نیپال میں تبت کی سرحد کے قریب تباہ کن سیلاب سے ہلاکتیں 1,000 سے تجاوز کر گئیں، 3,900 سے زائد افراد لاپتہ

Spread the love

محمود احمد, September 01,2026

کاٹھمنڈو (نیوز اینڈ نیوز) — 1 ستمبر 2026ء

نیپال میں تبت کی سرحد کے قریب آنے والے انتہائی تباہ کن سیلاب کی وجہ سے املاک اور انسانی جانوں کا ہولناک نقصان ہوا ہے، جہاں ہلاکتوں کی مجموعی تعداد 1,000 سے تجاوز کر گئی ہے۔ نیپال کے نیشنل ڈیزاسٹر مینجمنٹ ادارے کے مطابق سیلابی ریلوں کے باعث ہزاروں افراد اب بھی لاپتہ ہیں جن کی تلاش کے لیے سرچ اینڈ ریسکیو آپریشنز جاری ہیں۔

حکام کے فراہم کردہ تازہ ترین اعداد و شمار کے مطابق 3,900 سے زائد افراد لاپتہ ہیں، جن میں 600 سے زیادہ وہ محنت کش اور انجینئرز بھی شامل ہیں جن کے بارے میں شدید خدشہ ہے کہ وہ دریائے ترشولی کے کنارے قائم پن بجلی کے مختلف منصوبوں میں موجود مٹی اور کیچڑ سے بھری سرنگوں کے وسیع زیرِ زمین نیٹ ورک میں پھنسے ہوئے ہیں۔

سرنگوں کے اندر پھنسے ہوئے مزدوروں کو ساہس اور آکسیجن کی فراہم یقینی بنانے کے لیے ماہر انجینئرز خصوصی ایئر پمپس کا استعمال کر رہے ہیں۔ امدادی ٹیموں کا ایک ریسکیو دستہ کامیابی کے ساتھ ایک سرنگ کے اندر داخل ہونے میں کامیاب بھی ہوا، تاہم اندر کسی شخص کو نہ پائے جانے کے بعد ٹیم کو واپس آنا پڑا۔

مقامی اور بین الاقوامی میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے 33 سالہ لاپتہ انجینئر اوروس بھنڈاری کی اہلیہ انوشیلا بھنڈاری نے اپنے جذبات کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ ان کی صرف یہی ایک خواہش ہے کہ ان کے شوہر کو بحفاظت تلاش کیا جا سکے تاکہ وہ جلد گھر واپس آ جائیں۔ اوروس بھنڈاری پن بجلی منصوبے کی ایک سائٹ سے سیلابی ریلے کے بعد سے لاپتہ ہیں۔

نیپال کے وزیرِاعظم بالیندر شاہ نے واقعے پر اہم پیش رفت کی تصدیق کرتے ہوئے بتایا کہ ان متاثرہ ہائیڈرو پاور منصوبوں کی سائٹس سے اب تک 279 افراد کو بحفاظت ریسکیو کر کے نکال لیا گیا ہے۔

حالات کی حساسیت کو مدِنظر رکھتے ہوئے امدادی کارروائیوں کی قیادت چین اور نیپال کے تربیت یافتہ فوجی اہلکاروں پر مشتمل ایک بین الاقوامی مشترکہ ٹیم کر رہی ہے، جبکہ انڈیا، جنوبی کوریا اور آسٹریلیا کے تخصصی ماہرین بھی ریسکیو اور امدادی سرگرمیوں میں مکمل طور پر حصہ لے رہے ہیں۔