

محمود احمد, October28,2026
تل ابیب (نیوز اینڈ نیوز) — 28 اکتوبر 2026ء
اسرائیل میں عام انتخابات کے دوران ریکارڈ ووٹر ٹرن آؤٹ کے بعد پولنگ کا عمل باضابطہ طور پر ختم ہو گیا ہے۔ اسرائیل کی سنٹرل الیکشن کمیٹی کے مطابق ووٹنگ کے اختتام تک ٹرن آؤٹ 77.7 فیصد ریکارڈ کیا گیا، جو 1999 کے بعد پولنگ ختم ہونے کے وقت درج ہونے والی بلند ترین شرح بتائی جا رہی ہے۔ انتخابی حکام کے جاری کردہ اعداد و شمار کے مطابق مقامی وقت کے مطابق رات 10 بجے پولنگ ختم ہونے تک 56 لاکھ 95 ہزار 682 ووٹرز اپنا حقِ رائے دہی استعمال کر چکے تھے۔
انتخابی عمل میں ووٹرز کی اس قدر بڑی شرکت کو اسرائیل کی حالیہ سیاسی تاریخ کا ایک اہم رجحان قرار دیا جا رہا ہے۔ ابتدائی اعداد و شمار ظاہر کرتے ہیں کہ شہریوں کی بڑی تعداد نے انتخابات میں حصہ لیا، تاہم زیادہ ٹرن آؤٹ بذاتِ خود کسی مخصوص جماعت یا سیاسی اتحاد کی کامیابی کی ضمانت نہیں ہوتا۔ حتمی سیاسی صورتِ حال کا تعین ووٹوں کی گنتی، جماعتوں کو حاصل ہونے والی نشستوں اور حکومت سازی کے لیے درکار پارلیمانی حمایت سے ہوگا۔
1999 کے بعد سب سے زیادہ شرکت
سنٹرل الیکشن کمیٹی کے مطابق پولنگ ختم ہونے کے وقت ریکارڈ کیا گیا 77.7 فیصد ٹرن آؤٹ 1999 کے بعد سب سے زیادہ ہے۔ اس شرح سے ظاہر ہوتا ہے کہ انتخابات میں ووٹرز کی شرکت غیر معمولی طور پر بلند رہی۔ اسرائیل میں انتخابی نتائج نہ صرف حکومت کی تشکیل بلکہ ملکی سیاست کی آئندہ سمت کے تعین کے لیے بھی اہمیت رکھتے ہیں۔
انتخابی عمل میں زیادہ شرکت کی وجوہات کا تعین صرف ٹرن آؤٹ کے اعداد و شمار سے نہیں کیا جا سکتا۔ اس کے لیے ووٹرز کے سیاسی رجحانات، مختلف جماعتوں کی انتخابی مہمات، عوامی ترجیحات اور انتخابی نتائج کا مزید جائزہ درکار ہوگا۔ اس مرحلے پر بنیادی طور پر یہی کہا جا سکتا ہے کہ پولنگ کے اختتام تک ووٹ ڈالنے والے شہریوں کی تعداد اور مجموعی ٹرن آؤٹ نمایاں رہے۔
56 لاکھ سے زائد ووٹرز نے ووٹ ڈالا
کمیٹی کے فراہم کردہ اعداد و شمار کے مطابق رات 10 بجے تک 5,695,682 ووٹرز اپنا ووٹ ڈال چکے تھے۔ یہ اعداد و شمار پولنگ ختم ہونے کے وقت کی صورتِ حال بیان کرتے ہیں۔ حتمی نتائج مرتب کرنے کے لیے انتخابی حکام کو ووٹوں کی گنتی اور متعلقہ انتخابی طریقۂ کار مکمل کرنا ہوتا ہے۔
اسرائیلی انتخابات میں ووٹرز کی شرکت کا تناسب سیاسی جماعتوں کے لیے اہم اشارہ سمجھا جاتا ہے، لیکن کسی جماعت کی کامیابی کا انحصار اس بات پر ہوتا ہے کہ اسے ڈالے گئے ووٹوں کے نتیجے میں کتنی پارلیمانی نشستیں ملتی ہیں۔ اسی لیے ٹرن آؤٹ کے اعداد و شمار کو انتخابی کامیابی کے حتمی پیمانے کے طور پر نہیں دیکھا جا سکتا۔
زیادہ ٹرن آؤٹ اور حکومت سازی کے امکانات
اسرائیلی انتخابات میں ووٹرز کی بھرپور شرکت ایسے وقت میں سامنے آئی ہے جب سیاسی جماعتوں کے درمیان حکومت بنانے کے لیے سخت مقابلہ جاری ہے۔ ابتدائی انتخابی اندازوں کے مطابق وزیرِ اعظم بنیامین نیتن یاہو کے سیاسی اتحاد اور اپوزیشن کی جماعتوں کے درمیان نشستوں کے حصول کی دوڑ اہم مرحلے میں داخل ہو چکی ہے۔ دونوں بڑے سیاسی کیمپوں کے لیے پارلیمانی اکثریت حاصل کرنا حکومت سازی کی بنیادی شرط ہے۔
اسرائیل کی پارلیمان، کنیسٹ، 120 ارکان پر مشتمل ہے اور حکومت بنانے کے لیے عموماً کم از کم 61 نشستوں کی حمایت درکار ہوتی ہے۔ اگر کوئی ایک جماعت یا اتحاد اس تعداد تک نہیں پہنچتا تو اسے دیگر جماعتوں کے ساتھ مذاکرات کرنا پڑ سکتے ہیں۔ ایسے حالات میں چھوٹی جماعتوں کی نشستیں بھی حکومت کی تشکیل میں فیصلہ کن اہمیت اختیار کر سکتی ہیں۔
تاہم یہ نتیجہ اخذ کرنا درست نہیں ہوگا کہ زیادہ ووٹر ٹرن آؤٹ لازماً کسی ایک سیاسی کیمپ کے حق میں گیا ہے۔ اس کا تعین جماعتوں کے انتخابی نتائج، ووٹوں کی تقسیم اور حتمی نشستوں سے ہی ممکن ہوگا۔
حتمی نتائج پر نظریں مرکوز
پولنگ ختم ہونے کے بعد توجہ اب ووٹوں کی گنتی اور سرکاری نتائج کے اعلان پر مرکوز ہے۔ ابتدائی اندازے انتخابی رجحانات کا اشارہ فراہم کر سکتے ہیں، لیکن ان کی بنیاد پر کسی جماعت یا اتحاد کی حتمی کامیابی کا اعلان نہیں کیا جا سکتا۔ سرکاری نتائج سامنے آنے کے بعد ہی یہ واضح ہوگا کہ کون سی جماعتیں پارلیمان میں کتنی نشستیں حاصل کرنے میں کامیاب رہیں اور حکومت سازی کے لیے کس سیاسی اتحاد کے پاس بہتر امکانات موجود ہیں۔
انتخابی نتائج کے بعد اسرائیلی صدر مختلف سیاسی جماعتوں کے رہنماؤں سے مشاورت کریں گے اور حکومت تشکیل دینے کے لیے ایسے رہنما کو موقع دیا جائے گا جس کے پاس پارلیمانی اکثریت حاصل کرنے کا بہتر امکان ہو۔ اس عمل میں سیاسی جماعتوں کے درمیان مذاکرات اور ممکنہ اتحادی معاہدے اہم کردار ادا کریں گے۔
مجموعی طور پر 77.7 فیصد ٹرن آؤٹ انتخابات میں غیر معمولی عوامی شرکت کی نشاندہی کرتا ہے۔ تاہم اسرائیل کی سیاسی سمت کا حتمی تعین ووٹوں کی گنتی، پارلیمانی نشستوں اور حکومت سازی کے آئندہ مراحل سے ہوگا۔
نیوز اینڈ نیوز کی وضاحت: سنٹرل الیکشن کمیٹی سے منسوب فراہم کردہ اعداد و شمار کے مطابق ووٹر ٹرن آؤٹ 77.7 فیصد رہا۔ اس شرح کو 1999 کے بعد پولنگ کے اختتام پر بلند ترین ٹرن آؤٹ قرار دیا گیا ہے؛ حتمی انتخابی نتائج اور سیاسی اثرات کا تعین سرکاری گنتی کے بعد ہی کیا جا سکے گا۔
ماخذ: اسرائیل کی سنٹرل الیکشن کمیٹی، فراہم کردہ انتخابی معلومات