نیپال میں تبت کی سرحد کے قریب تباہ کن سیلاب سے ہلاکتیں 1,000 سے تجاوز کر گئیں، 3,900 سے زائد افراد لاپتہ

محمود احمد, September 01,2026

کاٹھمنڈو (نیوز اینڈ نیوز) — 1 ستمبر 2026ء

نیپال میں تبت کی سرحد کے قریب آنے والے انتہائی تباہ کن سیلاب کی وجہ سے املاک اور انسانی جانوں کا ہولناک نقصان ہوا ہے، جہاں ہلاکتوں کی مجموعی تعداد 1,000 سے تجاوز کر گئی ہے۔ نیپال کے نیشنل ڈیزاسٹر مینجمنٹ ادارے کے مطابق سیلابی ریلوں کے باعث ہزاروں افراد اب بھی لاپتہ ہیں جن کی تلاش کے لیے سرچ اینڈ ریسکیو آپریشنز جاری ہیں۔

حکام کے فراہم کردہ تازہ ترین اعداد و شمار کے مطابق 3,900 سے زائد افراد لاپتہ ہیں، جن میں 600 سے زیادہ وہ محنت کش اور انجینئرز بھی شامل ہیں جن کے بارے میں شدید خدشہ ہے کہ وہ دریائے ترشولی کے کنارے قائم پن بجلی کے مختلف منصوبوں میں موجود مٹی اور کیچڑ سے بھری سرنگوں کے وسیع زیرِ زمین نیٹ ورک میں پھنسے ہوئے ہیں۔

سرنگوں کے اندر پھنسے ہوئے مزدوروں کو ساہس اور آکسیجن کی فراہم یقینی بنانے کے لیے ماہر انجینئرز خصوصی ایئر پمپس کا استعمال کر رہے ہیں۔ امدادی ٹیموں کا ایک ریسکیو دستہ کامیابی کے ساتھ ایک سرنگ کے اندر داخل ہونے میں کامیاب بھی ہوا، تاہم اندر کسی شخص کو نہ پائے جانے کے بعد ٹیم کو واپس آنا پڑا۔

مقامی اور بین الاقوامی میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے 33 سالہ لاپتہ انجینئر اوروس بھنڈاری کی اہلیہ انوشیلا بھنڈاری نے اپنے جذبات کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ ان کی صرف یہی ایک خواہش ہے کہ ان کے شوہر کو بحفاظت تلاش کیا جا سکے تاکہ وہ جلد گھر واپس آ جائیں۔ اوروس بھنڈاری پن بجلی منصوبے کی ایک سائٹ سے سیلابی ریلے کے بعد سے لاپتہ ہیں۔

نیپال کے وزیرِاعظم بالیندر شاہ نے واقعے پر اہم پیش رفت کی تصدیق کرتے ہوئے بتایا کہ ان متاثرہ ہائیڈرو پاور منصوبوں کی سائٹس سے اب تک 279 افراد کو بحفاظت ریسکیو کر کے نکال لیا گیا ہے۔

حالات کی حساسیت کو مدِنظر رکھتے ہوئے امدادی کارروائیوں کی قیادت چین اور نیپال کے تربیت یافتہ فوجی اہلکاروں پر مشتمل ایک بین الاقوامی مشترکہ ٹیم کر رہی ہے، جبکہ انڈیا، جنوبی کوریا اور آسٹریلیا کے تخصصی ماہرین بھی ریسکیو اور امدادی سرگرمیوں میں مکمل طور پر حصہ لے رہے ہیں۔

راسووا سیلاب کے بعد ملکی انفراسٹرکچر کی سب سے بڑی تباہی: 19 پل متاثر، 40 کلو میٹر طویل سڑک کو نقصان اور متبادل راستے اختیار کرنے کی ہدایت

محمود احمد, August 30,2026

کاٹھمنڈو (نیوز اینڈ نیوز) — 30 اگست 2026ء

نیپال میں آنے والے تباہ کن اور اچانک سیلاب کے بعد شدید کٹاؤ کے باعث ملک کی انتہائی اہم اور مرکزی شاہراہ ‘پرتھوی ہائی وے’ کو بڑے پیمانے پر نقصان پہنچا ہے، جس سے اہم مواصلاتی رابطے منقطع ہو گئے ہیں۔ نیپال کے شعبہ روڈز (محکمہ سڑک جات) کے سربراہ و ڈائریکٹر جنرل وجے جائسی نے باضابطہ تصدیق کرتے ہوئے بتایا کہ راسووا کے علاقے میں آنے والے ہولناک سیلاب کے بعد یہ ملک کے سڑکوں کے بنیادی ڈھانچے (شاہراہیں اور پل) کو پہنچنے والا سب سے بڑا اور سنگین ترین نقصان ہے۔

محکمے کے ڈائریکٹر جنرل وجے جائسی کے مطابق گذشتہ بدھ کے روز آنے والے تباہ کن سیلاب کے فوراً بعد دھاڈنگ ضلع کے علاقے ‘کرشنابھیر’ میں زمین اور سڑک کے کٹاؤ کا سلسلہ شروع ہوا تھا، جبکہ اتوار کی صبح پہاڑوں سے آنے والے ایک اور شدید سیلابی ریلے نے تباہی پھیلاتے ہوئے صورتحال کو مزید تشویشناک اور سنگین بنا دیا ہے۔ شدید کٹاؤ کے باعث مرکزی شاہراہ کا بڑا حصہ دریا میں بہہ چکا ہے اور گاڑیوں کی آمد و رفت مکمل طور پر معطل ہو گئی ہے۔

حالات کی سنگینی کو مدِنظر رکھتے ہوئے وجے جائسی نے مسافروں، ڈرائیورز اور ٹرانسپورٹ آپریٹرز کو ہدایت کی ہے کہ وہ سفر کے لیے فوری طور پر متبادل راستے اختیار کریں۔ محکمہ سڑک جات کی ابتدائی رپورٹ میں بتایا گیا ہے کہ ملک بھر میں سیلابی ریلوں اور لینڈ سلائیڈنگ سے محکمے کے 19 اہم پل متاثر یا تباہ ہوئے ہیں، جبکہ نواکوٹ سے سیافروبیسی اور رسووا گڑھی تک تقریباً 40 کلومیٹر طویل سڑک کا بنیادی ڈھانچہ بھی بری طرح متاثر ہوا ہے۔ محکمے نے ہنگامی ٹیمیں تشکیل دے کر بحالی کا کام شروع کر دیا ہے تاہم مسلسل بارشوں کے باعث سڑک کھودنے اور بحال کرنے میں شدید دشواری پیش آ رہی ہے۔

نیپال سیلاب کے 2 روز بعد ملبے تلے دبے رہنے والی 5 سالہ بچی کے معجزانہ ریسکیو کی کہانی: ہسپتال میں والدین سے ملاقات، منیشا کی حالت اب مستحکم

محمود احمد, August 30,2026

کھٹمنڈو (نیوز اینڈ نیوز) — 30 اگست 2026ء

نیپال میں آنے والے قیامت خیز اور اچانک سیلاب و لینڈ سلائیڈنگ کے دو روز بعد ملبے کے نیچے سے معجزانہ طور پر زندہ نکالی جانے والی پانچ سالہ بچی بالآخر دارالحکومت کے ہسپتال میں اپنے والدین سے جا ملی ہے۔ ہسپتال کے ڈاکٹروں اور انتظامیہ کے مطابق ‘منیشا’ نامی بچی کی جسمانی و طبی حالت اب بالکل مستحکم ہے اور وہ کھٹمنڈو کے معروف ‘ٹیچنگ ہسپتال’ کے شعبۂ اطفال میں زیرِ علاج رہتے ہوئے تیزی سے صحت یاب ہو رہی ہے۔

سنسنی خیز اور معجزانہ ریسکیو آپریشن کے حوالے سے نیپال کی آرمڈ پولیس فورس کے اہلکار سنجو کھتری نے بتایا کہ ان کی ٹیم ضلع راسووا کے دشوار گزار علاقے ‘سیابروبیسی’ کے قریب سیلاب اور مٹی کے تودوں کی زد میں آنے والے تباہ شدہ مکانات کے ملبے میں زندہ بچ جانے والے شہریوں کی تلاش میں مصروف تھی۔ اس دوران سرچ ٹیم کو ملبے کے گہرے حصے سے کسی بلی کے پھنسے ہونے کی باریک اور مدہم آواز سنائی دی۔ امدادی ٹیموں نے جب شک کی بنیاد پر اس خاص حصے کی باریک بینی سے تلاشی لی اور وزنی ملبہ ہٹانا شروع کیا تو وہ وہاں معصوم منیشا کو ملبے تلے دبا دیکھ کر حیران رہ گئے۔ بچی کو محفوظ طریقے سے باہر نکالنے کی اس نازک کارروائی میں مسلسل دو گھنٹے لگے۔

حکام کا کہنا ہے کہ ریسکیو کے وقت منیشا شدید نڈھال تھی اور بمشکل ہی کسی سوال کا جواب دے پا رہی تھی۔ امدادی کارکنوں نے فوراً اسے ہیلی کاپٹر سے منتقل کرنے کی کوشش کی، تاہم خطے میں بادلوں اور خراب موسم کے باعث ہیلی کاپٹر کی اڑان ممکن نہ ہو سکی۔ جس کے بعد اسے قریبی ریسکیو کیمپ منتقل کر کے ابتدائی طبی امداد اور پانی دیا گیا۔ کچھ دیر بعد ہوش سنبھالنے پر اس کی نقاہت دور کرنے کے لیے چاول کا ابلا ہوا پانی پلایا گیا۔ شدید ذہنی صدمے کا شکار ہونے کے باوجود سنیچر کی دوپہر موسم بہتر ہوتے ہی اسے ایئر لفٹ کر کے کھٹمنڈو کے ٹیچنگ ہسپتال منتقل کر دیا گیا۔ ہسپتال کی جانب سے اتوار کو جاری کردہ تازہ ترین طبی رپورٹ میں بتایا گیا ہے کہ منیشا کی صحت میں واضح بہتری آ رہی ہے اور وہ خطرے سے باہر ہے۔

نیپال میں سیلاب سے ہلاکتیں 734 ہو گئیں: 2,400 سے زائد افراد لاپتہ، 2,498 شہریوں کو بحفاظت ریسکیو کر لیا گیا

محمود احمد, August 30,2026

کھٹمنڈو (نیوز اینڈ نیوز) — 30 اگست 2026ء

جنوبی ایشیائی ملک نیپال میں تباہ کن سیلاب اور مٹی کے تودے گرنے (لینڈ سلائیڈنگ) کے نتیجے میں ہلاکتوں کی تعداد میں مسلسل اضافہ ہو رہا ہے۔ نیپال کے ‘نیشنل ڈیزاسٹر رسک ریڈکشن اینڈ مینجمنٹ اتھارٹی’ کی جانب سے جاری کردہ تازہ ترین اعداد و شمار کے مطابق، اس قدرتی آفت کے باعث جاں بحق ہونے والے شہریوں کی کل تعداد بڑھ کر 734 ہو گئی ہے، جبکہ 2,400 سے زائد افراد تاحال لاپتہ ہیں جن کی تلاش کے لیے بڑے پیمانے پر سرچ آپریشن جاری ہے۔

ڈیزاسٹر مینجمنٹ حکام نے بتایا کہ شدید متاثرہ اور کٹے ہوئے علاقوں سے ریسکیو ٹیموں نے اب تک 2,498 افراد کو بحفاظت نکال کر محفوظ مقامات پر منتقل کر دیا ہے۔ اس کے علاوہ، سیلابی ریلوں اور ملبے کی زد میں آ کر 219 افراد زخمی ہوئے ہیں جنہیں مختلف فیلڈ ہسپتالوں اور طبی مراکز میں علاج معالجے کی سہولیات فراہم کی جا رہی ہیں۔

نیپال کی دفاعی و پولیس فورسز اور امدادی ادارے متاثرہ علاقوں میں لاپتہ افراد کی تلاش کے لیے کارروائیاں جاری رکھے ہوئے ہیں۔ حکام کے مطابق، تباہ شدہ سڑکوں اور پلوں کے باعث دور دراز دیہات تک پہنچنے میں شدید مشکلات کا سامنا ہے، تاہم ریسکیو ٹیمیں ہیلی کاپٹرز اور سائنسی آلات کی مدد سے آپریشن کو تیز تر بنانے کی کوشش کر رہی ہیں۔

نیپال اور تبت میں سیلاب کے بعد شدید خطرات: ماہرین کی اہم انتباہی رپورٹ، نئی مصنوعی جھیلوں کے پھٹنے کا خدشہ اور چین و نیپال کے درمیان فوری ڈیٹا شیئرنگ پر زور

محمود احمد, August 30,2026

کاٹھمنڈو/لھاسا (نیوز اینڈ نیوز) — 30 اگست 2026ء

نیپال اور تبت کے سرحد پار علاقوں میں تباہ کن سیلاب کے بعد عالمی سطح پر سیلاب اور قدرتی آفات کے ماہرین نے انتہائی تشویش کا اظہار کرتے ہوئے خبردار کیا ہے کہ خطے میں فوری تشویش کی بات یہ ہے کہ اچانک آنے والے سیلاب نے اب نئے اور غیر متوقع خطرات پیدا کر دیے ہیں۔ ماہرین کے مطابق پہلی لہر کے بعد لینڈ سلائیڈنگ اور پہاڑی ملبے کی وجہ سے پیدا ہونے والی صورتحال آئندہ دنوں میں کسی بڑی تباہی کا پیش خیمہ ثابت ہو سکتی ہے، جس کے لیے دونوں ممالک کو فوری طور پر مشترکہ اور ہنگامی اقدامات اٹھانے کی ضرورت ہے۔

یونیورسٹی آف ریڈنگ میں سیلاب کی پیشگی وارننگ اور آفات کے خطرات پر تحقیق کرنے والے معروف بین الاقوامی ماہر جیف ڈا کوستا نے عالمی ابلاغی ادارے کو بتاتے ہوئے انکشاف کیا کہ قدرتی آفت کے نتیجے میں پہاڑوں سے بہہ کر آنے والے مٹی، پتھروں اور گلیشیائی ملبے نے کئی مقامات پر قدرتی دریاؤں کا راستہ روک دیا ہے۔ راستہ بلاک ہونے کی وجہ سے بالائی اور پہاڑی علاقوں میں پانی کے عارضی ذخائر اور نئی جھیلیں بن چکی ہیں۔ انہوں نے خبردار کیا کہ ان جھیلوں کے اچانک پھٹنے کی صورت میں آنے والا دوسرا سیلاب اگرچہ حجم میں پہلے جتنا بڑا نہ بھی ہو، تب بھی وہ نیچے بستیوں پر انتہائی سنگین اور تباہ کن اثرات مرتب کر سکتا ہے۔

جیف ڈا کوستا نے سائنسی نقطہ نظر سے آئندہ کے لائحہ عمل پر زور دیتے ہوئے کہا کہ اب اس بات کی 24 گھنٹے مانیٹرنگ اور نگرانی کرنا انتہائی اہم اور ناگزیر ہو چکا ہے کہ علاقے میں بننے والی ان نئی جھیلوں اور پانی کو روکنے والی عارضی رکاوٹوں میں کس طرح کی تبدیلیاں آ رہی ہیں اور پانی کا دباؤ کس مقام پر سب سے زیادہ ہے تاکہ یہ اندازہ لگایا جا سکے کہ وہ کہاں پھٹ سکتی ہیں۔ انہوں نے واضح کیا کہ اس وقت چین اور نیپال دونوں ممالک کے لیے بے حد ضروری ہے کہ وہ گلیشیئرز اور جھیلوں کی نگرانی سے متعلق حاصل ہونے والی تمام تر سیٹلائٹ اور زمینی معلومات ایک دوسرے کے ساتھ بلا تاخیر شیئر کریں۔

ماہرِ سیلاب ڈا کوستا کا کہنا تھا کہ ہمالیائی بالائی علاقوں میں پیدا ہونے والی کوئی بھی سیکیورٹی یا سیلابی صورتحال سرحد کے دوسری جانب نشیب میں رہنے والے لوگوں کو چند منٹوں میں انتہائی تیزی سے متاثر کر سکتی ہے۔ اس لیے جس رفتار سے پانی نیچے کی طرف بہتا ہے، معلومات اور الرٹس بھی اسی رفتار سے دونوں ملکوں کے درمیان منتقل ہونے چاہئیں تاکہ مقامی انتظامیہ اور آبادی زمینی سطح پر بروقت، درست اور عملی فیصلے کر کے انسانی جانوں کا تحفظ کر سکے۔

اپنی سائنسی تفتیش کو آگے بڑھاتے ہوئے ڈا کوستا نے اشارہ دیا کہ موسمیاتی تبدیلی بھی اس قدرتی آفت کے پس منظر میں ایک اہم اور کلیدی عنصر کے طور پر سامنے آ رہی ہے۔ کرۂ ارض کا بڑھتا ہوا درجہ حرارت ہمالیہ کے پورے سلسلے میں گلیشیئرز، ہزاروں سال سے جمی ہوئی برفانی زمین اور پہاڑی ڈھلوانوں کے قدرتی استحکام کو شدید متاثر کر رہا ہے جس سے مٹی کے تودے گرنے کے واقعات میں اضافہ ہوا ہے۔ تاہم انہوں نے یہ بات بھی واضح کی کہ مزید سائنسی تحقیق اور تفصیلی تجزیے کے بغیر اس آفت کو سو فیصد اور براہِ راست صرف موسمیاتی تبدیلی سے منسوب نہیں کیا جا سکتا۔

نیپال کے سیلاب میں تباہی کی انتہا: ہلاکتیں 675 ہو گئیں، لاشوں کو محفوظ رکھنا ناممکن ہونے پر اجتماعی تدفین شروع، 2,498 افراد ریسکیو

محمود احمد, August 29,2026

کھٹمنڈو (نیوز اینڈ نیوز) — 30 اگست 2026ء

جنوبی ایشیا کے پہاڑی ملک نیپال میں آنے والے قیامت خیز سیلاب اور لینڈ سلائیڈنگ سے ہونے والی تباہ کاریوں اور ہلاکتوں میں مسلسل اور دردناک اضافہ جاری ہے۔ نیپال کے ‘نیشنل ڈیزاسٹر رسک ریڈکشن اینڈ مینجمنٹ اتھارٹی’ کی جانب سے جاری کردہ تازہ ترین ہنگامی اعداد و شمار کے مطابق، ملک بھر میں قدرتی آفت کے نتیجے میں جاں بحق ہونے والے شہریوں کی تصدیق شدہ تعداد بڑھ کر 675 ہو گئی ہے۔ ڈیزاسٹر مینجمنٹ حکام نے بتایا کہ سخت کوششوں اور سرچ آپریشن کے نتیجے میں اب تک 2,498 افراد کو خطرناک اور سیلابی علاقوں سے بحفاظت نکال کر محفوظ مقامات پر منتقل یا ریسکیو کیا جا چکا ہے، جبکہ مختلف اضلاع میں 219 افراد شدید زخمی ہیں جنہیں طبی سہولیات فراہم کی جا رہی ہیں۔

نیپال کے آفت زدہ اضلاع میں ہلاکتوں کی بڑی تعداد اور بنیادی ڈھانچے کی تباہی کے باعث اب ایک نیا اور دلخراش انسانی بحران جنم لے چکا ہے۔ ملک بھر کے سرکاری ہسپتالوں اور مقتولین کے مرغزاروں میں سرد خانوں اور لاشوں کو محفوظ رکھنے کی گنجائش ختم ہو چکی ہے، جبکہ مواصلاتی نظام درہم برہم ہونے کی وجہ سے درجنوں لاشوں کی شناخت اور انہیں ورثا کے حوالے کرنا ناممکن ہوتا جا رہا ہے۔ گرم موسم اور نمی کے باعث لاشوں کے خراب ہونے کے شدید خطرے کے پیشِ نظر، مقامی انتظامیہ اور نیپالی حکام نے مختلف اضلاع میں برآمد ہونے والی لاشوں کی اجتماعی تدفین اور آخری رسومات کی ادائیگی کا سلسلہ شروع کر دیا ہے۔

نیپالی حکام اور ریسکیو اداروں کے مطابق، تباہ شدہ سڑکوں، ٹوٹے ہوئے پلوں اور پہاڑی راستوں پر مٹی کے تودے گرنے کی وجہ سے امدادی ٹیموں کو دور دراز دیہات تک پہنچنے میں شدید ترین دشواریوں کا سامنا کرنا پڑ رہا ہے۔ اگرچہ پاک فوج، مقامی پولیس اور بین الاقوامی اداروں کی ہیلی کاپٹر سروسز ریسکیو آپریشن میں متحرک ہیں، تاہم ملبے کے نیچے دبے سینکڑوں لاپتہ افراد کی موجودگی کے باعث ہلاکتوں کی تعداد میں مزید اضافے کا شدید خدشہ ظاہر کیا جا رہا ہے۔ نیپالی حکومت نے بین الاقوامی برادری اور عالمی امدادی تنظیموں سے اپیل کی ہے کہ وہ لاشوں کی تحفظ، شناختی کٹس اور ہنگامی طبی امداد کی فراہمی میں ہنگامی بنیادوں پر مدد کریں۔

چین سے سیلاب سے متعلق معلومات موصول ہو رہی ہیں: نیپالی وزیر خارجہ شیشیر خانال

منصور احمد, August 29,2026

کھٹمنڈو (نیوز اینڈ نیوز) — 29 اگست 2026ء

نیپال کے وزیر خارجہ شیشیر خانال نے تصدیق کی ہے کہ نیپال اور چین کے درمیان حالیہ تباہ کن سیلابی صورتحال سے متعلق قریبی رابطہ، تبادلہ خیال اور اعلیٰ سطح پر ہم آہنگی کا سلسلہ جاری ہے، جبکہ چینی حکام کی جانب سے متاثرہ علاقوں اور سرحد پار صورتحال کے حوالے سے ضروری معلومات اور ڈیٹا مسلسل موصول ہو رہا ہے۔

صحافیوں کی جانب سے اس سوال پر کہ بحران کے ابتدائی لمحات میں چین کی طرف سے بروقت معلومات اور الرٹ کیوں فراہم نہیں کیا گیا، وزیر خارجہ شیشیر خانال نے وضاحت کرتے ہوئے کہا کہ واقعے کی نوعیت انتہائی اچانک اور پیچیدہ تھی، جس کے باعث ممکن ہے کہ خود چینی حکام کے پاس بھی ابتدائی مرحلے میں مکمل، واضح اور مستند معلومات فوری طور پر موجود نہ ہوں۔

انہوں نے کہا کہ اب دونوں ممالک کے مابین رابطے مکمل طور پر بحال ہیں اور ضروری تفصیلات و اپ ڈیٹس چین کی جانب سے باقاعدگی سے موصول ہو رہی ہیں۔ ان کے مطابق، نیپال اس تباہ کن واقعہ کے فوری بعد سے مسلسل چینی حکام کے ساتھ قریبی رابطے میں ہے اور دونوں ممالک سرحدی علاقوں میں صورتحال کا جائزہ لینے کے لیے ایک دوسرے سے مکمل تعاون کر رہے ہیں۔

وزیر خارجہ شیشیر خانال نے مزید بتایا کہ چینی حکام نہ صرف گلیشیئر ٹوٹنے کی جگہ اور اس کے نتیجے میں بننے والی جھیل کے پانی کی سطح کی جدید آلات کے ذریعے مسلسل نگرانی کر رہے ہیں، بلکہ ممکنہ خطرات، پانی کے بہاؤ اور کسی بھی نئے خطرے کے بارے میں پیشگی معلومات نیپال کو فراہم کر رہے ہیں۔

انہوں نے زور دیتے ہوئے کہا کہ معلومات کی اس بروقت فراہمی کا بنیادی مقصد یہ ہے کہ اگر کسی نئی ہنگامی صورتحال یا دوبارہ سیلابی ریلے کا خطرہ پیدا ہو، تو نیپالی انتظامیہ کو بروقت حفاظتی اور دفاعی اقدامات اٹھانے میں مدد مل سکے اور عام شہریوں کو مزید نقصان سے بچایا جا سکے۔

نیپال اور تبت میں تباہ کن سیلاب کی تبا ہی: ہلاکتیں بڑھ کر 623 ہو گئیں، ہزاروں لاپتہ، اقوام متحدہ اور عالمی برادری کی جانب سے ہنگامی امداد کا آغاز

محمود احمد, August 29,2026

کاٹھمنڈو/لھاسا/اقوام متحدہ (نیوز اینڈ نیوز) — 29 اگست 2026ء

جنوبی ایشیا کے پہاڑی ملک نیپال اور اس کے ہمسائے تبت کے سرحدی خطے میں بدھ کے روز گلیشیئر انہدام اور شدید بارشوں کے بعد آنے والے تباہ کن سیلاب کی ہولناکی میں ہر گزرتے گھنٹے کے ساتھ اضافہ ہوتا جا رہا ہے۔ سڑکوں، پلوں، اور درجنوں پہاڑی دیہاتوں کو بہا لے جانے والے اس ناگہانی قدرتی آفت کے نتیجے میں دونوں ممالک میں مجموعی ہلاکتوں کی تعداد بڑھ کر 623 تک پہنچ چکی ہے، جبکہ نیپالی حدود میں 2,000 اور تبت میں 550 سے زائد افراد تاحال لاپتہ ہیں، جس کے باعث ہلاکتوں میں مزید دردناک اضافے کا شدید خدشہ ظاہر کیا جا رہا ہے۔ نیپال اور تبت میں ہنگامی حالت نافذ کر کے مقامی ریسکیو اداروں، افواج اور بین الاقوامی امدادی تنظیموں کی جانب سے وسیع پیمانے پر بحالی اور سرچ آپریشن جاری ہے۔

نیپال پولیس کی جانب سے جاری کردہ تازہ ترین سرکاری اعداد و شمار کے مطابق، نیپالی حدود میں سیلابی ریلوں اور لینڈ سلائیڈنگ کے نتیجے میں جاں بحق ہونے والے شہریوں کی تصدیق شدہ تعداد بڑھ کر 616 ہو گئی ہے۔ اس سے قبل نیپالی حکام نے ہلاکتوں کی تعداد 579 بتائی تھی، تاہم ملبے اور تباہ شدہ مکانات کی کھدائی کے دوران مزید لاشیں برآمد ہونے پر اعداد و شمار اپ ڈیٹ کر دیے گئے ہیں۔ دوسری جانب تبت کی سرحد پر چینی سرکاری میڈیا نے تصدیق کی ہے کہ سرحدی دیہاتوں میں سیلاب کی زد میں آ کر ہلاک ہونے والے چینی شہریوں کی سرکاری تعداد بڑھ کر 7 ہو گئی ہے جبکہ 554 افراد تاحال بے نشان اور لاپتہ ہیں، جن کی تلاش کے لیے ڈرون اور ریسکیو کتوں کی مدد لی جا رہی ہے۔

سیلاب کے بعد پیدا ہونے والے اس انسانی بحران کے تناظر میں بین الاقوامی برادری اور مختلف عالمی ممالک نے نیپال کی مدد کے لیے ہنگامی کارروائیاں اور امداد کا سلسلہ تیز کر دیا ہے۔ اقوام متحدہ کے ترجمان نے نیپار کی موجودہ صورتحال پر گہری تشویش کا اظہار کرتے ہوئے بتایا کہ متاثرہ علاقوں میں فوری طور پر 10 ہزار سے زائد خاندانوں کو خوراک، طبی امداد اور صاف پینے کے پانی کی شدید اور اضطراری ضرورت ہے۔ اقوام متحدہ کے مختلف ادارے متاثرین میں خیمے اور راشن کی تقیسم میں مصروف ہیں۔

دریں اثناء، یورپی یونین کینیڈا اور ریاستہائے متحدہ امریکہ سمیت دنیا کے متعدد اہم ممالک نے نیپال کے لیے کروڑوں ڈالر کے ہنگامی مالیاتی پیکج اور بنیادی امدادی سامان بھجوانے کا باقاعدہ اعلان کر دیا ہے۔ نیپالی حکومت کی جانب سے عالمی برادری کا شکریہ ادا کرتے ہوئے واضح کیا گیا ہے کہ دور دراز کے پہاڑی علاقوں میں مواصلاتی نظام درہم برہم ہونے اور سڑکیں تباہ ہو جانے کی وجہ سے ریسکیو کارروائیوں میں شدید مشکلات کا سامنا ہے، تاہم ہیلی کاپٹرز اور ڈرونز کے ذریعے لاپتہ 2,000 سے زائد افراد کی تلاش کے لیے دن رات آپریشن جاری رکھا جائے گا۔

نیپال اور تبت کی سرحد پر تباہ کن سیلاب: ہلاکتیں 489 ہو گئیں، سینکڑوں لاپتہ، جھیل پھٹنے کا نیا خطرہ

محمود احمد, August 28,2026

کھٹمنڈو (نیوز اینڈ نیوز) — 28 اگست 2026ء

نیپال اور تبت کے سرحدی خطے میں گلیشیئر انہدام اور لینڈ سلائیڈنگ کے بعد آنے والے تباہ کن سیلاب نے وسیع پیمانے پر ہولناک تباہی مچا دی ہے، جس میں سڑکیں زیرِ آب آ چکی ہیں، پل بہہ گئے ہیں اور درجنوں مکانات ملبے کا ڈھیر بن چکے ہیں۔ نیپالی حکام اور پولیس کی جانب سے جاری کردہ تازہ ترین معلومات کے مطابق سیلاب کی تباہ کاریوں کے نتیجے میں ہلاک ہونے والے افراد کی مجموعی تعداد بڑھ کر 489 تک پہنچ گئی ہے، جبکہ سینکڑوں افراد اب بھی لاپتہ ہیں جن کی تلاش کے لیے رشتہ دار اور امدادی ٹیمیں سرگرم ہیں۔ متاثرہ اضلاع میں فوج، پولیس اور ہنگامی امدادی ادارے ملبہ ہٹانے اور بند سڑکوں کو کھولنے کی کوششوں میں مصروف ہیں تاکہ دور دراز کے علاقوں تک ریسکیو کارروائیاں پہنچائی جا سکیں۔

صورتحال کو مزید سنگین بناتے ہوئے حکام نے ایک نئے تباہ کن سیلابی ریلے کا الرٹ جاری کر دیا ہے۔ خطرہ ظاہر کیا جا رہا ہے کہ بدھ کے روز لینڈ سلائیڈنگ کی وجہ سے پہاڑی علاقے میں بننے والی عارضی جھیل کسی بھی وقت پھٹ سکتی ہے، جس کے نتیجے میں نشیبی علاقوں کی جانب نیا سیلابی ریلہ آئے گا۔ اس خدشے کے پیشِ نظر ہنگامی طور پر لوگوں کی محفوظ مقامات پر منتقلی کو تیز کر دیا گیا ہے اور امدادی ادارے کسی بھی ناگہانی صورتحال سے نمٹنے کے لیے ہائی الرٹ پر ہیں۔ متاثرین کھلے آسمان تلے اپنے پیاروں کی تلاش اور بنیادی انسانی امداد کی فراہمی کے منتظر ہیں۔

نیپال میں سیلاب اور لینڈ سلائیڈنگ کی دوسری لہر کا خطرہ، ہلاکتیں 332 ہو گئیں: ماہرین کی شدید تشویش

محمود احمد, August 27,2026

کھٹمنڈو (نیوز اینڈ نیوز) — 27 اگست 2026ء

نیپال میں گلیشیئر انہدام سے آنے والے تباہ کن سیلاب کے بعد ماہرینِ ماحولیات نے مزید سیلابی ریلوں اور لینڈ سلائیڈنگ کے شدید خطرات سے خبردار کیا ہے۔ تازہ ترین اطلاعات کے مطابق اس قدرتی آفت میں جاں بحق ہونے والے افراد کی مجموعی تعداد بڑھ کر 332 تک پہنچ چکی ہے، جبکہ متاثرہ علاقوں میں نیپالی فوج، پولیس اور مقامی امدادی ٹیموں کا سرچ اینڈ ریسکیو آپریشن جاری ہے۔ تریبھوون یونیورسٹی کے ‘سینٹر فار ڈیزاسٹر اسٹڈیز’ کے ڈائریکٹر بسنت راج ادھیکاری نے عالمی ذرائع ابلاغ کو انٹرویو دیتے ہوئے انکشاف کیا ہے کہ ہمالیہ کے بالائی علاقوں کی موجودہ صورتحال کے پیش نظر آنے والے 24 سے 48 گھنٹوں میں سیلاب کی دوسری اور تیسری تباہ کن لہروں کا خدشہ موجود ہے، جو نچلے علاقوں کو دوبارہ لپیٹ میں لے سکتی ہیں۔

ڈائریکٹر بسنت راج ادھیکاری نے بتایا کہ اگرچہ فی الوقت میدانی علاقوں میں شدید بارش کا سلسلہ رکا ہوا ہے، تاہم پہاڑی تودے اور چٹانیں کھسکنے (لینڈ سلائیڈنگ) کے شدید خطرات بدستور برقرار ہیں جس سے ندی نالوں کے راستے مسدود ہو کر مزید تباہی پھیلا سکتے ہیں۔ نیپالی ماہرین چین میں موجود سائنسدانوں کے ساتھ مسلسل رابطے میں ہیں تاکہ ہمالیہ کے خطے میں رونما ہونے والی تبدیلیوں کی مانیٹرنگ کی جا سکے۔ سائنسدانوں کے مطابق موسمیاتی تبدیلی اور گلوبل وارمنگ کے باعث پہاڑی خطوں کا درجہ حرارت بڑھ رہا ہے جس سے برف اور چٹانیں غیر مستحکم ہو کر اتنی بڑی تباہی کا سبب بنیں۔ دوسری جانب تباہ شدہ پلوں اور سڑکوں کے باعث امدادی ٹیموں کو متاثرین تک پہنچنے میں دشواری کا سامنا ہے۔