نیپال میں تباہ کن سیلاب اور لینڈ سلائیڈنگ: وزیراعظم شہباز شریف کی ہدایت پر پاکستان کی جانب سے 100 ٹن انسانی امداد کی ایمرجنسی کھیپ روانہ

کاشف عباسی , September 06,2026

اسلام آباد (نیوز اینڈ نیوز) — 6 ستمبر 2026ء

وزیراعظم اسلامی جمہوریہ پاکستان محمد شہباز شریف کی خصوصی ہدایت پر حکومتِ پاکستان نے حالیہ موصلادھار بارشوں، شدید سیلاب اور تباہ کن لینڈ سلائیڈنگ سے متاثرہ دوست ملک نیپال کی امدادی و بحالی کی سرگرمیوں میں فوری معاونت کے لیے 100 ٹن سے زائد وزنی انسانی امدادی سامان کی بڑی کھیپ کھٹمنڈو روانہ کر دی ہے۔

سرکاری خبر رساں ادارے ’اے پی پی‘ اور وزارتِ خارجہ کی جانب سے اتوار کے روز جاری کردہ باضابطہ ہنگامی بیان کے مطابق، قدرتی آفات سے نمٹنے کے قومی ادارے کے اعلیٰ زیرِ اہتمام تیار کی گئی اس امدادی کھیپ کو خصوصی چارٹرڈ طیارے کے ذریعے اسلام آباد کے بین الاقوامی ہوائی اڈے سے نیپال کے دارالحکومت کھٹمنڈو منتقل کیا گیا۔

دفترِ خارجہ کے ترجمان نے امدادی سامان کی تفصیلات بتاتے ہوئے انکشاف کیا ہے کہ اس ایمرجنسی ریلیف پیکج میں نیپال کے شدید متاثرہ علاقوں اور بے گھر ہونے والے لینڈ سلائیڈنگ و سیلاب متاثرین کے لیے واٹر پروف خیمے، گرم کمبل، فلور چٹائیاں، حفظانِ صحت کی ضروری کٹس، ایمرجنسی ادویات اور فرسٹ ایڈ کا ضروری سامان شامل کیا گیا ہے تاکہ متاثرین کی بنیادی ضروریات کو فوری طور پر پورا کیا جا سکے۔

اسلام آباد انٹرنیشنل ایئرپورٹ پر امدادی سامان کی روانگی اور خصوصی چارٹرڈ فلائٹ کی منتقلی کے حوالے سے ایک وقار تقریب کا بھی انعقاد کیا گیا، جس میں وفاقی وزیر برائے پارلیمانی امور ڈاکٹر طارق فضل چوہدری نے حکومتِ پاکستان کی نمائندگی کرتے ہوئے بطور مہمانِ خصوصی شرکت کی۔ اس موقع پر پاکستان میں تعیّنات نیپال کے سفیر، وزارتِ خارجہ، این ڈی ایم اے اور سول ایوی ایشن کے اعلیٰ ترین عسکری و سول حکام بھی موجود تھے۔

تقریب سے خطاب کرتے ہوئے وفاقی وزیر طارق فضل چوہدری اور حکام نے کہا کہ پاکستان اور نیپال کے درمیان گہرے دوستانہ اور تاریخی تعلقات قائم ہیں۔ مشکل اور آزمائش کی اس گھڑی میں 100 ٹن امدادی سامان کی فراہمی حکومت اور عوامِ پاکستان کی جانب سے نیپال کی حکومت اور اس کے مصیبت زدہ عوام کے ساتھ مکمل یکجہتی، خیر سگالی اور انسانی ہمدردی کے غیر متزلزل عزم کا واضح ثبوت ہے۔

سندھ طاس معاہدے پر عالمی ثالثی عدالت کا متفقہ فیصلہ پاکستان کے اصولی و قانونی مؤقف کی تاریخی فتح ہے: ڈاکٹر طارق فضل چوہدری

منصور احمد, August 31,2026

اسلام آباد (نیوز اینڈ نیوز) — 31 اگست 2026ء

وفاقی وزیر برائے پارلیمانی امور ڈاکٹر طارق فضل چوہدری نے کہا ہے کہ عالمی ثالثی عدالت کا متفقہ فیصلہ پاکستان کے اصولی، قانونی اور سفارتی مؤقف کی ایک بہت بڑی تاریخی کامیابی ہے، جس سے بھارت کی جانب سے سندھ طاس معاہدے کو یکطرفہ طور پر معطل، ختم یا غیر مؤثر کرنے کی تمام تر کوششوں کو عالمی سطح پر واضح اور حتمی قانونی شکست ہوئی ہے۔

پیر کے روز سماجی رابطے کی ویب سائٹ ایکس (سابقہ ٹوئٹر) پر اپنے ایک اہم باضابطہ بیان میں وفاقی وزیر نے کہا کہ عالمی ثالثی عدالت نے اپنے فیصلے میں بالکل واضح کر دیا ہے کہ بھارت یکطرفہ طور پر سندھ طاس معاہدے کو معطل، منسوخ یا غیر مؤثر نہیں بنا سکتا۔ انہوں نے اجاگر کیا کہ سندھ طاس معاہدہ بدستور مکمل طور پر فعال و مؤثر ہے اور اس کی پاسداری پاکستان اور بھارت دونوں ممالک پر یکساں طور پر قانونی و بین الاقوامی لازمی ذمہ داری ہے۔

وفاقی وزیر ڈاکٹر طارق فضل چوہدری نے بتایا کہ بھارت کی جانب سے خودمختاری، مبینہ معاہداتی خلاف ورزی، دہشت گردی اور دیگر من گھڑت بنیادوں پر پیش کیے جانے والے تمام دلائل عالمی ثالثی عدالت کے سامنے مکمل طور پر ناکام ثابت ہوئے۔ عدالت کے اس تاریخی فیصلے نے دنیا بھر پر ثابت کر دیا ہے کہ کوئی بھی ملک یکطرفہ طور پر اپنے طور پر طے شدہ بین الاقوامی معاہدوں سے پیچھے نہیں ہٹ سکتا۔

انہوں نے مزید کہا کہ رتلے پن بجلی منصوبے سے متعلق عالمی ثالثی عدالت کے عبوری اقدامات پاکستان کے موقف کی ایک اور اہم ترین تائید ہیں۔ عدالت نے رتلے پن بجلی منصوبے کی مخصوص متنازع تعمیراتی سرگرمیوں پر باقاعدہ پابندیاں عائد کی ہیں، جس سے یہ ثابت ہوتا ہے کہ پاکستان اپنے قانونی و آبی حقوق پر بلا کم و کاست ثابت قدم رہا اور عالمی عدالت نے ہمارے موقف کی مکمل توثیق کر دی ہے۔

ڈاکٹر طارق فضل چوہدری نے اپنے بیان کے اختتام پر زور دیا کہ یہ فیصلہ صرف پاکستان کی ہی نہیں بلکہ بین الاقوامی قانون اور عالمی معاہدوں کی پاسداری کی فتح ہے۔ سندھ طاس معاہدے کو کمزور کرنے کی تمام بھارتی کوششوں کو شدید ترین قانونی دھچکا لگا ہے اور پاکستان سفارتی محاذ پر مزید مضبوط ہو کر ابھرا ہے۔ انہوں نے بھارت پر زور دیا کہ وہ اپنی روایتی ہٹ دھرمی ترک کر کے عالمی قوانین، بین الاقوامی معاہدوں اور عدالت کے فیصلوں کا احترام کرے۔

صومالیہ میں 10 پاکستانیوں کو یرغمال بنانے کا معاملہ: قومی اسمبلی میں طارق فضل چوہدری اور پیپلز پارٹی کے درمیان نوک جھونک، وفاقی وزیر کا چیلنج

کاشف عباسی , August 19,2026

اسلام آباد (نیوز اینڈ نیوز) — 19 اگست 2026ء

وفاقی وزیر برائے پارلیمانی امور طارق فضل چوہدری نے قومی اسمبلی کے اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے صومالیہ کے بحری قزاقوں کی جانب سے 10 پاکستانیوں کو یرغمال بنائے جانے کے معاملے پر حزبِ اختلاف اور بالخصوص پاکستان پیپلز پارٹی کے اراکین کو سخت ردِعمل دیتے ہوئے چیلنج کیا ہے کہ اگر وہ اپنے موقف میں غلط ثابت ہوں تو عہدے سے استعفیٰ دے دیں گے، ورنہ الزام تراشی کرنے والے اراکین استعفیٰ دیں۔

قومی اسمبلی کے اجلاس کے دوران اظہارِ خیال کرتے ہوئے طارق فضل چوہدری نے کہا کہ صومالیہ میں 10 پاکستانی شہریوں کی قزاقوں کے قبضے میں موجودگی کا معاملہ ایوان میں بحث کے زیرِ غور آیا تھا۔ انہوں نے پیپلز پارٹی کے اراکین کو مخاطب کرتے ہوئے کہا کہ الزام لگانے سے قبل ایوان کی رسمی کارروائی کا ریکارڈ چیک کر لیا جائے۔ ان کا کہنا تھا کہ صومالیہ کے ساتھ پاکستان کے براہِ راست سفارتی تعلقات موجود نہیں ہیں، تاہم حکومتِ پاکستان اس سنگین مسئلے کو حل کرنے کے لیے جبوتی اور لندن میں واقع پاکستانی سفارت خانوں کے ذریعے مسلسل متحرک اور کوشاں ہے۔

وفاقی وزیرِ پارلیمانی امور نے ایوان کو آگاہ کیا کہ دفترِ خارجہ کے ذریعے تمام ممکنہ اقدامات کیے جا رہے ہیں۔ انہوں نے تفصیلا ًبتایا کہ جس بحری جہاز کو اغوا کیا گیا ہے وہ اس وقت ایک ایسے سمندری علاقے میں موجود ہے جہاں صومالیہ حکومت کی عمل داری بالکل ختم ہے، جبکہ پلاؤ نامی ملک بھی اس جہاز کی مالکیت تسلیم (اون) نہیں کر رہا۔ طارق فضل چوہدری نے انکشاف کیا کہ صومالی قزاقوں کی جانب سے یرغمالیوں کی رہائی کے عوض 3 ملین ڈالر (30 لاکھ ڈالر) تاوان مانگا گیا ہے، تاہم تاوان کی ادائیگی سے اس نوعیت کے مجرمانہ واقعات میں مزید اضافے کا خطرہ ہے کیونکہ اس جہاز کے بعد 4 مزید بحری جہازوں کو بھی قزاقوں کی جانب سے اغوا کیا جا چکا ہے۔ انہوں نے یقین دہانی کرائی کہ حکومت ہوا میں باتیں کرنے کے بجائے شہریوں کی محفوظ اور جلد رہائی کے لیے ہر ممکن سفارتی اور عملی ذریعہ استعمال کر رہی ہے۔

حکومت کے خلاف بلاجواز پروپیگنڈا بند کیا جائے، پی ٹی آئی غلط معلومات پھیلانے کے بجائے مذاکرات کرے: وفاقی وزیر طارق فضل چوہدری

منصور احمد, August 15,2026

اسلام آباد (نیوز اینڈ نیوز) — 15 اگست 2026ء

وفاقی وزیر برائے پارلیمانی امور ڈاکٹر طارق فضل چوہدری نے کہا ہے کہ موجودہ حکومت کے اقتدار میں آنے کے بعد سے اس کے خلاف مسلسل بلاجواز پروپیگنڈا کیا جا رہا ہے، جو ملکی جمہوریت اور سیاسی ماحول کے لیے کسی طور مناسب نہیں۔

ایک نجی ٹی وی چینل کے پروگرام میں گفتگو کرتے ہوئے وفاقی وزیر نے اپوزیشن جماعت پاکستان تحریک انصاف (پی ٹی آئی) پر زور دیا کہ وہ بے بنیاد اور غلط معلومات پھیلانے کی سیاست ترک کر کے قومی مفاد کے اہم امور پر حکومت کے ساتھ سنجیدہ اور معنی خیز مذاکرات کی راہ اختیار کرے۔ ان کا کہنا تھا کہ منفی طرزِ عمل اور محاذ آرائی سے موجودہ سیاسی ماحول مزید پیچیدہ ہوگا، جبکہ درپیش قومی چیلنجز کے حل کے لیے سنجیدہ بات چیت ہی واحد حل ہے۔

ایک سوال کے جواب میں ڈاکٹر طارق فضل چوہدری نے واضح کیا کہ جمہوری نظام کو غیر مستحکم کرنے یا مفلوج کرنے کی کوششوں سے کسی بھی فریق کا مقصد حاصل نہیں ہو سکتا۔ انہوں نے کہا کہ اسلام آباد ملک کا وفاقی دارالحکومت ہے اور یہاں آئین و قانون کے دائرے میں رہتے ہوئے کسی کو بھی اپنی قانونی و سیاسی سرگرمیاں انجام دینے سے نہیں روکا جاتا۔ تاہم، سیاسی فائدے کے لیے معاشرے میں بے چینی، نفرت اور انارکی پھیلانا بلاشبہ ناقابلِ قبول اور ملک کے لیے نقصان دہ ہے۔

رکنِ قومی اسمبلی ملک محمد اقبال چنڑ کے انتقال پر وفاقی وزیر ڈاکٹر طارق فضل چوہدری کا گہرے دکھ کا اظہار

کاشف عباسی , August 01,2026

اسلام آباد (نیوز اینڈ نیوز) — 1 اگست 2026ء

وفاقی وزیر برائے پارلیمانی امور ڈاکٹر طارق فضل چوہدری نے پاکستان مسلم لیگ (ن) کے سینئر رہنما اور رکنِ قومی اسمبلی ملک محمد اقبال چنڑ کے ناگہانی انتقال پر گہرے دکھ، رنج اور افسوس کا اظہار کیا ہے۔

سماجی رابطے کی ویب سائٹ ‘ایکس’ (سابقہ ٹوئٹر) پر جاری اپنے تعزیتی بیانیے میں وفاقی وزیر نے کہا کہ مرحوم نے اپنی پوری سیاسی زندگی میں بے لوث عوامی خدمت، پاکستان مسلم لیگ (ن) سے لازوال وفاداری اور جمہوری اقدار کے فروغ کے لیے انتہائی گراں قدر خدمات انجام دیں۔ انہوں نے کہا کہ ملک محمد اقبال چنڑ کا انتقال پارٹی بالخصوص ملکی سیاست کے لیے ایک بہت بڑا نا وہ پورا ہونے والا نقصان ہے۔

ڈاکٹر طارق فضل چوہدری نے اپنی پوسٹ کے ذریعے مرحوم کے سوگوار اہلِ خانہ، بالخصوص ان کے صاحبزادے اور ڈپٹی اسپیکر پنجاب اسمبلی ملک ظہیر اقبال چنڑ اور تمام متعلقین سے دلی تعزیت کا اظہار کیا۔ انہوں نے ربّ العزت کے حضور دعا کی کہ اللہ تعالیٰ مرحوم کے بلند درجات فرمائے، ان کی مغفرت کرے اور لواحقین کو یہ صدمہ صبر و حوصلے سے برداشت کرنے کی ہمت عطا فرمائے۔