

روزینہ اسماعیل, September 03,2026
اسلام آباد (نیوز اینڈ نیوز) — 3 ستمبر 2026ء
پاکستان میں اعلیٰ تعلیم کے معیار کو جدید ترین ٹیکنالوجی سے ہم آہنگ کرنے کے لیے ایک بڑا قدم اٹھاتے ہوئے، نیشنل اکیڈمی آف ہائر ایجوکیشن اور ہائر ایجوکیشن کمیشن نے سرکاری شعبے کی یونیورسٹیوں اور کالجوں کے اساتذہ کے لیے چار روزہ جامع تربیتی پروگرام کامیابی کے ساتھ مکمل کر لیا ہے۔
“اساتذہ کے لیے مصنوعی ذہانت کی آگاہی: مصنوعی ذہانت کے لیے تیار اداروں کی تعمیر” کے عنوان سے منعقدہ اس تربیتی پروگرام کا بنیادی مقصد سرکاری جامعات کے لیکچررز اور اسسٹنٹ پروفیسرز کو تعلیمی شعبے میں مصنوعی ذہانت کے مؤثر اور اخلاقی استعمال کے قابل بنانا تھا۔
ایچ ای سی کے جدید ‘سمارٹ کلاس روم نیٹ ورک’ کے تحت منعقدہ اس چار روزہ کورس میں اسلام آباد اور راولپنڈی کی جامعات سے تعلق رکھنے والے 32 اساتذہ نے ایچ ای سی ہیڈکوارٹر کے سمارٹ کلاس روم میں براہِ راست (آن سائیٹ) شرکت کی، جبکہ ملک بھر کی مختلف یونیورسٹیوں میں قائم سمارٹ کلاس رومز اور ویڈیو کانفرنس رومز کے ذریعے 300 سے زائد اساتذہ نے آن لائن اس تربیتی سیشن میں حصہ لیا اور ماہرین کے ساتھ سوال و جواب کیے اور فوری تفاعل گفتگو کی۔
اس اختراعی ٹریننگ کے دوران پروفیسروں اور لیکچررز کو نصاب کی جدید تشکیل، دروس کی منصوبہ بندی تدریسی مواد کی تیاری، سائنسی و تعلیمی تحریر، تحقیقی معاونت، طلبہ کی کارکردگی پر ڈیٹا اینالیٹکس، اور امتحانی جائزے جیسے مختلف شعبوں میں AI ٹولز کے عملی اطلاق اور “انسان اور کے باہمی تعامل” کے اصولوں کی تربیت فراہم کی گئی۔
اختتامی تقریب میں نیشنل اکیڈمی آف ہائر ایجوکیشن کی منیجنگ ڈائریکٹر ڈاکٹر نور آمنہ ملک نے بطور مہمانِ خصوصی شرکت کی اور شرکاء میں اسناد تقسیم کیں۔ اپنے خطاب میں انہوں نے کہا کہ مصنوعی ذہانت اعلیٰ تعلیم، ریسرچ اور علم کی تخلیق کے روایتی طریقوں کو تیزی سے بدل رہی ہے۔
ڈاکٹر نور آمنہ ملک نے زور دیا کہ جامعات کو اپنے اساتذہ اور طلبہ کو ای آئی سے لیس ماحول کے لیے فوری طور پر تیار کرنا ہو گا، تاہم انہوں نے انبہانہ انداز میں کہا کہ ٹیکنالوجی کے استعمال کے دوران تعلیمی معیار، اخلاقی تحفظات، انسانی بصیرت اور ادارہ جاتی ذمہ داری کو ہر صورت برقرار رکھنا ہو گا۔