پاکستان میں گزشتہ سیلابوں سے 7 ہزار اموات اور 4 کروڑ افراد بے گھر ہوئے: وفاقی وزیر ڈاکٹر مصدق ملک

Spread the love

منصور احمد,September 15,2026

اسلام آباد (نیوز اینڈ نیوز) — 15 ستمبر 2026ء

وفاقی وزیر موسمیاتی تبدیلی و ماحولیاتی ہم آہنگی ڈاکٹر مصدق ملک نے کہا ہے کہ پاکستان میں گزشتہ چار سے پانچ تباہ کن سیلابوں کے دوران تقریباً 7 ہزار افراد جاں بحق، 17 ہزار سے زائد زخمی یا مستقل معذور جبکہ 4 کروڑ کے قریب افراد بے گھر ہو چکے ہیں۔ انہوں نے واضح کیا کہ یہ صرف قدرتی آفات کا معاملہ نہیں بلکہ بڑے پیمانے پر انسانی نقل مکانی، معاشی نقصان اور سماجی عدم استحکام کا ایک سنگین بحران بن چکا ہے۔

اسلام آباد میں ’’پاکستان میں ہجرت اور مائیگریشن گورننس کی بہتری میں پارلیمنٹ کا کردار‘‘ کے موضوع پر منعقدہ پینل ڈسکشن سے خطاب کرتے ہوئے وفاقی وزیر نے کہا کہ کروڑوں افراد کا بے گھر ہونا معمولی نقل مکانی نہیں بلکہ ایسا انسانی بحران ہے جس کے اثرات کئی نسلوں تک منتقل ہوتے ہیں۔

وفاقی وزیر نے موسمیاتی آفات کے انسانی پہلو کو اجاگر کرتے ہوئے کراچی میں عبداللہ شاہ غازیؒ کے مزار کے قریب اندرون سندھ سے آئے بے گھر خاندانوں اور ایک متاثرہ بچی کے ساتھ اپنی گفتگو کا تذکرہ کیا۔ ان کے بقول ایسی کہانیاں اعداد و شمار سے ہٹ کر موسمیاتی نقل مکانی کا حقیقی اور دردناک چہرہ سامنے لاتی ہیں۔ انہوں نے بلوچستان اور سندھ میں بار بار آنے والے فلیش فلڈز کی مثالیں دیتے ہوئے بتایا کہ کس طرح نسل در نسل ایک جگہ آباد خاندان اپنی زمین، روزگار اور روایات چھوڑ کر شہروں میں مزدوری کرنے پر مجبور ہو گئے ہیں۔

ڈاکٹر مصدق ملک نے زور دیا کہ عالمی سطح پر گرین ہاؤس گیسوں کے اخراج میں پاکستان کا حصہ انتہائی کم ہونے کے باوجود ملک شدید متاثر ہو رہا ہے۔ انہوں نے موسمیاتی انصاف، مؤثر گورننس اور متاثرہ افراد کو بہتر تحفظ فراہم کرنے کے لیے جامع پالیسی سازی پر زور دیا۔

نیوز اینڈ نیوز کی وضاحت:

یہ خصوصی رپورٹ اسلام آباد میں منعقدہ پارلیمانی پینل ڈسکشن اور وفاقی وزارتِ موسمیاتی تبدیلی کے باضابطہ جاری کردہ بیانات کی روشنی میں مرتب کی گئی ہے۔

ماخذ: اسلام آباد خبر رساں ذرائع، وفاقی وزارتِ موسمیاتی تبدیلی و ماحولیاتی ہم آہنگی۔