جزیرہ لارک پر امریکی حملوں کے بعد تہران کا اردن اور امارات میں امریکی اڈوں پر جوابی حملہ؛ امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کا سخت جواب دینے کا اعلان

Spread the love

محمود احمد, August 31,2026

تہران/واشنگٹن (نیوز اینڈ نیوز) — 31 اگست 2026ء

ایران کی مسلح افواج کے جنرل سٹاف نے خطے کے تمام ممالک کو سخت اور واضح الفاظ میں خبردار کیا ہے کہ اگر ایران کے خلاف کسی بھی قسم کی عسکری کارروائی کے لیے ان کی سرزمین استعمال کی گئی تو تہران حکومت ایسے حملوں کا باعث بننے والے تمام ’ذرائع‘ کو بلا جھجھک نشانہ بنائے گی۔

ایرانی مسلح افواج کے جنرل سٹاف کی جانب سے جاری کردہ رسمی بیان میں کہا گیا ہے کہ بعض علاقائی اور پڑوسی ممالک اپنے سابقہ علانیہ مؤقف اور وعدوں کے باوجود امریکہ کو ایران کے خلاف جنگی کارروائیوں کے لیے اپنی حدود اور سرزمین استعمال کرنے کی اجازت دے رہے ہیں۔ بیان میں واضح کیا گیا کہ ایران اپنے تمام پڑوسی ممالک کی سرحدوں اور خودمختاری کا احترام کرتا ہے، تاہم وہ اپنے خلاف ہونے والی ’کسی بھی جارحیت کو ہرگز برداشت نہیں کرے گا‘ اور ایسے اقدامات کا پہلے سے ’مزید سخت جواب‘ دیا جائے گا۔

ایرانی عسکری حکام کے مطابق گزشتہ رات خطے میں کی جانے والی جوابی عسکری کارروائیاں بھی اسی واضح پالیسی کا تسلسل اور ردِعمل تھیں۔

یہ تند و تیز بیان ایسے وقت میں سامنے آیا ہے جب امریکہ نے اتوار کی شب خلیج فارس میں واقع تزویراتی لحاظ سے انتہائی اہم ایرانی جزیرے ‘لارک’ پر فضائی حملے کیے تھے۔ ایران کا کہنا ہے کہ اس امریکی کارروائی کے ردِعمل میں اس نے اردن اور متحدہ عرب امارات میں قائم امریکی عسکری اڈوں کو بیلسٹک میزائلوں اور ڈرونز کے ذریعے نشانہ بنایا ہے۔

دوسری جانب، ان جوابی حملوں پر ردِعمل دیتے ہوئے امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے باضابطہ بیان میں کہا ہے کہ امریکہ ان تمام ایرانی حملوں کو ’بغیر جواب‘ دیے ہرگز نہیں چھوڑے گا۔ امریکی صدر کا کہنا تھا کہ اردن اور امارات میں امریکی تنصیبات پر حملوں کی پاداش میں ایران کو امریکہ کی جانب سے انتہائی ‘سخت اور موثر جواب’ کا سامنا کرنا پڑے گا۔