اقوامِ متحدہ کی جنرل اسمبلی کے اکیاسی ویں اجلاس کے صدر کا تاریخی انتخاب، بنگلہ دیش کے سفارتکار خلیل الرحمان کامیاب

محمود احمد june 02,2026

نیویارک / ڈھاکہ (نیوز اینڈ نیوز) — 2 جون 2026ء

عالمی سفارت کاری کے میدان میں جنوبی ایشیا کے لیے بڑی کامیابی سامنے آئی ہے۔ اقوامِ متحدہ کی جنرل اسمبلی کے اکیاسی ویں (81ویں) سالانہ اجلاس کے صدر کے معرکہ آرا انتخاب میں بنگلہ دیش کے سینیئر اور مایہ ناز سفارتکار خلیل الرحمان حتمی طور پر کامیاب قرار پائے ہیں۔ وہ ستمبر 2026ء سے لے کر ستمبر 2027ء تک قائم رہنے والے اس اہم ترین عالمی اجلاس کے صدر کے طور پر اپنی خدمات سرانجام دیں گے۔

جنرل اسمبلی میں ریکارڈ رائے شماری اور سو فیصد حاضری اقوامِ متحدہ کے ہیڈ کوارٹر نیویارک میں جنرل اسمبلی کے صدر کے منصب کے لیے ہونے والی اس ہنگامی رائے شماری کے دوران دنیا بھر کے ممالک کی جانب سے مجموعی طور پر ایک سو نوے (190) ووٹ ڈالے گئے۔ اس تاریخی انتخاب کی سب سے خاص بات یہ رہی کہ دنیا کا کوئی بھی رکن ملک اس اہم ووٹنگ کے عمل سے نہ تو غیر حاضر رہا اور نہ ہی کسی نے غیر جانبدار رہنے کا فیصلہ کیا، بلکہ تمام ممالک نے اپنا حقِ رائے دہی استعمال کیا۔

انتخابی نتائج اور دونوں امیدواروں کے ووٹوں کا موازنہ دنیا کے اس سب سے بڑے سفارتی ادارے کی جانب سے جاری کردہ باقاعدہ انتخابی نتائج کے مطابق، دونوں ممالک کے مابین سخت جوڑ پڑا جس کی تفصیل درج ذیل ہے:

خلیل الرحمان (بنگلہ دیش): 99 ووٹ حاصل کیے
اینڈریاس کاکوریس (قبرص): 91 ووٹ حاصل کیے

    اقوامِ متحدہ کے قوانین کے مطابق، صدارت کی کرسی حاصل کرنے کے لیے امیدوار کو سادہ اکثریت کے تحت کم از کم چھیانوے (96) ووٹ درکار تھے، جس کے مقابلے میں بنگلہ دیش کے خلیل الرحمان نے ننانوے (99) ووٹ حاصل کر کے میدان مار لیا۔ بین الاقوامی سیاسی ماہرین اس انتخاب کو اس لحاظ سے انتہائی سنسنی خیز اور اہم قرار دے رہے ہیں کہ دونوں امیدواروں کے درمیان مقابلہ غیر معمولی طور پر سخت رہا اور ہار جیت کا فیصلہ محض آٹھ (8) ووٹوں کے معمولی فرق سے ہوا۔

    نئے صدر کی آئینی ذمہ داریاں اور عالمی منصب بنگلہ دیشی سفارتکار خلیل الرحمان رواں سال ستمبر 2026ء میں شیڈول کے مطابق جنرل اسمبلی کے اکیاسی ویں اجلاس کی صدارت کا باقاعدہ حلف اٹھا کر چارج سنبھالیں گے اور پورے ایک سال تک اس معتبر عالمی منصب پر فائز رہیں گے۔ ان کی کلیدی ذمہ داریوں میں جنرل اسمبلی کے تمام اہم ترین اجلاسوں کی صدارت کرنا، کائنات کے مختلف خطوں میں جاری جنگوں اور بحرانوں کے خاتمے کے لیے رکن ممالک کے درمیان قریبی سفارتی مشاورت کو فروغ دینا اور نازک عالمی امور پر عالمی برادری کے اندر اتفاقِ رائے پیدا کرنے میں اپنا فعال کردار ادا کرنا شامل ہوگا۔

    اقوامِ متحدہ کی جنرل اسمبلی کی عالمی حیثیت واضح رہے کہ اقوامِ متحدہ کی جنرل اسمبلی اس وقت کرہ ارض کے تقریباً تمام خودمختار اور آزاد ممالک پر مشتمل دنیا کا سب سے بڑا اور معتبر ترین عالمی فورم ہے۔ یہ وہ تاریخی پلیٹ فارم ہے جہاں دنیا بھر میں پائیدار امن کے قیام، علاقائی سلامتی کے تحفظ، موسمیاتی و پائیدار ترقی، انسانی حقوق کی پامالیوں کو روکنے اور بین الاقوامی برادری کے درمیان باہمی معاشی و عسکری تعاون سمیت تمام بڑے اور سنگین عالمی معاملات پر تفصیلی غور و خوض کے بعد مشترکہ فیصلے کیے جاتے ہیں۔

    پاکستان نے طویل المدتی تنازعات کے پھیلاؤ کے خطرات سے خبردار کر دیا، اقوامِ متحدہ میں مستقل مندوب کا اہم خطاب

    محمود احمد june 02,2026

    اقوامِ متحدہ (نیوز اینڈ نیوز) — 02 جون 2026ء

    پاکستان نے عالمی سطح پر جاری جنگی صورتحال کے تناظر میں ایک بار پھر اپنا واضح موقف پیش کرتے ہوئے خبردار کیا ہے کہ طویل عرصے تک جاری رہنے والے تنازعات نہ صرف علاقائی بلکہ عالمی امن و سلامتی کے لیے بھی انتہائی سنگین خطرات پیدا کرتے ہیں۔ پاکستان کے مطابق، ان جنگوں کے خطرناک اثرات اب مخصوص سرحدوں سے تجاوز کر کے دیگر پرامن ممالک تک بھی پہنچ سکتے ہیں۔

    سلامتی کونسل کا ہنگامی اجلاس اور مستقل مندوب کا بیانیہ اقوامِ متحدہ کی سلامتی کونسل کے ایک ہنگامی اور اہم اجلاس سے خصوصی خطاب کرتے ہوئے اقوامِ متحدہ میں پاکستان کے مستقل مندوب عاصم افتخار احمد نے کہا کہ طویل المدتی تنازعات فریقین کے مابین شدید غلط فہمیوں، تزویراتی کشیدگی اور بڑے تصادم کے امکانات کو کئی گنا بڑھا دیتے ہیں۔ اس کے نتیجے میں نہ صرف علاقائی استحکام داؤ پر لگ جاتا ہے بلکہ بین الاقوامی امن کو بھی شدید ترین خطرات لاحق ہو سکتے ہیں۔

    یوکرین تنازع پر پاکستان کا اصولی موقف انہوں نے یوکرین کے دیرینہ تنازع کے حوالے سے پاکستان کے روایتی اور اصولی مؤقف کا اعادہ کرتے ہوئے کہا کہ پاکستان ہمیشہ سے فریقین کے مابین تعمیری مکالمے، فعال سفارت کاری اور پرامن حل کی حمایت کرتا آیا ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ موجودہ نازک صورتحال میں مزید فوجی کشیدگی اس بحران کو ایک وسیع تر اور تباہ کن تصادم میں تبدیل کر سکتی ہے، جس کے بھیانک اثرات کسی ایک خطے تک محدود نہیں رہیں گے بلکہ پوری دنیا محسوس کرے گی۔

    ریاستوں کی خودمختاری اور مسلح ڈرونز کی دراندازی پر تشویش پاکستانی مندوب نے دنیا کی تمام ریاستوں کی خودمختاری، علاقائی سالمیت اور سیاسی آزادی کے غیر مشروط احترام پر زور دیتے ہوئے کہا کہ یہ بنیادی اصول بین الاقوامی قانون اور عالمی نظام کی بنیاد ہیں اور ان پر ہر صورت عمل ہونا چاہیے۔ انہوں نے پڑوسی ممالک کی فضائی حدود میں مسلح ڈرونز کی مبینہ دراندازی اور اس کے نتیجے میں ہونے والی معصوم شہریوں کی ہلاکتوں پر پاکستان کی جانب سے گہری تشویش کا اظہار بھی کیا۔

    جدید جنگی ٹیکنالوجی اور انسانی قوانین کا چیلنج سفیر عاصم افتخار احمد نے اس بات کی نشاندہی کی کہ جدید جنگوں میں ریموٹ کنٹرول ڈرونز کے بڑھتے ہوئے اندھا دھند استعمال نے نئے انسانی اور قانونی چیلنجز پیدا کر دیے ہیں، جن سے مؤثر طریقے سے نمٹنے کے لیے بین الاقوامی انسانی قوانین پر مکمل عملدرآمد بے حد ضروری ہو چکا ہے۔ انہوں بھی اس بات پر سخت زور دیا کہ جنگی ٹیکنالوجی کے استعمال میں معصوم انسانی جانوں کے تحفظ کو ہمیشہ اولین ترجیح دی جانی چاہیے۔

    جائز سلامتی مفادات کا تسلیم کیا جانا ناگزیر پاکستان کے مستقل مندوب نے یوکرین تنازع کے مستقل حل کے لیے تین بنیادی نکات پیش کرتے ہوئے کہا کہ اس بحران کے خاتمے کے لیے تمام فریقین کے جائز سلامتی مفادات کو تسلیم کرنا، اقوامِ متحدہ کے منشور کے زریں اصولوں کی پاسداری کرنا اور سفارتی کوششوں کو آگے بڑھانا ناگزیر ہے۔ انہوں نے اس سلسلے میں امریکہ کی سہولت کاری میں جاری مذاکراتی عمل کو تنازع کے حل کے لیے انتہائی اہم قرار دیتے ہوئے اس کی جلد اور غیر مشروط بحالی پر زور دیا۔

    انہوں نے دوٹوک الفاظ میں واضح کیا کہ محض عسکری ذرائع یا جنگی طاقت کسی بھی خطے میں کبھی پائیدار امن قائم نہیں کر سکتے، جبکہ بامعنی، سنجیدہ اور مسلسل مذاکرات ہی خطے میں دیرپا امن کی واحد ضمانت فراہم کر سکتے ہیں۔ سفیر عاصم افتخار احمد نے فوراً اور مکمل جنگ بندی کی ضرورت پر زور دیتے ہوئے تمام متعلقہ فریقین سے پرخلوص اپیل کی کہ وہ ہٹ دھرمی چھوڑ کر خلوصِ نیت کے ساتھ امن کے راستے کی طرف واپس آئیں۔

    پاکستان یورپی یونین کے ساتھ کثیر الجہتی شراکت داری مضبوط بنانے کے لیے پرعزم ہے: وزیراعظم شہباز شریف

    کاشف عباسی ,june 01,2026

    اسلام آباد (نیوز اینڈ نیوز) – 1 جون 2026ء

    وزیراعظم محمد شہباز شریف نے واشنگٹن اور دیگر عالمی دارالحکومتوں میں جاری سفارتی تبدیلیوں کے تناظر میں واضح کیا ہے کہ پاکستان یورپی یونین کے ساتھ اپنی کثیر الجہتی تزویراتی شراکت داری کو مزید مضبوط بنانے کا شدید خواہاں ہے۔ انہوں نے عزم ظاہر کیا ہے کہ دونوں فریقوں کے مابین تجارتی، معاشی، اقتصادی اور سفارتی تعاون کو آنے والے دنوں میں مزید وسعت دی جائے گی۔

    دفترِ وزیراعظم میں اعلیٰ سطحی ملاقات اور شرکا وزیراعظم ہاؤس میں یورپی یونین کی خارجہ امور اور سلامتی پالیسی کی اعلیٰ نمائندہ اور یورپی کمیشن کی نائب صدر کاجا کالس سے ایک اہم ملاقات کے دوران وزیراعظم نے ان کا پرتپاک خیرمقدم کیا۔ اس اعلیٰ سطحی ملاقات کے موقع پر پاکستان کے نائب وزیراعظم و وزیر خارجہ سینیٹر محمد اسحاق ڈار، وفاقی وزیر قانون سینیٹر اعظم نذیر تارڑ، اٹارنی جنرل منصور عثمان اعوان، وزیراعظم کے معاونِ خصوصی طارق فاطمی اور دیگر سینیئر حکام بھی موجود تھے۔

    تزویراتی مکالمے کے آٹھویں دور پر اطمینان کا اظہار وزیراعظم شہباز شریف نے وفاقی دارالحکومت میں پاکستان اور یورپی یونین کے درمیان جاری ‘تزویراتی مکالمے’ (اسٹریٹجک ڈائیلاگ) کے آٹھویں دور کے کامیاب انعقاد پر گہرے اطمینان کا اظہار کیا۔ انہوں نے کہا کہ باہمی تجارت، نئی سرمایہ کاری، ماحولیاتی تبدیلیوں کے خطرات، علاقائی سلامتی، ہجرت کے قوانین، پائیدار ترقی اور باہمی رابطہ کاری (کنیکٹیویٹی) سمیت مختلف اہم شعبوں میں دوطرفہ تعاون کو مزید فروغ دیا جائے گا۔

    جی ایس پی پلس سہولت کی اہمیت اور برآمدات انہوں نے پاکستان اور یورپی یونین کے مابین مضبوط تجارتی تعلقات کے فروغ میں ‘جی ایس پی پلس’ (GSP Plus) سہولت کی کلیدی اہمیت کو خصوصی طور پر اجاگر کیا۔ وزیراعظم کا کہنا تھا کہ اس تجارتی رعایتی پروگرام نے یورپی مارکیٹ میں پاکستانی برآمدات میں اضافے اور دونوں خطوں کے معاشی روابط کو مستحکم بنانے میں ہمیشہ ایک اہم ترین کردار ادا کیا ہے۔

    خلیجی خطے میں امن اور عسکری و سفارتی قیادت کا کردار وزیراعظم شہباز شریف نے خلیجی خطے اور مشرقِ وسطیٰ میں امن و استحکام کے فروغ کے لیے پاکستان کی جانب سے کی جانے والی مخلصانہ سفارتی کوششوں کی حمایت کرنے پر یورپی یونین کی قیادت کا شکریہ ادا کیا۔ انہوں نے اس بات پر زور دیا کہ ملک کی عسکری اور سیاسی قیادت، بشمول نائب وزیراعظم اسحاق ڈار اور فیلڈ مارشل عاصم منیر، خطے میں پائیدار امن کے قیام اور کشیدگی کو کم کرنے کے لیے اپنا انتہائی اہم اور تاریخی کردار ادا کر رہے ہیں۔

    ملاقات کے دوران جنوبی ایشیا کی مجموعی امن و امان کی صورتحال، پڑوسی ملک افغانستان سے متعلق امور اور مختلف دیگر پیچیدہ علاقائی و عالمی معاملات پر بھی تفصیلی تبادلہ خیال کیا گیا۔

    یورپی قیادت کو دورہ پاکستان کی دعوت وزیراعظم نے یورپی کونسل کے صدر انتونیو کوسٹا اور یورپی کمیشن کی صدر ارسلا وان ڈیر لیین کے لیے اپنی نیک خواہشات کا اظہار کرتے ہوئے انہیں باضابطہ طور پر پاکستان کے دورے کی دعوت بھی دی۔ اس موقع پر یورپی یونین کی اعلیٰ نمائندہ کاجا کالس نے علاقائی امن، سلامتی اور استحکام کے لیے پاکستان کے کلیدی کردار کو دل کھول کر سراہا اور پاکستان کے ساتھ تزویراتی تعلقات کو مزید مضبوط اور وسیع بنانے میں یورپی یونین کی گہری دلچسپی کا اظہار کیا۔

    چین اور امریکا کے عوام دوستی کے خواہاں، نوجوان نسل مستقبل کے تعلقات کی ضامن ہے: چینی سفیر

    محمود احمد june 01,2026

    واشنگٹن (نیوز اینڈ نیوز) – 01 جون 2026ء

    امریکا میں تعینات چینی سفیر شیے فینگ نے دونوں ممالک کے تعلقات کے حوالے سے ایک اہم اور مثبت بیان جاری کیا ہے۔ انہوں نے کہا ہے کہ چین اور امریکا کے عوام کے درمیان دوستی، خیرسگالی اور باہمی احترام کی خواہش آج بھی پوری آب و تاب کے ساتھ زندہ ہے، اور دونوں ممالک کے نوجوان مستقبل میں ان باہمی تعلقات کو مزید مضبوط اور پائیدار بنانے میں کلیدی کردار ادا کر سکتے ہیں۔

    پنگ پونگ سے پکل بال سفارت کاری تک کا سفر واشنگٹن میں چینی سفارت خانے کے اندر منعقدہ ایک منفرد “پکل بال نائٹ” تقریب سے خصوصی خطاب کرتے ہوئے سفیر شیے فینگ نے تاریخی حوالوں کا ذکر کیا۔ انہوں نے کہا کہ ماضی میں مشہور ‘پنگ پونگ سفارت کاری’ نے چین اور امریکا کو ایک دوسرے کے قریب لانے میں تاریخی کردار ادا کیا تھا، جبکہ آج کھیل کے میدانوں کے ذریعے دونوں ممالک کی نوجوان نسل ایک بار پھر عوام کو قریب لانے کا ایک بہترین اور مؤثر ذریعہ بن رہی ہے۔

    عوامی روابط اور دوستی کی خواہش چینی سفیر نے واضح کیا کہ اگرچہ وقت گزرنے کے ساتھ ساتھ اب کھیل کے انداز اور باہمی رابطوں کے ذرائع ضرور بدل گئے ہیں، لیکن چین اور امریکا کے عام عوام کے دلوں میں دوستی، اقتصادی تعاون اور مثبت روابط قائم کرنے کی خواہش آج بھی برقرار ہے۔ انہوں نے اس بات پر گہرا زور دیا کہ عوامی سطح پر براہِ راست روابط اور دونوں ممالک کے نوجوانوں کے وفود کے تبادلے باہمی تعلقات کو کسی بھی قسم کے بحران سے بچانے اور مستحکم بنانے کے لیے نہایت اہم ہیں۔

    عالمی چیلنجز اور نوجوان نسل کی ذمہ داری سفارت خانے کی اس تقریب کے دوران شیے فینگ نے امریکی طلبہ، اساتذہ اور ان کے والدین سے تفصیلی ملاقاتیں کیں اور کھیلوں کے ذریعے پیدا ہونے والی اس نئی دوستی اور ثقافتی روابط کو دل کھول کر سراہا۔ انہوں نے کہا کہ دونوں ممالک کی نوجوان نسل کو روایتی اختلافات سے ہٹ کر اب موسمیاتی تبدیلیوں، مصنوعی ذہانت ، عوامی صحت، عالمی غذائی تحفظ اور دیگر بڑے بین الاقوامی چیلنجز پر اپنی مشترکہ توجہ مرکوز کرنی چاہیے تاکہ دنیا کو درپیش سنگین مسائل کے حل میں یہ نوجوان اپنا مؤثر ترین کردار ادا کر سکیں۔

    تعلقات کا نیا تاریخی مرحلہ اور عالمی امن چینی سفیر کا کہنا تھا کہ چین اور امریکا کے باہمی تعلقات اس وقت ایک بالکل نئے تاریخی مرحلے میں داخل ہو رہے ہیں، جس کے پیشِ نظر دونوں ممالک کی قیادت کو اپنے سیاسی اختلافات کو ہوا دینے کے بجائے باہمی تعاون، تعمیری مکالمے اور سفارتی اعتماد کو فروغ دینا چاہیے۔ انہوں نے مزید کہا کہ دنیا کی دو سب سے بڑی معیشتوں کے طور پر چین اور امریکا کی یہ اولین مشترکہ ذمہ داری بنتی ہے کہ وہ عالمی امن، بقائے باہمی، استحکام اور معاشی ترقی کے فروغ کے لیے مل کر کام کریں اور اپنے تعلقات کو مستحکم، متوازن اور پائیدار بنیادوں پر آگے بڑھائیں۔

    بین الاقوامی امور کے مبصرین کے مطابق، واشنگٹن میں چینی سفارت خانے کی جانب سے اس قسم کی تقریب کا انعقاد دونوں سپر پاورز کے درمیان عوامی سطح پر دوریاں کم کرنے اور نوجوان نسل کے ذریعے مستقبل کے تعلقات کو محفوظ بنانے کی ایک انتہائی مثبت اور خوش آئند تزویراتی کوشش ہے۔

    پاکستان اور یورپی یونین تعلقات کے نئے دور میں داخل، اسحاق ڈار اور کاجا کالس کی اہم ملاقات

    منصور احمد june 01,2026

    اسلام آباد (نیوز اینڈ نیوز) – 01 جون 2026ء

    پاکستان اور یورپی یونین کے درمیان دوطرفہ تزویراتی تعلقات کو مزید وسعت دینے اور مختلف شعبوں میں باہمی تعاون کو مضبوط بنانے کے لیے ایک بڑا سنگِ میل طے ہو گیا ہے۔ اس سلسلے میں “پاکستان۔یورپی یونین اسٹریٹجک ڈائیلاگ کا آٹھواں اہم اجلاس آج وفاقی دارالحکومت اسلام آباد میں منعقد ہو رہا ہے۔ اس اعلیٰ سطحی اجلاس کی مشترکہ صدارت پاکستان کے نائب وزیراعظم اور وزیر خارجہ سینیٹر محمد اسحاق ڈار اور یورپی یونین کی اعلیٰ نمائندہ برائے خارجہ امور و سلامتی پالیسی اور یورپی کمیشن کی نائب صدر کاجا کالس کر رہی ہیں۔

    دفتر خارجہ میں پرتپاک استقبال اور وفود کی ملاقات وزارت خارجہ کی جانب سے جاری کردہ تفصیلات کے مطابق، نائب وزیراعظم و وزیر خارجہ سینیٹر محمد اسحاق ڈار نے دفتر خارجہ پہنچنے پر یورپی یونین کی اعلیٰ نمائندہ کاجا کالس کا انتہائی پرتپاک استقبال کیا۔ اس اہم ملاقات کے موقع پر دونوں رہنماؤں نے پاکستان اور یورپی یونین کے درمیان قائم دیرینہ، پائیدار اور دوستانہ تعلقات کا تفصیلی جائزہ لیا۔ اس کے علاوہ علاقائی و عالمی صورتحال، باہمی تجارت، سرمایہ کاری کے نئے مواقع، ماحولیاتی تبدیلیوں کے خطرات سے نمٹنے، تعلیم، سلامتی اور پائیدار ترقی سمیت متعدد باہمی دلچسپی کے شعبوں میں تعاون کو مزید فروغ دینے پر گہرائی سے تبادلہ خیال کیا گیا۔

    اعلیٰ سفارتی رابطوں کا کلیدی فورم سفارتی ماہرین کے مطابق، پاکستان۔یورپی یونین اسٹریٹجک مکالمہ دونوں فریقوں کے مابین اعلیٰ سطحی سفارتی اور تزویراتی رابطوں کا سب سے اہم اور فعال ترین فورم سمجھا جاتا ہے۔ اس فورم کا بنیادی مقصد مشترکہ مفادات کے تمام شعبوں میں تعاون کو پہلے سے زیادہ مستحکم بنانا اور وقت کے ساتھ سامنے آنے والے مشترکہ عالمی چیلنجز سے مل کر نمٹنے کے لیے ایک مؤثر اور دور رس حکمت عملی وضع کرنا ہے۔

    سیاسی و اقتصادی تعلقات میں نئی پیش رفت کی امید بین الاقوامی امور کے مبصرین کا کہنا ہے کہ اسلام آباد میں ہونے والے اس تزویراتی اجلاس سے پاکستان اور یورپی یونین کے مابین سیاسی، اقتصادی اور سفارتی تعلقات کو ایک نئی اور مضبوط جہت ملنے کی قوی امید ہے۔ اس کے ساتھ ہی، آنے والے دنوں میں دونوں فریقین کے درمیان تجارتی روابط، ترقیاتی شراکت داری اور جنوبی ایشیا سمیت عالمی امن و استحکام کے حوالے سے بھی انتہائی اہم تزویراتی پیش رفت سامنے آ سکتی ہے۔

    طویل المدتی شراکت داری کا مشترکہ عزم سرکاری حکام کا اس حوالے سے کہنا ہے کہ اسٹریٹجک مکالمے کے اس آٹھویں اجلاس کا انعقاد دراصل دونوں فریقوں کے اس پختہ اور مشترکہ عزم کا واضح مظہر ہے کہ پاکستان اور یورپی یونین باہمی احترام، مشترکہ مفادات اور ایک طویل المدتی شراکت داری کی مضبوط بنیاد پر اپنے باہمی تعلقات کو آنے والے سالوں میں مزید مضبوط اور مستحکم بنائیں گے۔