ایرانی عوام کی مزاحمت نے دشمن کے اندازے غلط ثابت کیے، محمد باقر قالیباف

Spread the love

محمود احمد, September 15,2026

تہران (نیوز اینڈ نیوز) — 15 ستمبر 2026ء

ایرانی پارلیمان کے سپیکر محمد باقر قالیباف نے کہا ہے کہ امریکا اور اسرائیل کے ساتھ جنگ کے آغاز کے بعد 200 راتوں تک ایرانی عوام کی سڑکوں پر مسلسل موجودگی نے یہ ثابت کر دیا ہے کہ شکست ایرانی قوم کے عزم کی نہیں بلکہ جارح قوتوں کے غلط اندازوں کی ہوئی ہے۔

ایرانی خبر رساں ادارے (ارنا) کے مطابق قوم کے نام اپنے خصوصی پیغام میں محمد باقر قالیباف نے کہا کہ دشمن کا خیال تھا کہ فوجی جارحیت کے ذریعے ایرانی عوام کے حوصلے توڑے جا سکتے ہیں، تاہم عوام کے بلند حوصلے نے ثابت کیا کہ اسلامی جمہوریہ ایران کی اصل طاقت اس کا عوام پر اعتماد ہے۔ انہوں نے کہا کہ ایران کی دفاعی صلاحیتیں اور سفارتی کوششیں عوام کے ایمان اور حمایت پر مبنی ہیں، جس نے ملک کو تقسیم اور کمزور کرنے کی ہر بیرونی کوشش کو ناکام بنا دیا ہے۔

تاریخی تجربات اور قومی اتحاد:

قالیباف نے واضح کیا کہ داخلی اختلافات اور بیرونی دباؤ تقریباً نو کروڑ ایرانیوں کے اپنے وطن اور قومی مفادات کے ساتھ گہرے تعلق کو ختم نہیں کر سکتے۔ ان کے مطابق ایرانی انقلاب، ایران عراق جنگ کے “مقدس دفاع” اور حالیہ معرکوں کے تجربات شاہد ہیں کہ بیرونی دشمنوں کا مقابلہ کرنے میں عوامی مزاحمت ہی ایران کی کامیابی کا بنیادی عنصر رہی ہے۔ انہوں نے ملکی صورتحال کو صرف عسکری محاذ تک محدود رکھنے کے بجائے عوامی حمایت، دفاعی صلاحیت اور سفارت کاری کے باہمی اشتراک پر زور دیا۔

خطے کی صورتحال اور جنگ کا پس منظر:

امریکا اور اسرائیل کی جانب سے 28 فروری 2026ء کو ایران کے خلاف شروع کی گئی مشترکہ عسکری کارروائی کے بعد خطے میں شدید کشیدگی برقرار ہے۔ جنگ کے دوران حملوں اور جوابی کارروائیوں کا سلسلہ جاری رہا۔ ایرانی حکام کے مطابق اس دوران رہبرِ انقلاب آیت اللہ سید علی خامنہ ای اور متعدد اعلیٰ عسکری کمانڈروں کی ہلاکتیں ہوئیں، جبکہ جنوبی ایران کے شہر میناب میں ایک اسکول کو بھی نشانہ بنایا گیا۔

ایرانی سپیکر نے اپنے پیغام کے اختتام پر دہرایا کہ موجودہ کٹھن حالات میں بھی قومی اتحاد اور عوامی مزاحمت ہی ایران کی سیاسی اور دفاعی بقا کا اصل سرچشمہ ہیں۔

نیوز اینڈ نیوز کی وضاحت:

یہ خبر ایرانی خبر رساں ادارے (IRNA)، رائٹرز (Reuters) کی بین الاقوامی رپورٹس اور تہران میں پارلیمانی ڈیسک کے جاری کردہ بیانات کے مطابق ایڈیٹوریل پالیسی کے تحت تدوین کی گئی ہے۔

ماخذ: ارنا (IRNA) تہران، رائٹرز، بین الاقوامی ڈیسک۔