آبنائے ہرمز میں بحری آمدورفت میں خلل سے عالمی معیشت، توانائی کی قیمتوں اور روزگار پر خطرناک اثرات مرتب ہوں گے: عالمی بینک کی اہم رپورٹ

محمود احمد, September 04,2026

اسلام آباد (نیوز اینڈ نیوز) — 4 ستمبر 2026ء

عالمی بینک نے خبردار کیا ہے کہ آبنائے ہرمز میں کسی بھی ممکنہ مسلح تنازعہ یا جغرافیائی و سیاسی کشیدگی کے باعث بحری آمدورفت میں خلل کے اثرات صرف خلیجِ فارس تک محدود نہیں رہیں گے بلکہ اس کے نتیجے میں عالمی سطح پر توانائی کی قیمتیں بڑھنے، پیداواری لاگت میں اضافے اور عالمی طلب میں شدید کمی کا خدشہ ہے۔

عالمی بینک کی جانب سے جاری کردہ ایک حالیہ جامع رپورٹ کے مطابق آبنائے ہرمز خلیجِ فارس کو بحرِ ہند سے ملانے والی دنیا کی سب سے اہم اور حکمتِ عملی کے حامل آبی گزرگاہ ہے، جہاں سے دنیا بھر کے خام تیل اور مائع قدرتی گیس کے سب سے بڑے حصے کی ترسیل ہوتی ہے۔ اس راستے میں کسی بھی قسم کی رکاوٹ عالمی سپلائی چینز، بین الاقوامی تجارت، صنعت اور عالمی ملازمتوں کے شعبے کو تباہ کن حد تک متاثر کر سکتی ہے۔

دنیا کے 80 ممالک کے اعداد و شمار پر مبنی ایک حالیہ تجزیے کے مطابق اس جغرافیائی بحران کے نتیجے میں 61 ممالک میں 90 فیصد سے زیادہ محنت کشوں اور کارکنوں کی حقیقی آمدنی میں واضح کمی واقع ہوگی۔ رپورٹ میں نشاندہی کی گئی ہے کہ کمبوڈیا، یوکرین اور ویتنام ان ممالک میں شامل ہیں جہاں کے مزدوروں اور صنعتوں کو سب سے زیادہ مالی نقصان پہنچنے کا خطرہ ہے۔

اس کے برعکس تیل برآمد کرنے والے ممالک جن میں نائجیریا، انگولا، آسٹریلیا، برونائی دارالسلام، قازقستان، ناروے اور روس شامل ہیں، اس بحران کے اثرات سے نسبتاً محفوظ رہیں گے کیونکہ ان ممالک میں 20 فیصد سے بھی کم کارکنوں کی آمدنی متاثر ہونے کا اندازہ لگایا گیا ہے۔

عالمی بینک کے تجزیے کے مطابق توانائی کی قیمتیں بڑھنے سے ٹیکسٹائل، زراعت اور پلاسٹک کے شعبے سب سے زیادہ متاثر ہوں گے، جبکہ خام تیل نکالنے کا شعبہ ان چند شعبوں میں شامل ہے جو بلند عالمی قیمتوں سے مستفید ہو سکتا ہے۔ چین کی الیکٹرانکس انڈسٹری اور زراعت کا شعبہ بھی شدید دباؤ کا شکار ہو سکتا ہے کیونکہ کیمیائی کھادوں، زرعی ادویات، ایندھن اور نقل و حمل کی لاگت میں براہِ راست اضافہ ہو جائے گا۔

عالمی بینک نے دنیا بھر کی حکومتوں کو تجویز دی ہے کہ وہ مزدوروں کے روزگار کو بچانے کے لیے فنی تربیت اور دوبارہ مہارت حاصل کرنے کے پروگرامز شروع کریں، جبکہ خوراک درآمد کرنے والے کم آمدنی والے ممالک کو توانائی کی قیمتوں میں اچانک اضافے کی صورت میں فوری طور پر سبسڈی، نقد امداد اور سماجی تحفظ کے پروگرامز فعال کرنے کی تیاری رکھنی چاہیے۔

وینزویلا اور امریکہ کے مابین تاریخی تیل معاہدہ: عبوری صدر ڈیلسی رودریگیز کی توثیق، 100 ارب ڈالر سے زائد کی غیر ملکی سرمایہ کاری اور 209 ارب ڈالر ٹیکس آمدن کی پیش گوئی

کاشف عباسی , August 29,2026

کاراکاس/واشنگٹن (نیوز اینڈ نیوز) — 29 اگست 2026ء

وینزویلا کی عبوری صدر ڈیلسی رودریگیز نے ریاستہائے متحدہ امریکہ کے ساتھ طے پانے والے انتہائی اہم اور کثیر ارب ڈالر کے تیل کے معاہدے کی باضابطہ توثیق کرتے ہوئے اسے اپنے ملک کے لیے ایک ’تاریخی معاہدہ‘ قرار دیا ہے۔ وینزویلا کے دارالحکومت کاراکاس میں میڈیا اور حکام سے گفتگو کرتے ہوئے ڈیلسی رودریگیز نے کہا کہ امریکہ کے ساتھ اس پیش رفت سے طویل عرصے سے معاشی زوال، اقتصادی پابندیوں اور مشکلات کا شکار وینزویلا کی قومی معیشت کی فوری بحالی میں بے مثال اور تاریخی پیش رفت متوقع ہے۔ ان کے فراہم کردہ محتاط اعداد و شمار کے مطابق، اس بین الاقوامی منصوبے کے ذریعے وینزویلا کے توانائی کے شعبے میں 100 ارب ڈالر سے زائد کی براہِ راست غیر ملکی نجی سرمایہ کاری آئے گی، جبکہ ملکی خزانے کو آئندہ سالوں میں 209 ارب ڈالر سے زیادہ کی ٹیکس آمدن حاصل ہونے کا قوی امکان ہے۔

عالمی توانائی بحران، ایندھن کی بلند قیمتیں اور امریکی سیاسی منظرنامہ

یہ غیر معمولی اور اہم معاہدہ ایسے نازک وقت میں سامنے آیا ہے جب ایک طرف ایران اور امریکہ کے درمیان جاری سنگین ملٹری کشیدگی اور جنگ کے باعث عالمی منڈیوں میں خام تیل کی رسد شدید دباؤ کا شکار ہو چکی ہے، جس سے دنیا بھر میں پیٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں تاریخی اضافہ ہوا ہے۔ دوسری طرف، امریکہ میں نومبر کے وسط مدتی \ انتخابات قریب آ رہے ہیں اور پیٹرول کی بلند ہوتی ہوئی قیمتیں امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے لیے ایک بڑا سیاسی و معاشی چیلنج بنی ہوئی ہیں۔ اس تناظر میں وینزویلا جیسے وسیع ذخائر رکھنے والے ملک کا امریکی منڈیوں اور کمپنیوں کے لیے کھلنا عالمی اور امریکی دونوں سطحوں پر ایندھن کے بحران کو قابو کرنے کی کوشش قرار دیا جا رہا ہے۔

صدر ٹرمپ اور مارکو روبیو کا مؤقف: تاریخ کا سب سے بڑا تیل کا معاہدہ

امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ اس سے قبل اس منصوبے کے خد و خال پر بات کرتے ہوئے کھلے عام یہ دعویٰ کر چکے ہیں کہ یہ باہمی سمجھوتہ واشنگٹن اور امریکی کمپنیوں کو وینزویلا کے 65 ارب بیرل کے ثابت شدہ تیل ذخائر تک نمایاں اور مستقیم رسائی فراہم کرے گا۔ صدر ٹرمپ نے اس پیش رفت کو ’دنیا کی پوری تاریخ کا سب سے بڑا تیل کا معاہدہ‘ بھی قرار دیا تھا۔ اسی حوالے سے امریکی وزیر خارجہ مارکو روبیو نے بھی اپنے ایک بیان میں تصدیق کی ہے کہ اس معاہدے کے حتمی نفاذ کے نتیجے میں وینزویلا کی ایندھن انڈسٹری میں تقریباً 100 ارب ڈالر کی نجی سرمایہ کاری متوقع ہے، جو طویل عرصے سے زوال پذیر معیشت کی دوبارہ تعمیرِ نو اور وینزویلا کی توانائی کی صنعت کو جدید بنانے میں کلیدی کردار ادا کرے گی۔

آئل فیلڈز کی ملکیت، قانونی سوالات اور نجی کمپنیوں کا کردار

اگرچہ دونوں ممالک کی اعلیٰ قیادت نے اس معاہدے کی افادیت کو اجاگر کیا ہے، تاہم وینزویلا کے تیل کے ذخائر پر کنٹرول، انتظامی اختیارات اور ملکیت کی حتمی منتقلی سے متعلق تفصیلات تاحال مکمل طور پر واضح نہیں کی گئی ہیں۔ یونیورسٹی آف ٹیکساس انرجی انسٹی ٹیوٹ کے سینیئر ریسرچ فیلو جارج پنیون کا اس حوالے سے کہنا ہے کہ معاہدے پر تکنیکی نقطہ نظر سے کئی اہم اور قانونی سوالات ابھی جواب طلب ہیں، جن میں بنیادی سوال یہ ہے کہ وینزویلا کے قومی ذخائر کی ملکیت کس قانونی طریقہ کار، شرائط اور کس ٹائم فریم کے تحت امریکی یا نجی کمپنیوں کو منتقل کی جائے گی۔

امریکی نیوز ویب سائٹ ‘ایگزیوس’ کی ایک خصوصی رپورٹ کے مطابق، امریکہ اور وینزویلا کی ٹیمیں اس وقت وینزویلا کے 12 مختلف اور اہم آئل فیلڈز سے متعلق حتمی مذاکرات کر رہی ہیں، جن میں مجموعی طور پر تقریباً 90 ارب بیرل ثابت شدہ خام تیل کے ذخائر موجود ہیں۔ رپورٹ میں انکشاف کیا گیا ہے کہ متعدد عالمی اور امریکی نجی کمپنیاں ان وسائل سے فائدہ اٹھانے، نئے کنویں کھودنے اور پیداوار کو چند ماہ میں گنا بڑھانے کے لیے وینزویلا میں فوری طور پر اپنا انفراسٹرکچر قائم کرنے کے لیے مکمل طور پر تیار ہیں۔

ٹرمپ انتظامیہ کی جانب سے تجارتی پابندیوں کے بعد کینیڈا کا امریکی اشیاء پر 20 ارب ڈالر کے جوابی محصولات (ٹیرف) عائد کرنے کا اعلان

محمود احمد, August 25,2026

اوٹاوا/واشنگٹن (نیوز اینڈ نیوز) — 25 اگست 2026ء

کینیڈا کی حکومت نے امریکہ کی جانب سے عائد کردہ یکطرفہ تجارتی پابندیوں اور اضافی ٹیرف کے جواب میں اعلان کیا ہے کہ وہ امریکی محصولات کا ‘ڈالر کے بدلے ڈالر’ کی بنیاد پر بھرپور، مؤثر اور مساوی جواب دے گا، جس کے تحت امریکی سٹیل، ڈیری مصنوعات، گھریلو استعمال کے الیکٹرانک آلات، اور دیگر کئی اہم اشیاء پر بھاری جوابی محصولات عائد کیے جائیں گے۔ کینیڈین حکام کا کہنا ہے کہ یہ سخت اقدام ٹرمپ انتظامیہ کی جانب سے جمعہ کے روز کینیڈین درآمدات کے ایک مخصوص حصے پر پچاس فیصد کے اضافی اور سنگین محصولات عائد کرنے کے ردِعمل میں اٹھایا گیا ہے، جو دونوں ممالک کے درمیان طویل تجارتی مذاکرات کی ناکامی کے بعد سامنے آیا تھا۔ یہ نیا امریکی اقدام کینیڈین سٹیل، ایلومینیم، گاڑیوں، اور لکڑی کی برآمدات پر پہلے سے نافذ العمل امریکی محصولات کے علاوہ تھا جس نے دونوں پڑوسی ممالک کے تجارتی تعلقات میں شدید تناؤ پیدا کر دیا ہے۔

تفصیلات کے مطابق، کینیڈین انتظامیہ کی جانب سے جاری کردہ فیصلے کے تحت کینیڈا تقریباً 28 ارب کینیڈین ڈالر (جو کہ تقریباً 20 ارب امریکی ڈالر بنتے ہیں) کی مجموعی مالیت کی امریکی درآمدی مصنوعات اور تجارتی مال پر پندرہ فیصد سے لے کر پچاس فیصد تک کے بھاری جوابی محصولات نافذ کرے گا۔ کینیڈین وزارتِ تجارت کے مطابق ان نئے جوابی محصولات کا باقاعدہ اطلاق رواں سال آٹھ ستمبر کی نصف شب سے کینیڈا بھر میں نافذ العمل ہو جائے گا، جس سے امریکہ کے زراعت، ٹیکنالوجی، اور انڈسٹریل سیکٹر پر براہِ راست معاشی اثرات مرتب ہوں گے۔ معاشی ماہرین کا کہنا ہے کہ دونوں ملکوں کے درمیان اس تجارتی کشیدگی اور ٹیرف وار سے شمالی امریکہ کی سب سے بڑی سپلائی چین متاثر ہونے کا خدشہ ہے جس کا اثر عالمی منڈیوں پر بھی پڑ سکتا ہے۔ کینیڈا کے وزیرِ تجارت نے واضح کیا کہ کینیڈا اپنے قومی اور معاشی مفادات کا تحفظ کرنا اچھی طرح جانتا ہے اور امریکہ کے بلاجواز اقدامات کے سامنے خاموش نہیں رہے گا۔

سینیگال کے لیے نیا قرض پروگرام: آئی ایم ایف کی ٹیم تکنیکی مذاکرات کے لیے 19 اگست کو ڈکار پہنچے گی

محمود احمد, August 18,2026

واشنگٹن (نیوز اینڈ نیوز) — 18 اگست 2026ء

بین الاقوامی مالیاتی فنڈ (آئی ایم ایف) نے اعلان کیا ہے کہ فنڈ کا وفد 19 اگست سے یکم ستمبر تک مغربی افریقی ملک سینیگال کا اہم دورہ کرے گا۔ اس دو ہفتہ وار دورے کے دوران آئی ایم ایف کی ٹیم سینیگال کے لیے ایک نئی مالیاتی قرض سہولت کے تحت مجوزہ پالیسیوں، معاشی اصلاحات اور تکنیکی امور پر سینیگالی حکام کے ساتھ تفصیلی بات چیت کرے گی۔

بین الاقوامی خبر رساں ادارے رائٹرز کی رپورٹ کے مطابق، آئی ایم ایف کی مکمل ٹیم کا یہ دورہ سینیگال کے ساتھ نئے معاشی پروگرام کی بحالی کی جانب اہم پیش رفت کو ظاہر کرتا ہے۔ اس سے قبل 3 اگست کو آئی ایم ایف کے ترجمان نے واضح کیا تھا کہ فنڈ کا عملہ سینیگال کے ساتھ مذاکرات کے اگلے مرحلے کے لیے مکمل طور پر تیار ہے اور یہ دورہ ملکی حکام کی آمادگی کے بعد ممکن ہوا ہے۔

یہ مذاکرات سال 2024ء میں سینیگال کے سابقہ حکومت کی جانب سے قومی قرضوں سے متعلق کی جانے والی غلط رپورٹنگ اور غلط اعداد و شمار کے معاملے کو حل کرنے کی کوششوں کا تسلسل ہیں۔ اس مالیاتی بے ضابطگی کے باعث آئی ایم ایف نے سینیگال کا سابقہ مالیاتی پروگرام معطل کر دیا تھا۔ اب نئے جائزے اور اصلاحاتی فریم ورک کے بعد سینیگال کے لیے نئے قرض پروگرام کی راہ ہموار ہونے کا امکان ہے۔

عالمی سطح پر اہم معدنیات کا بڑھتا ہوا انحصار اور جیو پولیٹیکل تبدیلیاں: آئی ایم ایف کا جائزہ

کاشف عباسی , August 17,2026

اسلام آباد (نیوز اینڈ نیوز) — 17 اگست 2026ء

بین الاقوامی مالیاتی فنڈ (آئی ایم ایف) نے اپنے حالیہ بلاگ میں اہم انکشاف کرتے ہوئے کہا ہے کہ دنیا بھر میں ماحول دوست و شفاف توانائی کی طرف منتقلی، ڈیجیٹل انفراسٹرکچر کی وسعت اور دفاعی صلاحیتوں کی ازسرِ نو ترتیب کے باعث عالمی سطح پر معدنیات کی اسٹریٹجک اہمیت میں ایک بار پھر بے پناہ اضافہ ہو رہا ہے۔ آئی ایم ایف کے مطابق اہم اور نایاب معدنیات پر دنیا کے بڑھتے ہوئے انحصار نے عالمی سیاسی اور معاشی تناظر میں نئی جیو پولیٹیکل فالٹ لائنز کو جنم دیا ہے۔

بلاگ کے متن کے مطابق لیتھیم، کوبالٹ اور دیگر نایاب زمینوں سے حاصل ہونے والی معدنیات آج عالمی معیشت میں بالکل وہی کلیدی اور اسٹریٹجک مقام حاصل کر چکی ہیں جو ماضی میں خام تیل، کوئلہ اور سٹیل وغیرہ کو حاصل تھا۔ آئی ایم ایف نے مزید نشاندہی کی کہ بین الاقوامی سطح پر برآمدات پر پابندیاں، تجارتی کنٹرول اور دیگر جیو پولیٹیکل رکاوٹیں اس شعبے کو شدید متأثر کر رہی ہیں۔ مالیاتی ادارے کے مطابق یہی اہم معدنیات مستقبل میں دنیا کی اقتصادی، صنعتی، ٹیکنالوجیکل اور عسکری طاقت کے نئے معیار طے کریں گی۔

چینی مصنوعات کی چالیس ممالک کے ذریعے امریکہ ترسیل کا الزام، صدر ٹرمپ کا رپورٹ جاری کرنے کا دعویٰ

محمود احمد, August 16,2026

واشنگٹن (نیوز اینڈ نیوز) — 16 اگست 2026ء

امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے چین پر سنگین تجارتی دھوکہ دہی کا الزام عائد کرتے ہوئے دعویٰ کیا ہے کہ امریکی ٹیرف اور ٹیکسوں سے بچنے کے لیے چینی مصنوعات کو بھارت، اسرائیل، کینیڈا، میکسیکو، اور یورپی یونین سمیت چالیس سے زائد مختلف ممالک کے ذریعے امریکہ منتقل کیا جا رہا ہے۔ صدر ٹرمپ نے اپنے سوشل میڈیا پلیٹ فارم ‘ٹروتھ سوشل’ پر اپنے ایک معاون کی تیار کردہ خصوصی رپورٹ شیئر کی ہے جس میں الزام لگایا گیا ہے کہ اس مبینہ غیر قانونی ترسیل اور ری برانڈنگ کے ذریعے سالانہ چالیس ارب سے لے کر تین سو تین ارب ڈالر تک کی ٹیکس چوری کی جا رہی ہے۔ رپورٹ کے مطابق یہ سلسلہ سال دو ہزار اٹھارہ میں چین پر اضافی ٹیرف عائد کیے جانے کے بعد سے تیزی سے بڑھا ہے، جس کے تحت چینی سامان پر دوبارہ لیبل لگائے جاتے ہیں، ان کی نئی پیکنگ اور تھوڑی بہت پروسیسنگ کی جاتی ہے، اور رسیدوں میں تبدیلی کر کے سامان کا اصل ماخذ چین کے بجائے کسی اور ملک کو ظاہر کر دیا جاتا ہے۔

امریکی انتظامیہ کی اس رپورٹ میں دعویٰ کیا گیا ہے کہ اس غیر قانونی اور مبینہ تجارتی ہیر پھیر کی وجہ سے امریکہ میں اب تک تقریباً ساڑھے چار لاکھ روزگار کے مواقع اور ملازمتیں ختم ہو چکی ہیں، جبکہ وفاقی ٹیکس اور سالانہ قومی مجموعی ملکی پیداوار کی مد میں امریکی معیشت کو اربوں ڈالر کا شدید نقصان برداشت کرنا پڑا ہے۔ رپورٹ کے مطابق چین جن دیگر ملکوں کی سرحدوں اور تجارتی راستوں کو استعمال کر رہا ہے ان میں جاپان، جنوبی کوریا، برازیل، انڈونیشیا، ملائیشیا، تھائی لینڈ، ترکیہ، کمبوڈیا، لاؤس اور میانمار جیسے ممالک شامل ہیں۔ امریکی ذرائع ابلاغ کے مطابق ٹرمپ انتظامیہ نے اب مختلف ممالک پر براہِ راست ٹیرف لگانے کے ساتھ ساتھ ان تمام قانونی اور انتظامی خامیوں کو بند کرنے پر اپنی توجہ مرکوز کر دی ہے جن کا فائدہ اٹھا کر غیر ملکی درآمد کنندگان امریکی ملازمین، مقامی صنعت کاروں اور ٹیکس دہندگان کو نقصان پہنچا کر اپنا سامان مارکیٹ میں کھپا رہے ہیں۔

دوسری جانب امریکی صدر کے اس بیان اور جاری کردہ رپورٹ پر شدید تنقید بھی سامنے آ رہی ہے۔ ناقدین اور معاشی ماہرین کا کہنا ہے کہ صدر ٹرمپ اپنی خارجہ پالیسی اور ایران سے متعلق کشیدگی کی ناکامیوں اور معاشی دباؤ سے عوام کی توجہ ہٹانے کے لیے ٹیرف جنگ کا پرانا موقف دوبارہ استعمال کر رہے ہیں۔ عالمی امور اور معاشی مسائل کے نامور امریکی ماہر پروفیسر جیفری سیکس نے صدر ٹرمپ کی پالیسیوں کو شدید تنقید کا نشانہ بناتے ہوئے کہا ہے کہ موجودہ امریکی انتظامیہ معاشی بوکھلاہٹ کا شکار ہو چکی ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ چین کی مصنوعات اور ان کی عالمی سپلائی چین کے بغیر موجودہ دور میں دنیا کا نظام چلانا ممکن نہیں رہا، اور اگر امریکی یا بین الاقوامی تاجر سستی مصنوعات کے لیے کسی تیسرے ملک میں پروسیسنگ کرتے ہیں تو اس کا تمام تر ملبہ بیجنگ پر ڈالنا نامناسب ہے۔

معاشی ماہرین نے مزید کہا کہ غلط معاشی پالیسیوں اور تجارتی جنگوں کی وجہ سے آج عام امریکی شہری کے لیے خوراک، بنیادی ضروریات، رہائش اور نقل و حرکت کی قیمتیں پہنچ سے باہر ہو چکی ہیں۔ ناقدین کا الزام ہے کہ حکومت کا تمام تر فوکس معاشی اصلاحات کے بجائے سیاسی مقاصد اور ٹیرف پالیسیوں کے ذریعے نجی فوائد حاصل کرنے پر مرثوز ہے، جس کی قیمت امریکی عوام کو مہنگائی اور بیروزگاری کی صورت میں چکانی پڑ رہی ہے۔ تاھم چین اور دیگر نامزد کردہ چالیس سے زائد ممالک کی حکومتوں کی جانب سے فی الحال اس امریکی رپورٹ اور صدر ٹرمپ کے ٹوئٹ پر کوئی باقاعدہ یا حتمی ردِعمل سامنے نہیں آیا ہے۔

بین الاقوامی مالیاتی فنڈ کا خودمختار ویلتھ فنڈز کے لیے جامع قانون سازی اور احتساب پر زور

محمود احمد, August 02,2026

اسلام آباد (نیوز اینڈ نیوز) — 2 اگست 2026ء

بین الاقوامی مالیاتی فنڈ (آئی ایم ایف) نے دنیا بھر میں خودمختار ویلتھ فنڈز کی موثر کارکردگی اور قومی سرمایہ کاری کی حفاظت کے لیے واضح، شفاف اور جامع قانون سازی کی ضرورت پر زور دیا ہے۔

آئی ایم ایف کی جانب سے شائع کردہ ایک بلاگ کے مطابق عالمگیر سطح پر مختلف ممالک کے خودمختار ویلتھ فنڈز بین الاقوامی مالیاتی شعبے میں انتہائی کلیدی اور اہم حیثیت اختیار کر چکے ہیں۔ اعداد و شمار سے معلوم ہوتا ہے کہ سال 2008ء میں جہاں دنیا بھر کے ویلتھ فنڈز کے اثاثہ جات کی مجموعی مالیت صرف 3 ٹریلین ڈالر تھی، وہیں اب ان کا حجم غیر معمولی حد تک بڑھ کر 16 ٹریلین امریکی ڈالر تک پہنچ چکا ہے۔

آئی ایم ایف نے اپنے جریدے میں واضح کیا ہے کہ خودمختار ویلتھ فنڈز نہ صرف پبلک ہیلتھ کی بہتری، سماجی و صنعتی ترقی کے لیے بنیادی کردار ادا کر رہے ہیں بلکہ آئندہ آنے والی نسلوں کے محفوظ معاشی مستقبل کے لیے بھی ان کی اہمیت مسلسل بڑھ رہی ہے۔ فنڈز کے حجم میں مسلسل اضافے کی بدولت اب ان کا کردار صرف حکومتی بجٹس تک محدود نہیں رہا بلکہ بین الاقوامی بچتوں، انفراسٹرکچر اور قومی ترقی کی اسکیموں تک پھیل چکا ہے۔ آئی ایم ایف کے مطابق موجودہ تیزی سے بدلتی ہوئی جغرافیائی و سیاسی صورتحال کے تناظر میں ان فنڈز کو مزید لچک دار بنانے کی شدید ضرورت ہے۔

مالیاتی ادارے نے زور دیتے ہوئے کہا ہے کہ جامع اور مضبوط قانون سازی کے ذریعے کوئی بھی ملک اپنی قومی دولت کو محفوظ بنانے کے ساتھ ساتھ اقتصادی و قومی ترقی کے مقررہ اہداف کا بااسانی حصول یقینی بنا سکتا ہے۔ آئی ایم ایف کے مطابق موجودہ قوانین میں خامیاں اور سخت احتسابی نظام کی عدم موجودگی ایسے عوامل ہیں جو ان فنڈز کی حقیقی کارکردگی اور شفافیت کو شدید متاثر کرتے ہیں۔