خلیجی خطے اور بحیرہ احمر میں ڈرامائی کشیدگی: یورپی کمیشن کی صدر ارسلا وان ڈر لیئن کا خلیجی ممالک کی مکمل حمایت کا اعلان

Spread the love

برسلز (نیوز اینڈ نیوز) — 14 ستمبر 2026ء

مشرقِ وسطیٰ اور خلیجی خطے میں تیزی سے بدلتی ہوئی جیو پولیٹیکل صورتحال اور یمن میں حوثی جنگجوؤں کی حالیہ عسکری پیش قدمی کے پیشِ نظر یورپی یونین نے اپنے خلیجی شراکت داروں کے ساتھ مکمل یکجہتی کا باضابطہ اعلان کر دیا ہے۔

یورپی کمیشن کی صدر ارسلا وان ڈر لیئن (Ursula von der Leyen) نے سماجی رابطے کی ویب سائٹ ‘ایکس’ (سابقہ ٹوئٹر) پر جاری اپنے اہم بیان میں خلیجی خطے میں ایرانی حمایت یافتہ مسلح گروہوں کے حملوں کی پرزور الفاظ میں مذمت کی۔ انہوں نے واضح کیا کہ یورپی یونین اس بحرانی کیفیت میں اپنے خلیجی اتحادیوں کے ساتھ شانہ بشانہ کھڑی ہے، کیونکہ اس خطے کے امن و استحکام اور عالمی سلامتی میں یورپ سمیت پوری دنیا کے مفادات وابستہ ہیں۔

بحیرہ احمر اور عالمی تجارت پر بڑھتے ہوئے خطرات:

یورپی کمیشن کی صدر کا یہ بیان ایک ایسے وقت میں سامنے آیا ہے جب یمن میں حوثی گروپ اور سعودی عرب کی حمایت یافتہ یمنی حکومتی فورسز کے درمیان جھڑپوں میں یکدم شدید تیزی آئی ہے۔ اطلاعات کے مطابق حوثی جنگجوؤں نے کئی اہم محاذوں پر پیش قدمی کرتے ہوئے مخالف فورسز کو پیچھے دھکیل دیا ہے۔

اس پیش قدمی نے بحیرہ احمر (Red Sea) اور بالخصوص اہم ترین تجارتی بحری گزرگاہ ‘آبنائے باب المندب’ کی سلامتی کو شدید خطرات سے دوچار کر دیا ہے۔ یورپی ممالک کے لیے یہ صورتحال انتہائی حساس ہے، کیونکہ بحیرہ احمر کے راستے سے ہی یورپ اور ایشیا کے درمیان اربوں ڈالر کا بین الاقوامی تجارتی سامان اور خام تیل منتقل ہوتا ہے۔

تہران کا موقف اور متضاد دعوے:

دوسری جانب ایران کی جانب سے مسلسل ان الزامات کی تردید کی جا رہی ہے۔ تہران کا موقف ہے کہ وہ یمن میں حوثی گروپ کی عسکری کارروائیوں کی براہِ راست ہدایت کاری یا کنٹرول نہیں کرتا۔ تاہم عالمی برادری اور یورپی یونین خطے میں مسلح گروہوں کی بڑھتی ہوئی کارروائیوں پر مسلسل تہران کو ذمہ دار گردانتے ہیں۔

انسان دوست بحران اور بین الاقوامی تشویش:

عسکری پیش قدمی کے ساتھ ساتھ یمن میں انسانی بحران ایک بار پھر شدت اختیار کر رہا ہے۔ اقوام متحدہ کے اداروں کے مطابق تازہ ترین لڑائی اور تصادم کے نتیجے میں ہزاروں مقامی افراد اپنے گھروں سے بے دخل ہو کر نقل مکانی پر مجبور ہوئے ہیں، جس سے متاثرہ علاقوں میں انسانی امداد اور ادویات کی ضرورت میں بے پناہ اضافہ ہو گیا ہے۔

بین الاقوامی معاشی تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ اگر بحیرہ احمر کی گزرگاہوں پر کشیدگی برقرار رہتی ہے تو اس سے عالمی سپلائی چین متاثر ہو سکتی ہے اور توانائی و اشیائے خوردونوش کی قیمتوں میں نیا اضافہ دیکھنے کو مل سکتا ہے۔

نیوز اینڈ نیوز کی وضاحت:

یہ خبر یورپی کمیشن برسلز کے آفیشل ہینڈل، پریس بریفنگز، اقوام متحدہ کے یمن کے لیے انسانی امدادی سیل اور عالمی خبر رساں اداروں کی بین الاقوامی رپورٹس کی روشنی میں ہمارے پالیسی فریم ورک کے مطابق مرتب کی گئی ہے۔

ماخذ: یورپی کمیشن برسلز میڈیا سیل، رائٹرز، اقوام متحدہ (UN) یمن ڈیسک۔