صومالیہ میں 10 پاکستانیوں کو یرغمال بنانے کا معاملہ: قومی اسمبلی میں طارق فضل چوہدری اور پیپلز پارٹی کے درمیان نوک جھونک، وفاقی وزیر کا چیلنج

Spread the love

کاشف عباسی , August 19,2026

اسلام آباد (نیوز اینڈ نیوز) — 19 اگست 2026ء

وفاقی وزیر برائے پارلیمانی امور طارق فضل چوہدری نے قومی اسمبلی کے اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے صومالیہ کے بحری قزاقوں کی جانب سے 10 پاکستانیوں کو یرغمال بنائے جانے کے معاملے پر حزبِ اختلاف اور بالخصوص پاکستان پیپلز پارٹی کے اراکین کو سخت ردِعمل دیتے ہوئے چیلنج کیا ہے کہ اگر وہ اپنے موقف میں غلط ثابت ہوں تو عہدے سے استعفیٰ دے دیں گے، ورنہ الزام تراشی کرنے والے اراکین استعفیٰ دیں۔

قومی اسمبلی کے اجلاس کے دوران اظہارِ خیال کرتے ہوئے طارق فضل چوہدری نے کہا کہ صومالیہ میں 10 پاکستانی شہریوں کی قزاقوں کے قبضے میں موجودگی کا معاملہ ایوان میں بحث کے زیرِ غور آیا تھا۔ انہوں نے پیپلز پارٹی کے اراکین کو مخاطب کرتے ہوئے کہا کہ الزام لگانے سے قبل ایوان کی رسمی کارروائی کا ریکارڈ چیک کر لیا جائے۔ ان کا کہنا تھا کہ صومالیہ کے ساتھ پاکستان کے براہِ راست سفارتی تعلقات موجود نہیں ہیں، تاہم حکومتِ پاکستان اس سنگین مسئلے کو حل کرنے کے لیے جبوتی اور لندن میں واقع پاکستانی سفارت خانوں کے ذریعے مسلسل متحرک اور کوشاں ہے۔

وفاقی وزیرِ پارلیمانی امور نے ایوان کو آگاہ کیا کہ دفترِ خارجہ کے ذریعے تمام ممکنہ اقدامات کیے جا رہے ہیں۔ انہوں نے تفصیلا ًبتایا کہ جس بحری جہاز کو اغوا کیا گیا ہے وہ اس وقت ایک ایسے سمندری علاقے میں موجود ہے جہاں صومالیہ حکومت کی عمل داری بالکل ختم ہے، جبکہ پلاؤ نامی ملک بھی اس جہاز کی مالکیت تسلیم (اون) نہیں کر رہا۔ طارق فضل چوہدری نے انکشاف کیا کہ صومالی قزاقوں کی جانب سے یرغمالیوں کی رہائی کے عوض 3 ملین ڈالر (30 لاکھ ڈالر) تاوان مانگا گیا ہے، تاہم تاوان کی ادائیگی سے اس نوعیت کے مجرمانہ واقعات میں مزید اضافے کا خطرہ ہے کیونکہ اس جہاز کے بعد 4 مزید بحری جہازوں کو بھی قزاقوں کی جانب سے اغوا کیا جا چکا ہے۔ انہوں نے یقین دہانی کرائی کہ حکومت ہوا میں باتیں کرنے کے بجائے شہریوں کی محفوظ اور جلد رہائی کے لیے ہر ممکن سفارتی اور عملی ذریعہ استعمال کر رہی ہے۔