

محمود احمد, October29,2026
تل ابیب (نیوز اینڈ نیوز) — 29 اکتوبر 2026ء
اسرائیل میں عام انتخابات کے ووٹوں کی گنتی مکمل ہونے کے بعد ملکی میڈیا کے مطابق اپوزیشن جماعتوں کو مجموعی طور پر 67 نشستیں حاصل ہوئی ہیں، جبکہ وزیرِ اعظم بنیامین نیتن یاہو کا اتحاد 53 نشستوں کے ساتھ پارلیمان میں سب سے بڑا سیاسی بلاک بن کر سامنے آیا ہے۔ تاہم سب سے زیادہ نشستیں حاصل کرنے کے باوجود نیتن یاہو کا اتحاد حکومت بنانے کے لیے درکار 61 نشستوں کی اکثریت حاصل کرنے میں ناکام رہا۔
نتائج کے مطابق نیتن یاہو کی لیکود پارٹی نے 27 نشستیں حاصل کیں، جبکہ ان کے دائیں بازو اور مذہبی اتحادیوں سمیت پورے اتحاد کی نشستوں کی تعداد 53 رہی۔ اس کے مقابلے میں سابق فوجی سربراہ گاڈی آئزنکوٹ کی یشار پارٹی نے 21 نشستیں حاصل کیں، جبکہ ان کے ساتھ شامل اپوزیشن جماعتوں کی مجموعی نشستیں 48 بتائی گئی ہیں۔
فراہم کردہ نتائج کے مطابق اپوزیشن کی مجموعی 67 نشستوں میں عرب جماعتوں کی ممکنہ 19 نشستیں بھی شامل ہیں۔ تاہم عرب جماعتوں کے سیاسی تعاون اور حکومت سازی کے حوالے سے حتمی فیصلے سامنے آنا باقی ہیں۔
نیتن یاہو کے اتحاد کو 2022 کے مقابلے میں نقصان
حالیہ انتخابی نتائج نیتن یاہو کے لیے سیاسی دھچکا سمجھے جا رہے ہیں۔ 2022 کے انتخابات میں ان کی جماعت لیکود نے 32 نشستیں حاصل کی تھیں اور دائیں بازو و مذہبی جماعتوں کے ساتھ اتحاد قائم کرکے مجموعی طور پر 64 نشستوں کی اکثریت حاصل کر لی تھی۔
اس مرتبہ ان کے اتحاد کی نشستیں کم ہو کر 53 رہ گئی ہیں، جس کے باعث حکومت سازی کے لیے مزید سیاسی حمایت حاصل کرنا ضروری ہوگا۔ لیکود کا 27 نشستوں کے ساتھ سب سے بڑی واحد جماعت بننا نیتن یاہو کو مذاکرات میں سیاسی وزن تو دیتا ہے، لیکن اس سے انہیں خودکار طور پر حکومت بنانے کا حق یا پارلیمانی اکثریت حاصل نہیں ہو جاتی۔
نیتن یاہو کے لیے اب اہم مرحلہ ایسی جماعتوں کی حمایت حاصل کرنا ہوگا جو ان کے ساتھ مل کر حکومت بنانے پر آمادہ ہوں۔ دوسری جانب اپوزیشن بھی اپنے اتحادیوں کو متحد رکھنے اور پارلیمانی اکثریت کو عملی شکل دینے کی کوشش کرے گی۔
گاڈی آئزنکوٹ اور اپوزیشن کے لیے حکومت سازی کا موقع
سابق فوجی سربراہ گاڈی آئزنکوٹ کی یشار پارٹی نے 21 نشستیں حاصل کی ہیں۔ اگرچہ یہ تعداد لیکود کی 27 نشستوں سے کم ہے، لیکن اپوزیشن جماعتوں کی مجموعی نشستوں کی تعداد انہیں حکومت سازی کے لیے ایک ممکنہ راستہ فراہم کرتی ہے۔
اپوزیشن اتحاد کو 48 نشستیں حاصل ہوئی ہیں، جبکہ عرب جماعتوں کی 19 نشستیں اس کے لیے اہم ہو سکتی ہیں۔ اگر عرب جماعتیں کسی ایسے انتظام کی حمایت پر آمادہ ہو جائیں جس سے اپوزیشن کو پارلیمانی اکثریت مل سکے تو آئزنکوٹ کے حکومت بنانے کے امکانات بڑھ سکتے ہیں۔
تاہم عرب جماعتوں کی حمایت کو یقینی نہیں سمجھا جا سکتا۔ اس کا انحصار سیاسی مذاکرات، ممکنہ شرائط اور آئندہ حکومت کی پالیسیوں پر ہوگا۔ اسی طرح یہ بھی واضح ہونا باقی ہے کہ اپوزیشن کی تمام جماعتیں حکومت سازی کے ایک مشترکہ منصوبے پر کس حد تک متفق ہو سکتی ہیں۔
عرب جماعتوں کا ممکنہ فیصلہ کن کردار
عرب جماعتوں کی مجموعی 19 نشستیں اسرائیلی سیاست میں خاص اہمیت اختیار کر گئی ہیں۔ جب دو بڑے سیاسی بلاک اپنے طور پر اکثریت حاصل نہ کر سکیں تو چھوٹی جماعتوں یا الگ سیاسی گروپوں کی حمایت حکومت سازی کے نتائج پر اثر انداز ہو سکتی ہے۔
عرب جماعتوں کے سامنے بھی یہ فیصلہ ہوگا کہ آیا وہ کسی اپوزیشن حکومت کی حمایت کریں، کسی مخصوص سیاسی معاہدے کے تحت تعاون کریں یا حکومت سازی کے عمل سے الگ رہیں۔ ان کے فیصلے سے پارلیمان میں طاقت کا توازن تبدیل ہو سکتا ہے، لیکن ابھی ان کے آئندہ لائحۂ عمل کے بارے میں حتمی نتیجہ اخذ کرنا ممکن نہیں۔
صدر اسحاق ہرزوگ کا آئندہ کردار
حتمی انتخابی نتائج کے بعد اسرائیلی صدر اسحاق ہرزوگ مختلف سیاسی جماعتوں کے رہنماؤں سے مشاورت کریں گے۔ اس کے بعد وہ اس رہنما کو حکومت بنانے کی دعوت دیں گے جس کے بارے میں ان کا خیال ہوگا کہ وہ اتحادی جماعتوں کی حمایت حاصل کرنے کے بہتر امکانات رکھتا ہے۔
حکومت سازی کے لیے مذاکرات میں کئی ہفتے لگ سکتے ہیں۔ اگر نامزد رہنما مطلوبہ حمایت حاصل کرنے میں ناکام رہتا ہے تو کسی دوسرے امیدوار کو موقع دیا جا سکتا ہے، جبکہ طویل سیاسی تعطل کی صورت میں نئے انتخابات کا امکان بھی پیدا ہو سکتا ہے۔
مجموعی طور پر انتخابی نتائج نے اسرائیل میں سیاسی مقابلے کو ایک نئے مرحلے میں داخل کر دیا ہے۔ نیتن یاہو کا اتحاد سب سے بڑا بلاک ہونے کے باوجود اکثریت سے محروم ہے، جبکہ اپوزیشن کے لیے حکومت سازی کا امکان عرب جماعتوں اور دیگر سیاسی قوتوں کے ساتھ کامیاب مذاکرات سے وابستہ ہوگا۔
نیوز اینڈ نیوز کی وضاحت: یہ خبر فراہم کردہ انتخابی اعداد و شمار پر مبنی ہے۔ اپوزیشن کی مجموعی 67 نشستوں میں عرب جماعتوں کی نشستیں شامل بتائی گئی ہیں، جبکہ اپوزیشن کے یہودی اتحاد کی نشستیں 48 ہیں۔ حکومت سازی کا حتمی فیصلہ سیاسی مشاورت، اتحادی حمایت اور صدر اسحاق ہرزوگ کے آئینی عمل کے بعد ہوگا۔
ماخذ: فراہم کردہ انتخابی نتائج، اسرائیلی سیاسی جماعتوں سے متعلق معلومات