مقبوضہ مغربی کنارے میں نئی یہودی بستیوں کی تعمیر کا منصوبہ: یورپی یونین کا اسرائیل سے ٹینڈرز کی فوری واپسی کا مطالبہ

محمود احمد, August 24,2026

برسلز (نیوز اینڈ نیوز) — 24 اگست 2026ء

یورپی یونین نے اسرائیلی حکومت پر شدید زور دیا ہے کہ وہ مقبوضہ مغربی کنارے کے حساس زون’ میں نئی یہودی بستیوں کی تعمیر سمیت دیگر تمام توسیعی منصوبوں کو فوری طور پر منسوخ کرے۔ بین الاقوامی خبر رساں ادارے کے مطابق یہ اہم مطالبہ ‘یورپی ایکسٹرنل ایکشن سروس’ کی جانب سے جاری کردہ ایک اہم رسمی بیان میں سامنے آیا ہے۔

یورپی یونین نے اسرائیل پر زور دیا ہے کہ وہ سائیٹل منٹ پروجیکٹ کے تحت 1,200 سے زائد نئے رہائشی یونٹس کی تعمیر کے لیے حال ہی میں جاری کردہ ٹینڈر نوٹس کو بغیر کسی تاخیر کے واپس لے۔ بیان میں بالکل واضح کیا گیا ہے کہ فلسطینی اراضی پر کسی بھی قسم کی جدید یا توسیعی تعمیرات بین الاقوامی قوانین، معاہدو ں اور اقوامِ متحدہ کی قراردادوں کی کھلی خلاف ورزی ہیں۔

یورپی ایکسٹرنل ایکشن سروس کے مطابق، زون میں غیر قانونی یہودی بستیوں کا یہ منصوبہ دو ریاستی حل کے امکانات کو بنیادی اور تاریخی طور پر شدید نقصان پہنچاتا ہے۔ یورپی یونین نے اسرائیل سے مطالبہ کیا ہے کہ وہ نہ صرف تمام تر تعمیراتی ٹینڈرز واپس لے بلکہ فلسطینی شہریوں پر تشدد اور غیر قانونی اقدامات کرنے والے انتہا پسند اسرائیلی آبادکاروں کو سخت قانونی جوابدہی کے کٹہرے میں لائے۔

سابق ایسٹونین وزیراعظم سیم کالاس کا انتقال: نائب وزیراعظم اسحاق ڈار کا کایا کالاس سے دلی تعزیت کا اظہار

منصور احمد, August 23,2026

اسلام آباد (نیوز اینڈ نیوز) — 23 اگست 2026ء

پاکستان کے نائب وزیرِ اعظم اور وزیرِ خارجہ سینیٹر محمد اسحاق ڈار نے سابق وزیرِ اعظم ایسٹونیا اور یورپی یونین کی خارجہ امور و سلامتی پالیسی کی اعلیٰ نمائندہ کایا کالاس کے والد، سیم کالاس کے انتقال پر گہرے دکھ اور افسوس کا اظہار کیا ہے۔

سوشل میڈیا پلیٹ فارم ایکس (سابقہ ٹوئٹر) پر جاری کردہ اپنے تعزیتی بیان میں نائب وزیرِ اعظم نے کہا کہ وہ حکومتِ پاکستان، پاکستانی عوام اور اپنی جانب سے کایا کالاس اور ان کے تمام غمزدہ اہلِ خانہ سے دلی تعزیت اور یکجہتی کا اظہار کرتے ہیں۔ انہوں نے مزید کہا کہ اس مشکل اور غم کی گھڑی میں ان کی تمام تر دعائیں اور ہمدردیاں مرحوم کے لواحقین اور ایسٹونیا کے عوام کے ساتھ ہیں۔

سیم کالاس ایسٹونیا کی سیاست اور یورپی یونین کے قیام و انتظامی عمل کے ایک نامور اور سینئر ترین سیاسی رہنما تھے، جنہوں نے سنہ 2002ء سے 2003ء تک ایسٹونیا کے وزیرِ اعظم کے طور پر خدمات انجام دیں اور بعد ازاں یورپی کمیشن کے نائب صدر بھی رہے۔ وہ 77 برس کی عمر میں انتقال کر گئے ہیں، جس پر عالمی اور یورپی رہنماؤں کی جانب سے تعزیتی پیغامات کا سلسلہ جاری ہے۔

جی ایس پی پلس کا درجہ پاکستان کے لیے زبردست موقع، انسانی حقوق اور قانون کی حکمرانی ترجیح ہے: وفاقی وزیر قانون اعظم نذیر تارڑ

محمود احمد, August 12,2026

اسلام آباد (نیوز اینڈ نیوز) — 12 اگست 2026ء

وفاقی وزیر قانون، انصاف و انسانی حقوق سینیٹر اعظم نذیر تارڑ نے کہا ہے کہ جی ایس پی پلس کا درجہ پاکستان کے لیے ایک زبردست اور اہم موقع ہے، پاکستان میں انسانی حقوق کے تحفظ اور قانون کی حکمرانی کو بنیادی اہمیت حاصل ہے جبکہ اس سلسلے میں تمام ضروری قانونی و ادارہ جاتی اصلاحات پر کام تیزی سے جاری ہے۔

بدھ کے روز یورپی یونین کے سفیر رائمونڈاس کاروبلس سے وفد کے ہمراہ ہونے والی اہم ملاقات کے دوران وفاقی وزیر اعظم نذیر تارڑ نے ان خیالات کا اظہار کیا۔ اس موقع پر وزیر مملکت برائے قانون بیرسٹر عقیل ملک اور سیکریٹری وزارت انسانی حقوق بھی موجود تھے۔ ملاقات کے دوران پاکستان اور یورپی یونین کے باہمی تعلقات، جی ایس پی پلس اسٹیٹس، انسانی حقوق سے متعلق ترجیحات، قومی ایکشن پلان 2026ء پر عملدرآمد اور دیگر متعلقہ اداروں کی استعداد کار بڑھانے سے متعلق تفصیلی گفتگو کی گئی۔

وفاقی وزیر نے یورپی یونین کے وفد کو بچوں اور اقلیتوں کے حقوق اور تحفظ سے متعلق حکومتی اقدامات سے آگاہ کرتے ہوئے بتایا کہ ملک میں چائلڈ لیبر، کم عمری کی شادی اور اقلیتوں کے حقوق کی صورتحال میں نمایاں بہتری آئی ہے، جبکہ اقلیتوں سے متعلق قومی کمیشن کو بھی جلد مکمل طور پر فعال کیا جا رہا ہے۔ انہوں نے کہا کہ بچوں پر تشدد، زیادتی کے کیسز اور صنفی امتیاز کے خاتمے کے لیے حکومت انتہائی سنجیدہ اور عملی اقدامات اٹھا رہی ہے۔

سینیٹر اعظم نذیر تارڑ نے اس عزم کا اعادہ کیا کہ پاکستان یورپی یونین کے ساتھ مل کر جمہوری اقدار اور انسانی حقوق کے فروغ کے لیے پرعزم ہے اور جی ایس پی پلس کی ترجیحات پر مزید مؤثر پیش رفت کی جائے گی۔ اس موقع پر یورپی یونین کے سفیر رائمونڈاس کاروبلس نے انسانی حقوق کی شقوں پر عملدرآمد میں پاکستان کی پیش رفت کی تعریف کی جبکہ دونوں جانب سے باہمی تعاون کو مزید مضبوط بنانے پر اتفاق کیا گیا۔

سپیکر قومی اسمبلی سردار ایاز صادق سے یورپی پارلیمنٹ کے رکن اوندرے دوستال کی ملاقات، دوطرفہ تعلقات اور پارلیمانی روابط کے فروغ پر تبادلہ خیال

کاشف عباسی , August 10,2026

اسلام آباد (نیوز اینڈ نیوز) — 10 اگست 2026ء

سپیکر قومی اسمبلی سردار ایاز صادق سے ممبر یورپین پارلیمنٹ اوندرے دوستال نے پارلیمنٹ ہاؤس میں اہم ملاقات کی، جس میں پاکستان اور یورپی یونین کے دوطرفہ تعلقات، پارلیمانی سفارت کاری اور اہم علاقائی و عالمی امور پر تفصیل سے بات چیت کی گئی۔

ملاقات کے دوران گفتگو کرتے ہوئے سپیکر سردار ایاز صادق نے کہا کہ پاکستان یورپی یونین کے ساتھ اپنے تعلقات کو انتہائی قدر کی نگاہ سے دیکھتا ہے اور دونوں ایوانوں کے درمیان پارلیمانی روابط اور باہمی تعاون کو مزید وسعت دینے کے وسیع مواقع موجود ہیں۔ انہوں نے کہا کہ موجودہ قومی اسمبلی نے قانون سازی، پارلیمانی اصلاحات اور عوامی فلاح کے امور پر نمایاں پیشرفت کی ہے، جبکہ خواتین و بچوں کے حقوق اور پائیدار ترقی کے اہداف کے لیے خصوصی کاکس اور سیکرٹریٹ فعال طور پر کام کر رہے ہیں۔

موسمیاتی تبدیلیوں پر بات کرتے ہوئے سپیکر نے کہا کہ پاکستان گرین ہاؤس گیسوں کے اخراج میں انتہائی کم حصہ رکھنے کے باوجود عالمی موسمیاتی تبدیلیوں کے منفی اثرات سے سب سے زیادہ متاثر ہونے والے ممالک میں شامل ہے۔ اس حوالے سے قومی اسمبلی کا ‘گرین پارلیمنٹ منصوبہ’ ماحولیاتی تحفظ اور قابلِ تجدید توانائی کے فروغ کا عملی ثبوت ہے۔

سردار ایاز صادق نے مزید کہا کہ پنجاب میں اساتذہ کی تربیت، فنی و پیشہ ورانہ تعلیم اور دیگر شعبوں میں اصلاحات قابلِ تحسین ہیں۔ پاکستان کے پاس باصلاحیت اور ہنرمند افرادی قوت موجود ہے جس سے یورپی یونین تعلیمی اور روزگار کے شعبوں میں استفادہ کر سکتی ہے۔ انہوں نے واضح کیا کہ پاکستان دنیا بھر میں پائیدار امن کا خواہاں ہے اور تمام تنازعات کا حل مذاکرات کے ذریعے چاہتا ہے، جیسا کہ ایران اور امریکہ کے درمیان کشیدگی کے خاتمے کے لیے پاکستان کا ثالثی کا کردار اس عزم کی روشن مثال ہے۔

یورپی پارلیمنٹ کے رکن اوندرے دوستال نے علاقائی امن، پارلیمانی سفارت کاری اور بین الاقوامی تعاون کے لیے پاکستان کی کوششوں کو سراہتے ہوئے کہا کہ یورپی یونین اور پاکستان کے دوستانہ تعلقات انتہائی اہمیت کے حامل ہیں۔ انہوں نے پاکستان کے شمالی علاقہ جات کے قدرتی حسن کی بھی تعریف کی۔

یورپی یونین کا روس پر پابندیوں کا طریقہ کار تبدیل کرنے پر غور؛ فنانشل ٹائمز کا انکشاف

محمود احمد, JULY 27,2026

لندن (نیوز اینڈ نیوز) — 27 جولائی 2026ء

یورپی یونین روس کے خلاف اقتصادی و سیاسی پابندیاں عائد کرنے کے اپنے برسوں پرانے اور روایتی فریم ورک میں بنیادی تبدیلیوں پر سنجیدگی سے غور کر رہی ہے۔ برطانوی اخبار ’فنانشل ٹائمز‘ کی ایک تفصیلی رپورٹ کے مطابق، برسلز میں پالیسی ساز اب اس نتیجے پر پہنچے ہیں کہ پابندیوں کی منظوری کے موجودہ نظام میں اہم اصلاحات کی شدید ضرورت ہے۔ یہ صورتِ حال اور پیش رفت اس وقت سامنے آئی جب یونان نے روس کے خلاف پابندیوں کے حالیہ اور انتہائی اہم پیکج کی منظوری کو مسلسل کئی ہفتوں تک روکے رکھا اور بلاآخر اپنی معیشت اور نجی شعبے کی بقا کی خاطر ایک بڑی کامیابی حاصل کی۔ رپورٹس کے مطابق، یونانی حکومت نے یورپی یونین کے اجلاسوں میں اس وقت تک نئے پابندیوں کے مسودے کی تائید اور توثیق سے صاف انکار کر دیا تھا جب تک کہ دیگر تمام یورپی ممبر ممالک نے یونان کی ایک معروف اور بڑی شپنگ کمپنی ’ڈائنا گیس‘ کو روس کے ساتھ تجارت کے حوالے سے خصوصی استثنا دینے پر مکمل رضامندی ظاہر نہیں کی۔

فنانشل ٹائمز نے اپنی رپورٹ میں اس بات کو اجاگر کیا ہے کہ یونان کا بنیادی مقصد اپنی کمپنی کے بحری جہازوں کو اس بات کی قانونی اجازت دلوانا تھا کہ وہ یورپی یونین کی حد سے باہر کے تیسرے ممالک تک روسی مائع قدرتی گیس کی تجارتی ترسیل بلا تعطل جاری رکھ سکیں۔ یونانی حکام کا موقف تھا کہ اگر ان کی شپنگ انڈسٹری پر یہ یکطرفہ پابندیاں نافذ کی گئیں تو اس سے نہ صرف یونانی معیشت کو اربوں ڈالر کا ناقابلِ تلافی نقصان پہنچے گا بلکہ عالمی سطح پر توانائی کی سپلائی چین بھی شدید متاثر ہوگی۔ فنانشل ٹائمز کے مطابق، یہ یورپی یونین کی تاریخ میں پہلا موقع ہے کہ روس کے خلاف اجتماعی اور متفقہ اقتصادی پابندیوں کے فریم ورک کے دوران کسی مخصوص ملک کی درخواست پر ایک خاص تجارتی کمپنی کو یوں واضح اور بڑی نرمی دی گئی ہے۔ اس واقعے نے بلاواسطہ طور پر اس حقیقت کو بھی طشت از بام کر دیا ہے کہ ماسکو کے خلاف برسلز کی جانب سے عائد کی جانے والی اقتصادی پابندیوں کے اثرات اور نقصانات یورپی یونین کے تمام 27 رکن ممالک پر ایک جیسے مرتب نہیں ہوتے، بلکہ ساحلی اور تجارتی لحاظ سے متحرک ممالک کو اس کا زیادہ معاشی خمیازہ بھگتنا پڑتا ہے۔

یونان کی جانب سے ملنے والی اس کامیابی اور مسلسل تاخیر کے بعد، اب برسلز کے اعلیٰ حکام اور یورپی کمیشن میں اس بنیادی نقطے پر گہرا غور و خوض جاری ہے کہ مستقبل میں روس یا کسی بھی دیگر ملک کے خلاف پابندیوں کا منظوری کا عمل کس طرح پیش کیا جائے۔ یورپی سفارت کاروں کے مطابق، اب یہ تجویز زیرِ غور ہے کہ آئندہ ایک ہی بڑا، پیچیدہ اور جامع پابندیوں کا پیکج لانے کے بجائے چھوٹے، انفرادی اور مخصوص موضوعاتی پیکجز تیار کر کے انہیں مرحلہ وار منظور کروایا جائے۔ اس نئی مجوزہ حکمتِ عملی کا بنیادی مقصد یہ ہے کہ اگر مستقبل میں کسی ایک یا دو رکن ممالک کو کسی مخصوص شعبے پر تحفظات ہوں یا وہ اپنے قومی معاشی مفادات کی خاطر ویٹو پاور کا استعمال یا فیصلے میں تاخیر کریں، تو اس کے باعث پورے پابندیوں کے پلان اور دیگر اہم شقوں کی منظوری بالکل معطل نہ ہو جائے۔ تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ اگر یورپی یونین اس نئے طریقہ کار کو اپناتی ہے تو یہ یورپی اتحاد کی خارجہ پالیسی اور فیصلوں کی رفتار کو تیز کرنے میں مددگار ثابت ہو سکتا ہے، تاہم اس سے یہ بات بھی ثابت ہوتی ہے کہ روسی توانائی پر یورپی ممالک کا انحصار اور معاشی ترجیحات اب بھی اتحاد کی یکجہتی پر حاوی دکھائی دیتی ہیں۔