مشرقِ وسطیٰ میں جنگ چھڑ گئی، امریکہ کی جنوبی ایران پر شدید فضائی بمباری، پاسدارانِ انقلاب کا بحرین، کویت اور اردن میں امریکی فوجی اڈوں پر ہولناک جوابی میزائل اور ڈرون حملہ، دنیا لرز اٹھی

Spread the love

محمود احمد june 10,2026

تہران(نیوز اینڈ نیوز) — 10 جون 2026ء

امریکہ اور ایران کے درمیان طویل عرصے سے جاری کشیدگی اب باقاعدہ ایک ہولناک عسکری تصادم اور کھلی جنگ میں تبدیل ہو چکی ہے، جہاں امریکی میڈیا کی سنسنی خیز رپورٹس کے مطابق امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے براہِ راست اور جارحانہ احکامات پر امریکی سینٹرل کمانڈ (سینٹکام) نے ایران کے متعدد اسٹریٹجک اہداف پر شدید فضائی کارروائیاں کی ہیں، جبکہ دوسری جانب ایران نے بھی انتہائی سخت ردِعمل دیتے ہوئے خطے میں موجود کئی امریکی فوجی تنصیبات پر بڑے جوابی حملوں کا دعویٰ کر دیا ہے، تہران اور واشنگٹن کے جنگی ذرائع سے حاصل ہونے والی تفصیلات کے مطابق امریکی فضائیہ نے جنوبی ایران میں قائم متعدد اہم ترین فوجی و دفاعی اہداف کو نشانہ بنایا، ایرانی حکام نے امریکی بمباری کی تصدیق کرتے ہوئے بتایا ہے کہ ان فضائی حملوں میں ایران کے انتہائی اہم ساحلی شہر بندر عباس، جسک اور دیگر جنوبی علاقوں کے قریب قائم فوجی تنصیبات شدید متاثر ہوئی ہیں، جبکہ حملوں کے نتیجے میں خطے کے بعض بنیادی انفراسٹرکچر کو بھی شدید نقصان پہنچا ہے، دوسری جانب اس امریکی حملے کے فوراً بعد ایرانی پاسدارانِ انقلاب (آئی آر جی سی) نے مشرقِ وسطیٰ میں موجود امریکی طاقت کو نشانہ بناتے ہوئے یہ بڑا اور سنسنی خیز دعویٰ کیا ہے کہ اس نے بحرین، کویت اور اردن میں قائم امریکی عسکری اڈوں کو اپنے جدید ترین بیلسٹک میزائلوں اور خودکش ڈرونز کے ذریعے کامیابی سے نشانہ بنایا ہے، ایرانی حکام کے باضابطہ بیانات کے مطابق ان کے جوابی حملوں میں بحرین میں موجود امریکی بحریہ کے سب سے بڑے مرکز ”ففتھ فلیٹ“، اردن کے اسٹریٹجک ”الازرق ایئر بیس“ اور کویت کے اندر قائم اہم ”علی السالم“ فوجی اڈے کو براہِ راست ہدف بنا کر تباہی مچائی گئی ہے، اگرچہ امریکی دفاعی حکام نے اب تک ایران کی جانب سے کیے جانے والے بعض دعوؤں اور اپنے اڈوں پر ہونے والے نقصان کی مکمل تصدیق نہیں کی ہے، تاہم امریکی سینٹرل کمانڈ (سینٹکام) نے ایک ہنگامی اعلامیہ جاری کرتے ہوئے صرف اتنا اعلان کیا ہے کہ ایران کے اندر ان کا فضائی آپریشن اب مکمل ہو چکا ہے اور فی الحال واشنگٹن کی جانب سے مزید کسی نئی کارروائی کا کوئی اعلان نہیں کیا گیا، تاہم اس کے برعکس ایرانی پاسدارانِ انقلاب کے اعلیٰ کمانڈرز نے امریکہ کو آخری وارننگ جاری کرتے ہوئے سخت خبردار کیا ہے کہ اگر مستقبل میں امریکی فوج کی جانب سے دوبارہ کسی بھی قسم کی مہم جوئی یا مزید حملے کیے گئے، تو ایران کا اگلا اور حتمی جواب پہلے سے کہیں زیادہ ہولناک، سخت اور پورے مشرقِ وسطیٰ کو اپنی لپیٹ میں لینے والا ہوگا، دفاعی ماہرین کے مطابق امریکہ اور ایران کے مابین اس براہِ راست اور خونی تصادم نے دنیا بھر کو شدید تشویش میں مبتلا کر دیا ہے، جس کے باعث عالمی منڈی میں خام تیل کی قیمتیں آسمان کو چھو سکتی ہیں۔