یمن کے جنوب مغربی علاقوں میں حوثیوں اور حکومتی فورسز میں خونریز جھڑپیں: 60 سے زائد افراد ہلاک

محمود احمد, September 05,2026

تعز / عدن (نیوز اینڈ نیوز) — 5 ستمبر 2026ء

یمن کے جنوب مغربی اور ساحلی علاقوں میں سعودی عرب کی حمایت یافتہ بین الاقوامی سطح پر تسلیم شدہ یمنی حکومتی فورسز اور حوثی جنگجوؤں کے درمیان گھماسان کی جنگ چھڑ گئی ہے، جس کے نتیجے میں عام شہریوں سمیت 60 سے زائد افراد ہلاک ہو چکے ہیں۔

فرانسیسی خبر رساں ادارے ‘اے ایف پی’ نے طبی اور عسکری ذرائع کے حوالے سے رپورٹ کیا ہے کہ مسلسل کئی گھنٹوں تک جاری رہنے والے اس ہولناک تصادم میں یمنی حکومتی فورسز کے کم از کم 26 اہلکار ہلاک ہوئے، جبکہ انصار اللہ (حوثی) ذرائع نے اپنے 31 مسلح جنگجوؤں کی ہلاکت کا اعتراف کیا ہے۔

حکومت کے زیرِ انتظام اور محاصرے میں گھِرے شہر تعز میں طبی حکام نے انکشاف کیا ہے کہ ایک مسافر بس پر ناگہانی میزائل حملے کے نتیجے میں 6 عام شہری ہلاک اور 7 افراد شدید زخمی ہو گئے۔ اگرچہ اس ہولناک حملے کی ذمہ داری کے حوالے سے آزادانہ ذرائع سے فوری طور پر کوئی باضابطہ تصدیق سامنے نہیں آ سکی ہے۔

رپورٹس کے مطابق حالیہ جنگ یمن کے مغربی اور جنوب مغربی پٹی پر بیک وقت کئی اہم محاذوں پر شدت اختیار کر چکی ہے۔ حوثی فورسز اس وقت ملک کے زیادہ تر شمالی علاقوں، دارالحکومت صنعاء اور بحیرۂ احمر کے مغربی ساحلی پٹی کے بڑے حصے پر قابض ہیں، جبکہ صدارتی لیڈرشپ کونسل کے زیرِ انتظام مشرقی اضلاع اور بندرگاہی شہر عدن سمیت جنوبی ساحلی علاقے شامل ہیں۔

تازہ ترین اطلاعات کے مطابق یمنی حکومتی فورسز نے تعز کے مغربی علاقوں میں سخت جوابی کارروائی کرتے ہوئے بعض اہم پہاڑی مقامات پر دوبارہ اپنا کنٹرول قائم کرنے کا دعویٰ کیا ہے۔ یہ پہاڑی سلسلے باب المندب اور بحیرۂ احمر کی اہم عالمی بحری گزرگاہوں اور تجارتی راستوں کی نگہبانی کے حوالے سے انتہائی تزویراتی اور ملٹری اہمیت رکھتے ہیں۔

حوثی عسکریت پسندوں کا راکٹوں اور ڈرونز سے اچانک زمینی حملہ؛ جواب میں یمنی فورسز کی سخت جوابی کارروائی

محمود احمد, September 04,2026

صنعاء / تعز (نیوز اینڈ نیوز) — 4 ستمبر 2026ء

بین الاقوامی میڈیا رپورٹس کے مطابق جمعرات کے روز سے بحیرہ احمر کے ساحلی علاقوں اور تعز شہر کے قریب حوثی جنگجوؤں اور بین الاقوامی سطح پر تسلیم شدہ یمنی سرکاری افواج کے درمیان شدید اور خونریز جھڑپیں جاری ہیں، جن میں دونوں جانب سے کم از کم 81 فوجی اور جنگجو ہلاک ہو چکے ہیں۔

بحیرہ احمر کے ساحلی علاقے میں تعینات یمنی فوج کے ایک سینئر عہدیدار نے تصدیق کی ہے کہ حوثی حملوں کے خلاف لڑتے ہوئے ان کی فورسز کے 24 اہلکار ہلاک ہوئے ہیں، جبکہ تعز کے محاذ پر موجود ایک اور فوجی حکمران نے مزید 15 یمنی اہلکاروں کی ہلاکت کی اطلاع دی ہے۔

فرانسیسی خبر رساں ادارے (اے ایف پی) نے حوثیوں کے زیرِ کنٹرول علاقوں میں طبی اور ہسپتال کے ذرائع کے حوالے سے رپورٹ کیا ہے کہ یمنی سرکاری افواج کی جوابی کارروائی میں حوثی مسلح گروہ کے کم از کم 42 ارکان بھی ہلاک ہوئے ہیں۔

موصولہ اطلاعات کے مطابق یہ خونی لڑائی اس وقت شروع ہوئی جب حوثی فورسز نے تعز کے علاقے اور بحیرہ احمر کی ساحلی پٹی کے آس پاس قائم سرکاری فوج کے مواضع پر راکٹوں اور جدید ڈرونز کی مدد سے اچانک شدید زمینی حملہ کر دیا۔ یمنی فوج نے حملے کو ناکام بنانے کے لیے جوابی کارروائی کی، جس کے بعد دونوں فریقین کے درمیان شدید گولا باری کا سلسلہ شروع ہو گیا۔

بحیرۂ احمر میں تناؤ: سعودی بندرگاہ ینبع کے قریب آئل ٹینکر پر میزائل حملہ، عرشے پر آگ بھڑک اٹھی

محمود احمد, August 24,2026

جدہ/تہران (نیوز اینڈ نیوز) — 24 اگست 2026ء

سعودی عرب کے مغربی ساحل پر واقع سٹریٹجک اہمیت کی حامل بندرگاہ ینبع کے قریب ایک تیل بردار جہاز (آئل ٹینکر) نا معلوم سمت سے آنے والے میزائل کا نشانہ بن گیا۔ برطانوی بحری تجارتی کارروائیوں کے ادارے ‘یو کے ایم ٹی او’ کی جانب سے جاری کردہ ہنگامی الرٹ کے مطابق، حملے کے نتیجے میں آئل ٹینکر کے عرشے (ڈیک) پر شدید آگ بھڑک اٹھی، جس پر قابو پانے کے لیے فوری کارروائی کی گئی۔

یو کے ایم ٹی او کی ابتدائی رپورٹ کے مطابق، یہ حملہ ینبع پورٹ کے مغرب میں سمندر میں پیش آیا۔ تاہم خوش آئند بات یہ ہے کہ بحری جہاز کے عملے کے تمام ارکان مکمل طور پر محفوظ ہیں اور کسی جانی نقصان یا سمندر میں تیل کے اخراج سے ہونے والے ماحولیاتی نقصان کی فوری اطلاعات نہیں ملی ہیں۔ ادارے نے فی الحال سیکیورٹی اور تحقیقاتی وجوہات کی بناء پر متاثرہ آئل ٹینکر کی ملکیت یا اس کے پرچم کی تفصیلات عام نہیں کی ہیں۔

ینبع کی بندرگاہ سعودی عرب کی اہم ترین آئل ایکسپورٹ ٹرمینلز اور صنعتی مراکز میں شمار ہوتی ہے، جو بحیرۂ احمر کے ذریعے خام تیل کی عالمی ترسیل میں مرکزی کردار ادا کرتی ہے۔ یہ حملہ ایک ایسے وقت میں ہوا ہے جب امریکہ کی جانب سے ایران پر مزید سخت اقتصادی پابندیوں کے اعلان اور ایران کی جانب سے جواباً خطے سے تیل کی ترسیل روکنے اور آبنائے ہرمز و بحیرۂ احمر کے بحری راستوں کو متاثر کرنے کی دھمکیوں کے باعث مشرقِ وسطیٰ میں سیکیورٹی صورتحال انتہائی کشیدہ ہے۔

اگرچہ اس حملے کی ذمہ داری فوری طور پر کسی نے قبول نہیں کی ہے، لیکن ماضی میں یمن کے حوثی باغیوں کی جانب سے سعودی بندرگاہوں اور بحیرۂ احمر سے گزرنے والے تجارتی و آئل ٹینکرز پر ڈرون اور میزائل حملے کیے جاتے رہے ہیں۔ حوثی گروپ کی جانب سے ماضی میں سعودی عرب کی جانب سے کی جانے والی معاشی ناکہ بندی کے جواب میں بحیرۂ احمر کو نشانہ بنانے کے دعوے کیے جاتے رہے ہیں۔

بین الاقوامی بحری سیکیورٹی اداروں نے اس واقعے کے بعد بحیرۂ احمر اور باب المندب کی شاہراہ سے گزرنے والے تمام تجارتی جہازوں اور آئل ٹینکرز کو شدید محتاط رہنے اور الرٹ کی سطح بلند رکھنے کی ہدایت کی ہے۔ اس تازہ ترین واقعے سے بین الاقوامی مارکیٹ میں خام تیل کی فراہمی اور بحری تجارت کی حفاظت سے متعلق تحفظات میں مزید اضافہ ہو گیا ہے۔

اقوامِ متحدہ میں پاکستان کے مستقل مندوب سفیر عاصم افتخار احمد کا یمن کے حوالے سے سلامتی کونسل سے خطاب: بحیرہ احمر میں پاکستانی عملے کی ہلاکت اور تجارتی جہاز پر حوثی حملے کی شدید مذمت

محمود احمد, August 14,2026

نیویارک (نیوز اینڈ نیوز) — 13 اگست 2026ء

اقوامِ متحدہ میں پاکستان کے مستقل مندوب سفیر عاصم افتخار احمد نے سلامتی کونسل کے بریفنگ اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے یمن کی بدلتی صورتحال پر گہری تشویش کا اظہار کیا ہے اور بحیرہ احمر میں تجارتی جہاز پر حوثیوں کے حملے میں پاکستانی شہریوں کی شہادت کی شدید مذمت کرتے ہوئے بین الاقوامی بحری حدود کی سلامتی کو یقینی بنانے کا مطالبہ کیا ہے۔

سلامتی کونسل کے اجلاس سے خطاب کے دوران پاکستانی مندوب نے 11 اگست کو تجارتی جہاز پر حوثیوں کے حملے کا حوالہ دیتے ہوئے بتایا کہ اس المناک کارروائی کے نتیجے میں 3 پاکستانی اور 1 انڈونیشیائی شہری جاں بحق جبکہ 7 دیگر افراد زخمی ہوئے۔ انہوں نے کہا کہ تجارتی جہاز رانی پر اس نوعیت کے حملے عالمی تجارت، آزادیٔ جہاز رانی اور علاقائی سلامتی کے لیے شدید خطرہ ہیں، لہٰذا بین الاقوامی قانون کے تحت سمندری کارکنوں کے تحفظ اور بحری امور کے احترام کو ہر صورت یقینی بنایا جانا چاہیے۔

سفیر عاصم افتخار احمد نے یمن میں اپریل 2022ء کی جنگ بندی کے بعد قائم ہونے والے نسبتاً پُرسکون ماحول کو درپیش خطرات پر تشویش کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ کشیدگی میں کمی اور اقوامِ متحدہ کی سرپرستی میں ایک قابلِ اعتماد سیاسی عمل کی بحالی وقت کی اہم ترین ضرورت ہے۔ انہوں نے حوثیوں کی جانب سے اقوامِ متحدہ کے اہلکاروں، انسانی ہمدردی کا کام کرنے والے کارکنوں اور سفارتی عملے کی من مانی حراست کی سخت الفاظ میں مذمت کی اور ان کی فوری و غیر مشروط رہائی کا مطالبہ کیا۔

پاکستانی مندوب نے واضح کیا کہ یمن کا پائیدار، جامع اور پرامن حل صرف یمنی قیادت کی ملکیت پر مبنی سیاسی عمل کے ذریعے ہی ممکن ہے جو ملک کے اتحاد، خودمختاری اور علاقائی سالمیت کے احترام پر استوار ہو۔ انہوں نے عالمی برادری اور تمام فریقین پر زور دیا کہ وہ انتہائی تحمل کا مظاہرہ کریں تاکہ یمن کے عوام کو تشدد کے ایک اور تباہ کن دور سے بچایا جا سکے اور انسانی بحران کے حل کے لیے مالی وسائل کی فراہمی یقینی بنائی جائے۔