نیپال اور تبت کی سرحد پر تباہ کن سیلاب: ہلاکتیں 489 ہو گئیں، سینکڑوں لاپتہ، جھیل پھٹنے کا نیا خطرہ

محمود احمد, August 28,2026

کھٹمنڈو (نیوز اینڈ نیوز) — 28 اگست 2026ء

نیپال اور تبت کے سرحدی خطے میں گلیشیئر انہدام اور لینڈ سلائیڈنگ کے بعد آنے والے تباہ کن سیلاب نے وسیع پیمانے پر ہولناک تباہی مچا دی ہے، جس میں سڑکیں زیرِ آب آ چکی ہیں، پل بہہ گئے ہیں اور درجنوں مکانات ملبے کا ڈھیر بن چکے ہیں۔ نیپالی حکام اور پولیس کی جانب سے جاری کردہ تازہ ترین معلومات کے مطابق سیلاب کی تباہ کاریوں کے نتیجے میں ہلاک ہونے والے افراد کی مجموعی تعداد بڑھ کر 489 تک پہنچ گئی ہے، جبکہ سینکڑوں افراد اب بھی لاپتہ ہیں جن کی تلاش کے لیے رشتہ دار اور امدادی ٹیمیں سرگرم ہیں۔ متاثرہ اضلاع میں فوج، پولیس اور ہنگامی امدادی ادارے ملبہ ہٹانے اور بند سڑکوں کو کھولنے کی کوششوں میں مصروف ہیں تاکہ دور دراز کے علاقوں تک ریسکیو کارروائیاں پہنچائی جا سکیں۔

صورتحال کو مزید سنگین بناتے ہوئے حکام نے ایک نئے تباہ کن سیلابی ریلے کا الرٹ جاری کر دیا ہے۔ خطرہ ظاہر کیا جا رہا ہے کہ بدھ کے روز لینڈ سلائیڈنگ کی وجہ سے پہاڑی علاقے میں بننے والی عارضی جھیل کسی بھی وقت پھٹ سکتی ہے، جس کے نتیجے میں نشیبی علاقوں کی جانب نیا سیلابی ریلہ آئے گا۔ اس خدشے کے پیشِ نظر ہنگامی طور پر لوگوں کی محفوظ مقامات پر منتقلی کو تیز کر دیا گیا ہے اور امدادی ادارے کسی بھی ناگہانی صورتحال سے نمٹنے کے لیے ہائی الرٹ پر ہیں۔ متاثرین کھلے آسمان تلے اپنے پیاروں کی تلاش اور بنیادی انسانی امداد کی فراہمی کے منتظر ہیں۔

نیپال میں شدید سیلاب اور لینڈ سلائیڈنگ کی تباہ کاری، 95 افراد جاں بحق جبکہ انڈین شہریوں سمیت سینکڑوں غیر ملکی سیاح لاپتہ

محمود احمد, August 26,2026

کاٹھمنڈو (نیوز اینڈ نیوز) — 26 اگست 2026ء

نیپال اور تبت کی سرحد پر واقع پہاڑی سلسلوں میں اچانک آنے والے خوفناک اور شدید سیلاب اور لینڈ سلائیڈنگ کے نتیجے میں اب تک کم از کم 95 افراد جاں بحق ہو چکے ہیں، جبکہ سینکڑوں ملکی اور غیر ملکی سیاح لاپتہ ہو گئے ہیں۔ سیلاب سے متاثرہ مختلف علاقوں سے موصول ہونے والی اطلاعات کے مطابق طوفانی بارشوں کے بعد آنے والے پانی کے شدید اور تیز ریلوں میں کئی کثیر المنزلہ عمارتیں، رہائشی مکانات، گاڑیاں اور متعدد اہم رابطہ پل بہہ گئے ہیں۔ سفارتی ذرائع اور نیپالی حکام کے مطابق پہاڑی و سیاحتی علاقوں میں پھنسے اور لاپتہ ہونے والے غیر ملکیوں میں انڈیا کے 133، امریکہ کے 47 اور برطانیہ کے 33 شہری بھی شامل ہیں، جن سے تاحال رابطہ ممکن نہیں ہو سکا ہے۔

نیپال کی ڈیزاسٹر مینجمنٹ اتھارٹی اور سیکیورٹی فورسز نے متاثرہ علاقوں میں ریسکیو اور ریلیف کا ہنگامی آپریشن شروع کر دیا ہے، تاہم پل بہہ جانے اور سڑکوں پر لینڈ سلائیڈنگ کی وجہ سے امدادی ٹیموں کو دور دراز کے علاقوں میں پہنچنے اور ریسکیو آپریشن میں شدید مشکلات اور دشواریوں کا سامنا کرنا پڑ رہا ہے۔ نیپالی حکومت نے انڈین اور دیگر بین الاقوامی اداروں سے بھی لاپتہ سیاحوں کی تلاش کے لیے مدد کی اپیل کی ہے۔ موسمیاتی ماہرین نے خبردار کیا ہے کہ خطے میں بارشوں کا سلسلہ آئندہ کچھ دنوں تک جاری رہ سکتا ہے جس سے دریاؤں میں طغیانی اور مزید لینڈ سلائیڈنگ کا خطرہ موجود ہے۔ متاثرہ علاقوں میں ہنگامی حالت نافذ کر کے قریبی محفوظ مقامات پر امدادی کیمپ قائم کر دیے گئے ہیں۔

وسطی افریقی جمہوریہ میں سونے کی کان میں ہولناک لینڈ سلائیڈنگ: 100 سے زائد افراد ہلاک، ملبے تلے مزید دبے ہونے کا خدشہ

محمود احمد, August 20,2026

اسلام آباد / بانگوئی (نیوز اینڈ نیوز) — 20 اگست 2026ء

وسطی افریقی جمہوریہ (سی اے آر) کے مغربی علاقے “زامبوئی” میں، جو کیمرون کی سرحد کے انتہائی قریب واقع ہے، سونے کی ایک غیر قانونی/مقامی کان میں اچانک زمین دھنسنے اور لینڈ سلائیڈنگ کے نتیجے میں 100 سے زائد افراد جاں بحق ہو گئے ہیں۔ مقامی سرکاری حکام نے اس افسوسناک حادثے اور جانی نقصان کی تصدیق کی ہے۔

سوشل میڈیا پر وائرل ہونے والی مناظر میں دیکھا جا سکتا ہے کہ کان کے مقام پر مٹی کا ایک بہت بڑا تودہ اچانک نیچے آ گرا، جس نے وہاں کام کرنے والے اور موجود درجنوں افراد کو پل بھر میں اپنی زد میں لے لیا جبکہ دیگر افراد نے بھاگ کر اپنی جانیں بچانے کی کوشش کی۔ کیمرون کے سرحدی قصبے گاروآ بولائی کے میئر آدمو عبدون نے میڈیا کو بتایا کہ یہ خوفناک حادثہ منگل کی دوپہر کو پیش آیا اور امدادی کارروائیوں کے دوران اب تک ملبے سے 107 لاشیں نکالی جا چکی ہیں۔

حادثے میں زندہ بچ جانے والے ایک مزدور سیڈرک مبانگو نے بتایا کہ زمین اچانک پوری طرح بیٹھ گئی اور مٹی کا تودہ لوگوں کے اوپر آ گرا، جس سے مزید کئی افراد کے ملبے تلے دبے ہونے کا خدشہ ہے۔ کیمرون کے مشرقی علاقے کے گورنر گریگوار موونگو کے مطابق ہلاک ہونے والوں میں کم از کم 3 کیمرونی شہری بھی شامل ہیں جن کی لاشیں ابائی علاقوں کو منتقل کی جا رہی ہیں۔ شدید زخمی ہونے والے افراد کو حادثے کے مقام سے 50 کلومیٹر دور واقع قصبے “بابوآ” کے ہسپتال میں طبی امداد دی جا رہی ہے۔ لینڈ سلائیڈنگ کی حتمی وجہ تاحال معلوم نہیں ہو سکی تاہم امدادی کارروائیاں جاری ہیں۔