

محمود احمد, August 26,2026
کاٹھمنڈو (نیوز اینڈ نیوز) — 26 اگست 2026ء
نیپال اور تبت کی سرحد پر واقع پہاڑی سلسلوں میں اچانک آنے والے خوفناک اور شدید سیلاب اور لینڈ سلائیڈنگ کے نتیجے میں اب تک کم از کم 95 افراد جاں بحق ہو چکے ہیں، جبکہ سینکڑوں ملکی اور غیر ملکی سیاح لاپتہ ہو گئے ہیں۔ سیلاب سے متاثرہ مختلف علاقوں سے موصول ہونے والی اطلاعات کے مطابق طوفانی بارشوں کے بعد آنے والے پانی کے شدید اور تیز ریلوں میں کئی کثیر المنزلہ عمارتیں، رہائشی مکانات، گاڑیاں اور متعدد اہم رابطہ پل بہہ گئے ہیں۔ سفارتی ذرائع اور نیپالی حکام کے مطابق پہاڑی و سیاحتی علاقوں میں پھنسے اور لاپتہ ہونے والے غیر ملکیوں میں انڈیا کے 133، امریکہ کے 47 اور برطانیہ کے 33 شہری بھی شامل ہیں، جن سے تاحال رابطہ ممکن نہیں ہو سکا ہے۔
نیپال کی ڈیزاسٹر مینجمنٹ اتھارٹی اور سیکیورٹی فورسز نے متاثرہ علاقوں میں ریسکیو اور ریلیف کا ہنگامی آپریشن شروع کر دیا ہے، تاہم پل بہہ جانے اور سڑکوں پر لینڈ سلائیڈنگ کی وجہ سے امدادی ٹیموں کو دور دراز کے علاقوں میں پہنچنے اور ریسکیو آپریشن میں شدید مشکلات اور دشواریوں کا سامنا کرنا پڑ رہا ہے۔ نیپالی حکومت نے انڈین اور دیگر بین الاقوامی اداروں سے بھی لاپتہ سیاحوں کی تلاش کے لیے مدد کی اپیل کی ہے۔ موسمیاتی ماہرین نے خبردار کیا ہے کہ خطے میں بارشوں کا سلسلہ آئندہ کچھ دنوں تک جاری رہ سکتا ہے جس سے دریاؤں میں طغیانی اور مزید لینڈ سلائیڈنگ کا خطرہ موجود ہے۔ متاثرہ علاقوں میں ہنگامی حالت نافذ کر کے قریبی محفوظ مقامات پر امدادی کیمپ قائم کر دیے گئے ہیں۔