گل پلازہ کراچی آتشزدگی: 72 افراد کی ہلاکت، انکوائری کمیشن کی رپورٹ میں بدانتظامی اور اداروں کی غفلت کی نشاندہی

Spread the love

روزینہ اسماعیل, August 29,2026

کراچی (نیوز اینڈ نیوز) — 30 اگست 2026ء

کراچی کے گنجان اور تجارتی مرکز ایم اے جناح روڈ پر واقع مشہور تجارتی مرکز ‘گل پلازہ’ میں رواں سال 17 جنوری 2026ء کو لگنے والی ہولناک اور قیامت خیز آگ محض ایک اتفاقی حادثہ نہیں تھی، بلکہ اس دلخراش سانحے کے پسِ پشت برسوں کی مجرمانہ بدانتظامی، عمارت میں کی جانے والی مبینہ غیر قانونی ساخت کاری و تبدیلیاں، حفاظتی ضوابط پر عملدرآمد میں مکمل ناکامی اور متعدد متعلقہ سرکاری و انتظامی اداروں کی جانب سے اپنی آئینی و قانونی ذمہ داریوں سے مجرمانہ گریز جیسے سنگین عوامل کارفرما تھے۔

واقعے کے تقریباً آٹھ ماہ بعد سندھ ہائی کورٹ کے سینئر جج جسٹس آغا فیصل کی سربراہی میں قائم ایک رکنی ‘کمیشن آف انکوائری’ نے اپنی 78 صفحات پر مشتمل جامع تفتیشی رپورٹ باضابطہ طور پر جاری کر دی ہے۔ رپورٹ میں اس تلخ اور دردناک حقیقت کی تصدیق کی گئی ہے کہ اس ہولناک آتشزدگی کے نتیجے میں کم از کم 72 معصوم افراد دم گھٹنے، جھلسنے اور ملبے تلے دب کر جاں بحق ہوئے جبکہ درجنوں افراد عمر بھر کی معذوری کا شکار ہوئے۔

انکوائری کمیشن نے واقعے کے دوران سندھ حکومت، بلدیہ عظمیٰ کراچی ، سندھ بلڈنگ کنٹرول اتھارٹی اور ريسکیو اداروں کے کردار اور ردِعمل کا گہرائی سے جائزہ لیتے ہوئے یہ بنیادی اور اہم سوال اٹھایا ہے کہ جس وقت سو سے زائد شہری عمارت کے اندر زہریلے دھوئیں، آگ کے شعلوں اور اندھیرے میں زندگی اور موت کی کشمکش میں مبتلا تھے، اس وقت انہیں بحفاظت باہر نکالنے اور بچانے کی بنیادی قانونی ذمہ داری آخر کس ادارے پر عائد ہوتی تھی؟ کمیشن کے سامنے پیش ہوتے ہوئے کراچی کے معروف شہری منصوبہ ساز عارف حسن نے اس وقت کے ڈزاسٹر ردِعمل اور فائر فائٹنگ کی صورتحال کو “انتظامی افراتفری اور فکری مفلوجیت” کا نام دیا۔

سندھ ہائی کورٹ کے کمیشن کے سامنے پیش ہونے والے متأثرین کے بیانات نے سماعت کے دوران دل دہلا دیے؛ ایک جاں بحق ہونے والے نوجوان کی عمر رسیدہ اور غمزدہ والدہ نے کمیشن کے سامنے روتے ہوئے بیان دیا کہ “سانحے کے وقت خاندان اور سرکاری انتظامیہ دونوں اس بھیانک منظر کے محض تماشائی بنے رہے، فرق صرف اتنا تھا کہ اندر جل کر مرنے والے ہمارے اپنے جگر کے ٹکڑے تھے”۔

کمیشن کے تفصیلی مندرجات کے مطابق، آگ ہفتہ 17 جنوری 2026ء کی دوپہر کو شارٹ سرکٹ اور عمارت میں غیر قانونی طور پر بنائے گئے کپڑے اور پلاسٹک کے گوداموں سے شروع ہوئی، جس نے سیڑھیوں کے راستوں پر تجاوزات ہونے کے باعث پوری ملٹی سٹوری عمارت کو اپنی لپیٹ میں لے لیا۔ کمیشن نے اپنی رپورٹ کے اختتام پر سفارش کی ہے کہ تمام قصوروار افسران، عمارت کے مالکان اور غفلت کے مرتکب ملازمین پر مجرمانہ غفلت کے مقدمات درج کیے جائیں اور شہر کی تمام تجارتی عمارات کا فوری سیفٹی آڈٹ کروایا جائے تاکہ مستقبل میں ایسے سانحات سے بچا جا سکے۔