

محمود احمد june 01,2026
واشنگٹن (نیوز اینڈ نیوز) – 01 جون 2026ء
امریکا میں تعینات چینی سفیر شیے فینگ نے دونوں ممالک کے تعلقات کے حوالے سے ایک اہم اور مثبت بیان جاری کیا ہے۔ انہوں نے کہا ہے کہ چین اور امریکا کے عوام کے درمیان دوستی، خیرسگالی اور باہمی احترام کی خواہش آج بھی پوری آب و تاب کے ساتھ زندہ ہے، اور دونوں ممالک کے نوجوان مستقبل میں ان باہمی تعلقات کو مزید مضبوط اور پائیدار بنانے میں کلیدی کردار ادا کر سکتے ہیں۔
پنگ پونگ سے پکل بال سفارت کاری تک کا سفر واشنگٹن میں چینی سفارت خانے کے اندر منعقدہ ایک منفرد “پکل بال نائٹ” تقریب سے خصوصی خطاب کرتے ہوئے سفیر شیے فینگ نے تاریخی حوالوں کا ذکر کیا۔ انہوں نے کہا کہ ماضی میں مشہور ‘پنگ پونگ سفارت کاری’ نے چین اور امریکا کو ایک دوسرے کے قریب لانے میں تاریخی کردار ادا کیا تھا، جبکہ آج کھیل کے میدانوں کے ذریعے دونوں ممالک کی نوجوان نسل ایک بار پھر عوام کو قریب لانے کا ایک بہترین اور مؤثر ذریعہ بن رہی ہے۔
عوامی روابط اور دوستی کی خواہش چینی سفیر نے واضح کیا کہ اگرچہ وقت گزرنے کے ساتھ ساتھ اب کھیل کے انداز اور باہمی رابطوں کے ذرائع ضرور بدل گئے ہیں، لیکن چین اور امریکا کے عام عوام کے دلوں میں دوستی، اقتصادی تعاون اور مثبت روابط قائم کرنے کی خواہش آج بھی برقرار ہے۔ انہوں نے اس بات پر گہرا زور دیا کہ عوامی سطح پر براہِ راست روابط اور دونوں ممالک کے نوجوانوں کے وفود کے تبادلے باہمی تعلقات کو کسی بھی قسم کے بحران سے بچانے اور مستحکم بنانے کے لیے نہایت اہم ہیں۔
عالمی چیلنجز اور نوجوان نسل کی ذمہ داری سفارت خانے کی اس تقریب کے دوران شیے فینگ نے امریکی طلبہ، اساتذہ اور ان کے والدین سے تفصیلی ملاقاتیں کیں اور کھیلوں کے ذریعے پیدا ہونے والی اس نئی دوستی اور ثقافتی روابط کو دل کھول کر سراہا۔ انہوں نے کہا کہ دونوں ممالک کی نوجوان نسل کو روایتی اختلافات سے ہٹ کر اب موسمیاتی تبدیلیوں، مصنوعی ذہانت ، عوامی صحت، عالمی غذائی تحفظ اور دیگر بڑے بین الاقوامی چیلنجز پر اپنی مشترکہ توجہ مرکوز کرنی چاہیے تاکہ دنیا کو درپیش سنگین مسائل کے حل میں یہ نوجوان اپنا مؤثر ترین کردار ادا کر سکیں۔
تعلقات کا نیا تاریخی مرحلہ اور عالمی امن چینی سفیر کا کہنا تھا کہ چین اور امریکا کے باہمی تعلقات اس وقت ایک بالکل نئے تاریخی مرحلے میں داخل ہو رہے ہیں، جس کے پیشِ نظر دونوں ممالک کی قیادت کو اپنے سیاسی اختلافات کو ہوا دینے کے بجائے باہمی تعاون، تعمیری مکالمے اور سفارتی اعتماد کو فروغ دینا چاہیے۔ انہوں نے مزید کہا کہ دنیا کی دو سب سے بڑی معیشتوں کے طور پر چین اور امریکا کی یہ اولین مشترکہ ذمہ داری بنتی ہے کہ وہ عالمی امن، بقائے باہمی، استحکام اور معاشی ترقی کے فروغ کے لیے مل کر کام کریں اور اپنے تعلقات کو مستحکم، متوازن اور پائیدار بنیادوں پر آگے بڑھائیں۔
بین الاقوامی امور کے مبصرین کے مطابق، واشنگٹن میں چینی سفارت خانے کی جانب سے اس قسم کی تقریب کا انعقاد دونوں سپر پاورز کے درمیان عوامی سطح پر دوریاں کم کرنے اور نوجوان نسل کے ذریعے مستقبل کے تعلقات کو محفوظ بنانے کی ایک انتہائی مثبت اور خوش آئند تزویراتی کوشش ہے۔