

کاشف عباسی , August 04,2026
اسلام آباد (نیوز اینڈ نیوز) — 4 اگست 2026ء
سپریم کورٹ آف پاکستان نے سابق اہلیہ کی نجی اور غیر اخلاقی تصاویر سوشل میڈیا پر اپ لوڈ کرنے کے سنگین الزام میں گرفتار ملزم صفدر عرفان کی درخواستِ ضمانت پر سماعت کرتے ہوئے قرار دیا ہے کہ ایسے انتہائی غیر اخلاقی اور قبیح فعل میں ملوث ملزم کو کسی صورت ضمانت نہیں دی جا سکتی، جس کے بعد عدالت کے سخت رویے کو دیکھتے ہوئے ملزم کے وکیل نے درخواستِ ضمانت باضابطہ طور پر واپس لے لی۔
سپریم کورٹ کے فاضل جج جسٹس ہاشم کاکڑ کی سربراہی میں قائم تین رکنی بینچ نے منگل کے روز اس درخواست کی سماعت کی۔ دورانِ سماعت مقدمے کی تفصیلات کا جائزہ لیتے ہوئے جسٹس ہاشم کاکڑ نے انتہائی برہمی کا اظہار کرتے ہوئے ریمارکس دیے کہ “کیا اس ایف آئی آر کے مندرجات کو عام لوگوں میں پڑھنے کی بھی ہمت ہے؟” انہوں نے شدید الفاظ میں کہا کہ ملزم نے اس مذموم حرکت سے متاثرہ خاتون کو ملک میں سر اٹھا کر رہنے کے قابل نہیں چھوڑا، جبکہ ایک خاتون کی شائستگی، حیا اور عزت ہی اس کا اصل پردہ ہوتی ہے۔ فاضل جج نے مزید کہا کہ ملزم نے شادی کے ایک مقدس اور پاکیزہ رشتے کو برے طریقے سے پامال کیا ہے۔
سماعت کے دوران بينچ کے رکن جسٹس اشتیاق ابراہیم نے ریمارکس دیے کہ ملزم نے کسی اور کی نہیں بلکہ اپنی ہی سابقہ اہلیہ کی تصاویر کو سوشل میڈیا پر اپ لوڈ کیا۔ بینچ کے تیسرے فاضل جج جسٹس شکیل احمد نے کہا کہ ملزم نے انتہائی غیر اخلاقی کارروائی کی ہے اور طلاق کا بدلہ لینے کی خاطر اپنی سابقہ بیوی کے خلاف یہ تمام مکروہ اقدام کیا۔
دورانِ کارروائی ملزم کے وکیل نے صفائی میں مؤقف اختیار کیا کہ متاثرہ خاتون اس وقت دبئی میں مقیم ہیں جبکہ ان کا موکل (ملزم صفدر عرفان) گزشتہ چھ ماہ سے جیل میں قید ہے۔ اس پر جسٹس ہاشم کاکڑ نے سخت ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ ملزم کو تو اس کے کرتوتوں کی بنیاد پر ساری زندگی جیل کے اندر ہی رہنا چاہیے، اس نے آخر کون سا اچھا یا قابلِ رحم کام کیا ہے؟
عدالتِ عظمیٰ نے واضح قرار دیا کہ ملزم کے قبضے سے وہ موبائل فون بھی برآمد ہو چکا ہے جس کے ذریعے یہ غیر اخلاقی مواد شیئر کیا گیا، لہٰذا اس نوعیت کے ملزم کو کسی بھی طور پر ضمانت پر رہا نہیں کیا جا سکتا۔ سپریم کورٹ کے بینچ کی جانب سے درخواستِ ضمانت قطعی طور پر مسترد کیے جانے کے واضح اور حتمی عندیے پر ملزم کے وکیل نے فوراً درخواست واپس لینے کی استدعا کی، جس پر عدالت نے کارروائی کو باضابطہ طور پر نمٹا دیا۔