بین الاقوامی مالیاتی فنڈ کا خودمختار ویلتھ فنڈز کے لیے جامع قانون سازی اور احتساب پر زور

Spread the love

محمود احمد, August 02,2026

اسلام آباد (نیوز اینڈ نیوز) — 2 اگست 2026ء

بین الاقوامی مالیاتی فنڈ (آئی ایم ایف) نے دنیا بھر میں خودمختار ویلتھ فنڈز کی موثر کارکردگی اور قومی سرمایہ کاری کی حفاظت کے لیے واضح، شفاف اور جامع قانون سازی کی ضرورت پر زور دیا ہے۔

آئی ایم ایف کی جانب سے شائع کردہ ایک بلاگ کے مطابق عالمگیر سطح پر مختلف ممالک کے خودمختار ویلتھ فنڈز بین الاقوامی مالیاتی شعبے میں انتہائی کلیدی اور اہم حیثیت اختیار کر چکے ہیں۔ اعداد و شمار سے معلوم ہوتا ہے کہ سال 2008ء میں جہاں دنیا بھر کے ویلتھ فنڈز کے اثاثہ جات کی مجموعی مالیت صرف 3 ٹریلین ڈالر تھی، وہیں اب ان کا حجم غیر معمولی حد تک بڑھ کر 16 ٹریلین امریکی ڈالر تک پہنچ چکا ہے۔

آئی ایم ایف نے اپنے جریدے میں واضح کیا ہے کہ خودمختار ویلتھ فنڈز نہ صرف پبلک ہیلتھ کی بہتری، سماجی و صنعتی ترقی کے لیے بنیادی کردار ادا کر رہے ہیں بلکہ آئندہ آنے والی نسلوں کے محفوظ معاشی مستقبل کے لیے بھی ان کی اہمیت مسلسل بڑھ رہی ہے۔ فنڈز کے حجم میں مسلسل اضافے کی بدولت اب ان کا کردار صرف حکومتی بجٹس تک محدود نہیں رہا بلکہ بین الاقوامی بچتوں، انفراسٹرکچر اور قومی ترقی کی اسکیموں تک پھیل چکا ہے۔ آئی ایم ایف کے مطابق موجودہ تیزی سے بدلتی ہوئی جغرافیائی و سیاسی صورتحال کے تناظر میں ان فنڈز کو مزید لچک دار بنانے کی شدید ضرورت ہے۔

مالیاتی ادارے نے زور دیتے ہوئے کہا ہے کہ جامع اور مضبوط قانون سازی کے ذریعے کوئی بھی ملک اپنی قومی دولت کو محفوظ بنانے کے ساتھ ساتھ اقتصادی و قومی ترقی کے مقررہ اہداف کا بااسانی حصول یقینی بنا سکتا ہے۔ آئی ایم ایف کے مطابق موجودہ قوانین میں خامیاں اور سخت احتسابی نظام کی عدم موجودگی ایسے عوامل ہیں جو ان فنڈز کی حقیقی کارکردگی اور شفافیت کو شدید متاثر کرتے ہیں۔