

منصور احمد ,May 31,2026
اسلام آباد (نیوز اینڈ نیوز) – 31 مئی 2026ء
گرین پاکستان انیشی ایٹو (جی پی آئی) کے تحت ملک بھر میں زرعی شعبے کی انقلابی ترقی، کسانوں کی خصوصی سہولت کاری اور جدید کاشتکاری کے فروغ کے لیے کیے گئے حالیہ اقدامات سامنے آئے ہیں۔ ان اقدامات کو ملک میں زرعی خود کفالت کے حصول اور دیہی معیشت کے پائیدار استحکام کے لیے ایک تاریخی اور انتہائی اہم پیش رفت قرار دیا جا رہا ہے۔
جدید ٹیکنالوجی اور سمارٹ فارمنگ کا آغاز ملک کے زرعی شعبے میں جدید ترین ٹیکنالوجی، ڈیجیٹل نگرانی، سمارٹ فارمنگ اور جدید تحقیقی نظام متعارف کرانے سے روایتی کاشتکاروں کو اب بہتر رہنمائی اور عالمی معیار کی سہولیات فراہم کی جا رہی ہیں۔ زرعی ماہرین کے مطابق، اس جدید زرعی معلوماتی نظام، سیٹلائٹ نگرانی اور ٹیکنالوجی پر مبنی بروقت زرعی مشاورت کے ذریعے فصلوں کی فی ایکڑ پیداوار اور کاشتکاروں کی کام کرنے کی استعداد میں نمایاں بہتری ریکارڈ کی گئی ہے۔
بنجر زمینوں کی بحالی اور معاشی منصوبے گرین پاکستان انیشی ایٹو کے تحت ملک بھر کی لاکھوں ایکڑ بنجر زمینوں کی بحالی، زرعی شعبے میں ملکی و غیر ملکی سرمایہ کاری کے فروغ اور زرعی مصنوعات کے برآمدی مواقع میں اضافے کے لیے مختلف بڑے منصوبوں پر تیزی سے کام جاری ہے۔ ان تمام اقدامات کا بنیادی مقصد پاکستان کے زرعی شعبے کو جدید ترین خطوط پر استوار کرنا اور دور دراز کے دیہی علاقوں میں معاشی سرگرمیوں کو بڑھا کر غربت کا خاتمہ کرنا ہے۔
گرین ایگری مالز کا قیام اور کسانوں کا اعتماد ملک بھر کے کاشتکاروں نے حکومت کی جانب سے ‘گرین ایگری مالز’ کے قیام کو بے حد خوش آئند اور کسان دوست اقدام قرار دیا ہے۔ کسانوں کا کہنا ہے کہ معیاری بیج، کھاد، زرعی ادویات اور جدید ترین زرعی مشینری اب ایک ہی چھت تلے نسبتاً انتہائی آسان اور سستے داموں دستیاب ہو رہی ہے، جس سے ان کے قیمتی وقت اور سفری اخراجات دونوں میں واضح کمی آئی ہے۔
پنجگور سمیت دور دراز علاقوں میں ترقی مقامی کسانوں کے مطابق، ان جدید زرعی منصوبوں کی بدولت بلوچستان کے ضلع پنجگور سمیت دیگر دور دراز اور پسماندہ علاقوں میں بنیادی زرعی سہولیات، روزگار کے نئے مواقع اور معاشی سرگرمیوں میں تیزی سے اضافہ ہوا ہے۔ کسانوں کا کہنا ہے کہ پنجگور جیسے علاقوں میں اب زرخیز زمینوں سے بہتر پیداوار حاصل کرنے کے امکانات روشن ہو چکے ہیں، جبکہ بجلی کے بحران سے نمٹنے کے لیے شمسی توانائی (سولر سسٹم) اور جدید آبپاشی (ڈریپ اریگیشن) کے منصوبے بھی کسانوں کے لیے لائف لائن ثابت ہو رہے ہیں۔
خوراک کی فراہمی اور برآمدات میں اضافہ ماہرینِ زراعت کا کہنا ہے کہ اگر ان جدید زرعی اصلاحات، ٹیکنالوجی کے وسیع استعمال اور کسان دوست پالیسیوں کا تسلسل اسی طرح برقرار رہا، تو پاکستان بہت جلد نہ صرف اپنی زرعی پیداوار میں نمایاں اضافہ کرنے میں کامیاب ہو جائے گا، بلکہ خوراک کے شعبے میں مکمل خود کفالت حاصل کرنے کے ساتھ ساتھ قیمتی زرِ مبادلہ کمانے کے لیے برآمدات میں بھی خاطر خواہ بہتری لا سکے گا۔