2026ء

بین الاقوامی میڈیا رپورٹس کے مطابق جمعرات کے روز سے بحیرہ احمر کے ساحلی علاقوں اور تعز شہر کے قریب حوثی جنگجوؤں اور بین الاقوامی سطح پر تسلیم شدہ یمنی سرکاری افواج کے درمیان شدید اور خونریز جھڑپیں جاری ہیں، جن میں دونوں جانب سے کم از کم 81 فوجی اور جنگجو ہلاک ہو چکے ہیں۔

بحیرہ احمر کے ساحلی علاقے میں تعینات یمنی فوج کے ایک سینئر عہدیدار نے تصدیق کی ہے کہ حوثی حملوں کے خلاف لڑتے ہوئے ان کی فورسز کے 24 اہلکار ہلاک ہوئے ہیں، جبکہ تعز کے محاذ پر موجود ایک اور فوجی حکمران نے مزید 15 یمنی اہلکاروں کی ہلاکت کی اطلاع دی ہے۔

فرانسیسی خبر رساں ادارے (اے ایف پی) نے حوثیوں کے زیرِ کنٹرول علاقوں میں طبی اور ہسپتال کے ذرائع کے حوالے سے رپورٹ کیا ہے کہ یمنی سرکاری افواج کی جوابی کارروائی میں حوثی مسلح گروہ کے کم از کم 42 ارکان بھی ہلاک ہوئے ہیں۔

موصولہ اطلاعات کے مطابق یہ خونی لڑائی اس وقت شروع ہوئی جب حوثی فورسز نے تعز کے علاقے اور بحیرہ احمر کی ساحلی پٹی کے آس پاس قائم سرکاری فوج کے مواضع پر راکٹوں اور جدید ڈرونز کی مدد سے اچانک شدید زمینی حملہ کر دیا۔ یمنی فوج نے حملے کو ناکام بنانے کے لیے جوابی کارروائی کی، جس کے بعد دونوں فریقین کے درمیان شدید گولا باری کا سلسلہ شروع ہو گیا۔