

محمود احمد, September 10,2026
کراچی (نیوز اینڈ نیوز) — 10 ستمبر 2026ء
سندھ کے صوبائی وزیر داخلہ ضیا الحسن لنجار نے میر رضا علی کی پُراسرار اور حساس موت کی تحقیقات کے لیے قائم شدہ عدالتی کمیشن کے سامنے خود پیش ہو کر حکومتِ سندھ کی جانب سے کامل، منصفانہ، آزادانہ اور مکمل شفاف انکوائری میں مکمل تعاون فراہم کرنے کے پختہ عزم کا اعادہ کیا ہے۔ انہوں نے واضح طور پر کہا کہ حکومتِ سندھ اس عدالتی کمیشن کی کارروائی، تحقیقات اور قانونی طریقہ کار میں کسی بھی قسم کی مداخلت ہرگز نہیں چاہتی اور کمیشن کے پاس تمام اختیارات موجود ہیں کہ وہ بلا خوف و خطر اپنی تحقیقات کو آگے بڑھائے۔
سندھ ہائی کورٹ میں جمعرات کے روز کمیشن کے سربراہ جسٹس عمر سیال کے روبرو پیشی کے موقع پر صوبائی وزیر داخلہ نے اپنا موقف پیش کرتے ہوئے کہا کہ گزشتہ سماعت کے دوران ایک غلط فہمی جنم لے گئی تھی۔ ان کا کہنا تھا کہ حکومتِ سندھ کی جانب سے کمیشن کو کارروائی کے طریقہ کار سے متعلق کسی قسم کی ہدایت جاری نہیں کی گئی تھی اور نہ ہی متوفی میر رضا علی کے رنجیدہ اہلخانہ کے اٹھائے گئے قانونی سوالات کے جوابات دینے کے عمل میں رکاوٹ ڈالنے کی کوئی بات کی گئی تھی۔
بعد ازاں کمیشن کی جانب سے جاری کردہ باضابطہ تحریری حکم نامے میں صوبائی وزیر داخلہ کی اس فوری اور واضح وضاحت اور حکومتِ سندھ کے مسلسل اور مکمل تعاون کی فراہم کردہ یقین دہانی کو سراہا گیا۔ میر رضا علی کے متاثرہ خاندان کے نامور وکیل جبران ناصر نے بھی عدالتی فورم پر استدعا کی کہ صوبائی وزیر داخلہ کی جانب سے پیش کی گئی وضاحت اور کمیشن کے ساتھ مکمل تعاون کی اس یقین دہانی کو باقاعدہ عدالتی ریکارڈ کا حصہ بنایا جائے۔ اس پیش رفت کے بعد ایڈووکیٹ جنرل سندھ اور کمیشن کے فاضل سربراہ کے درمیان پیدا ہونے والی غلط فہمی اور تحفظات کا یکسر خاتمہ ہو گیا۔
عدالتی کمیشن نے کیس کی تمام تر کارروائی آئندہ پیر 14 ستمبر 2026ء کو صبح 11 بجے سے دوبارہ شروع کرنے کا باضابطہ فیصلہ کیا ہے۔ اس سلسلے میں پولیس سرجن ڈاکٹر سمیعہ سید اور متعلقہ تھانے کے ایس ایچ او عدیل افضل کو مقررہ تاریخ پر تمام ضروری دستاویزی ریکارڈ سمیت پیش ہونے کے لیے باقاعدہ نوٹسز جاری کر دیے گئے ہیں۔ دوسری جانب کمیشن کو ڈاکٹر اسامہ کی جانب سے جاری کردہ شوکاز نوٹس کا موصول ہونے والا جواب نامکمل، غیر تسلی بخش اور مبہم قرار دیتے ہوئے کمیشن نے ڈاکٹر اسامہ کو 15 ستمبر کو ذاتی طور پر پیش ہو کر اپنے جواب کی تفصیلی وضاحت پیش کرنے کی ہدایت کی ہے۔
سماعت کے دوران فاضل جج جسٹس عمر سیال نے صوبائی وزیر داخلہ سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ متوفی کے غم زدہ اہلخانہ کے اعتماد کو مکمل طور پر بحال رکھنا اس قانونی انکوائری کا سب سے اہم اور بنیادی پہلو ہے۔ انہوں نے کہا کہ اہلخانہ کے ذہنوں میں بہت سے پیچیدہ سوالات موجود ہیں اور حکومتِ سندھ و وزیراعلیٰ کی جانب سے شفاف تحقیقات کی یقین دہانی بلاشبہ قابلِ تعریف ہے، تاہم خاندان کا اعتماد متاثر ہونے کے باعث کمیشن کے لیے یہ ایک بے حد مشکل اور حساس ذمہ داری ہے۔
جسٹس عمر سیال نے مزید واضح کیا کہ متوفی کے خاندان کے وکیل کو تمام ضروری سوالات اٹھانے کی قانون کے مطابق مکمل اجازت حاصل ہے اور گزشتہ سماعت پر سندھ کے ایڈووکیٹ جنرل کے اپنائے گئے رویے پر کمیشن نے اپنے شدید تحفظات کا اظہار کیا تھا۔ ان کا کہنا تھا کہ صوبائی وزیر داخلہ کو طلب کرنے کا بنيادی مقصد حکومتِ سندھ کے موقف اور کامل تعاون کے بارے میں عام عوام اور متاثرہ خاندان کا اعتماد بحال کرنا تھا۔
صوبائی وزیر داخلہ ضیا الحسن لنجار نے کمیشن کے سربراہ کو یقین دلایا کہ حکومتِ سندھ اس باوقار کمیشن کی ہر بات پر پورا اعتماد رکھتی ہے اور یہ تحقیقات جس سمت بھی جائیں، حکومت اصل ملزمان تک پہنچنے اور انہیں قانون کے کٹہرے میں لانے کے لیے اپنا مکمل تعاون جاری رکھے گی۔ انہوں نے واضح کیا کہ کمیشن کو یہ کامل اختیار حاصل ہے کہ وہ جس بھی ذمہ دار یا شخص سے چاہے سوال کرے۔ انہوں نے اہلخانہ کے دکھ اور جذبات کا احترام کرتے ہوئے پچھلی سماعت کی صورتحال پر کمیشن سے معذرت بھی کی۔
دوسری جانب میر رضا علی کے خاندان کے وکیل جبران ناصر نے متوفی کے بزنس پارٹنر احمد سے متعلق سامنے آنے والے بعض سنگین الزامات اور ان کے وکیل کی طرف سے موصولہ معلومات کا حوالہ دیتے ہوئے کمیشن سے استدعا کی کہ احمد کو دوبارہ کمیشن کے سامنے طلب کیا جائے تاکہ وہ اگر کوئی مزید موقف یا معلومات دینا چاہیں تو ریکارڈ پر لا سکیں۔ کمیشن نے جبران ناصر کو ہدایت کی کہ اس نقطے پر باضابطہ تحریری درخواست جمع کرائی جائے، جس پر وکیل صفائی نے جلد درخواست دائر کرنے کی یقین دہانی کرائی۔

