مقبوضہ جموں و کشمیر میں مدارس اور تعلیمی اداروں پر چھاپے، مذہبی آزادیوں سے متعلق خدشات میں اضافہ

Spread the love

روزینہ اسماعیل.May 31,2026

اسلام آباد (نیوز اینڈ نیوز) – 31 مئی 2026ء

مقبوضہ جموں و کشمیر میں مسلم تعلیمی اور مذہبی اداروں کے خلاف قابض بھارتی انتظامیہ کی حالیہ متعصبانہ کارروائیوں پر عالمی سطح پر شدید تشویش کا اظہار کیا جا رہا ہے۔ مختلف بین الاقوامی ذرائع ابلاغ کی رپورٹس کے مطابق، بھارتی تحقیقاتی ادارے نے سرینگر اور شوپیاں کے مختلف حساس علاقوں میں کریک ڈاؤن کرتے ہوئے بڑے پیمانے پر چھاپہ مار کارروائیاں کی ہیں، جن میں کئی نامور دینی مدارس اور مسلم تعلیمی ادارے بھی شامل ہیں۔

شوپیاں اور سرینگر میں کریک ڈاؤن اور تلاشی رپورٹس کے مطابق، بھارتی فورسز اور تحقیقاتی حکام نے شوپیاں میں واقع مشہور دینی ادارے ‘جامعہ سراج العلوم’ سمیت متعدد اہم مقامات کا گھیراؤ کر کے وہاں تفصیلی تلاشی لی، جبکہ سرینگر کے لال بازار کے علاقے میں بھی ایک معروف تعلیمی ادارے میں گھس کر زبردستی تلاشی کی کارروائی کی گئی۔ ان کارروائیوں کے دوران اداروں کے ریکارڈز کو قبضے میں لینے کے ساتھ ساتھ مختلف سماجی اور مذہبی شخصیات کی رہائش گاہوں پر بھی چھاپے مارے گئے اور تفتیشی حربے استعمال کیے گئے۔

مذہبی آزادی اور شہری حقوق کی پامالی کشمیر کے مقامی حلقوں، حریت رہنماؤں اور مبصرین کا کہنا ہے کہ ان دانستہ کارروائیوں نے خطے میں مسلمانوں کی مذہبی آزادی، تعلیمی سرگرمیوں اور بنیادی شہری حقوق کی بقا کے حوالے سے سنگین سوالات کو جنم دیا ہے۔ ان کے مطابق، دینی مدارس اور تعلیمی اداروں کے خلاف بھارتی حکومت کے ان جارحانہ اقدامات سے کشمیری عوام میں شدید غم و غصہ اور گہری تشویش پائی جا رہی ہے، کیونکہ اسے کشمیر کی مسلم شناخت کو مٹانے کی کوشش دیکھا جا رہا ہے۔

سیاسی صورتحال اور عوامی بے چینی میں اضافہ دفاعی اور سیاسی تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ مقبوضہ جموں و کشمیر میں قابض فوج کے سخت محاصرے کے باعث سیاسی اور سماجی صورتحال پہلے ہی انتہائی حساس اور کشیدہ ہے۔ ایسے سفاکانہ ماحول میں معصوم طلبہ کے تعلیمی اور مذہبی اداروں کو نشانہ بنانا وادی میں مزید شدید بے چینی اور مہم جوئی کا سبب بن سکتا ہے۔ ماہرین کا مؤقف ہے کہ بنیادی انسانی حقوق، اپنے عقیدے کے مطابق مذہبی آزادی اور بغیر کسی خوف کے تعلیم تک رسائی ہر مہذب معاشرے کے بنیادی اصول ہیں جن کا ہر حال میں تحفظ ضروری ہے۔

عالمی برادری اور انسانی حقوق کی تنظیموں سے اپیل حقوقِ انسانی کے ماہرین نے عالمی برادری، اقوامِ متحدہ اور انسانی حقوق کی بین الاقوامی تنظیموں پر پرزور دیا ہے کہ وہ مقبوضہ جموں و کشمیر کی ابتر ہوتی ہوئی موجودہ صورتحال کا فوری نوٹس لیں اور وہاں جاری انسانی حقوق کی خلاف ورزیوں، شہری آزادیوں پر قدغن اور مسلم تعلیمی سرگرمیوں کے تحفظ کے لیے اپنا مؤثر ترین سفارتی کردار ادا کریں۔ انہوں نے واضح کیا کہ خطے میں پائیدار امن، استحکام اور عوامی اعتماد کا فروغ تب تک ممکن نہیں جب تک تمام اقدامات قانون، شفافیت اور انسانی حقوق کے عالمی اصولوں کے مطابق نہ ہوں۔