اختیارات کے استعمال میں آئین کو ہر صورت مقدم رکھا جائے، چیف جسٹس امین الدین خان

Spread the love

منصور احمد,September 15,2026

اسلام آباد (نیوز اینڈ نیوز) — 15 ستمبر 2026ء

وفاقی آئینی عدالت کے چیف جسٹس، جسٹس امین الدین خان نے واضح کیا ہے کہ ریاستی اختیارات کے تمام تر استعمال میں آئین کو ہر صورت مقدم اور بالا تر رکھا جانا چاہیے، کیونکہ آئین کی پاسداری ہی کسی بھی معاشرے اور ریاست میں استحکام کی سب سے بڑی بنیاد ہوتی ہے۔ ان کے مطابق آئین میں تمام ریاستی اداروں کے دائرہ اختیارات اور ان کی حدود مکمل طور پر متعین ہیں۔

وفاقی آئینی عدالت میں نئے عدالتی سال کے آغاز کے موقع پر منعقدہ پروقار تقریب سے خطاب کرتے ہوئے چیف جسٹس امین الدین خان نے کہا کہ نئے عدالتی سال کی ابتدا انصاف کی بلاامتیاز فراہمی کے عزم کو دہرانے کا بہترین موقع ہے۔ انہوں نے کہا کہ وفاقی آئینی عدالت نے اپنے قیام کے مختصر عرصے میں آئینی و قانونی امور سے متعلق متعدد اہم مقدمات کا فیصلہ کرتے ہوئے اپنی تفویض کردہ آئینی ذمہ داریاں احسن طریقے سے نبھائی ہیں۔

جدید ٹیکنالوجی اور شفافیت پر زور:

چیف جسٹس نے کہا کہ انصاف تک رسائی ہر شہری کا بنيادی آئینی حق ہے اور بلاامتیاز انصاف کی فراہمی عدلیہ کی اولین ترجیح ہونی چاہیے۔ انہوں نے شفافیت اور عدلیہ کی آزادی کو مستحکم معاشرے کی روح قرار دیا۔ انہوں نے عدالتی نظام میں آرٹیفیشل انٹیلی جنس (AI) اور جدید ٹیکنالوجی کے استعمال پر زور دیتے ہوئے کہا کہ اس سے ادارہ جاتی استعداد اور کارکردگی میں نمایاں بہتری آئے گی۔

بار اور بینچ کے رہنماؤں کا خطاب:

وائس چیئرمین پاکستان بار کونسل مسعود چشتی نے اپنے خطاب میں چیف جسٹس امین الدین خان اور ان کے ہمراہ ججز کی آئینی بصیرت اور ادارہ جاتی ڈھانچے کی تشکیل کو سراہا۔ انہوں نے عدالت سے سائلین کی سہولت کے لیے فوری طور پر ویڈیو لنک کا نظام متعارف کرانے کی اپیل کی۔

صدر سپریم کورٹ بار ایسوسی ایشن ہارون الرشید نے کہا کہ سپریم کورٹ بار نے ہمیشہ آئینی تنازعات کے حل کے لیے الگ اور خصوصی فورم کا دفاع کیا ہے۔ انہوں نے واضح کیا کہ بینچ اور بار ایک دوسرے کے مدِ مقابل نہیں بلکہ انصاف کے دو مضبوط ستون ہیں۔

اٹارنی جنرل آف پاکستان کا موقف:

اٹارنی جنرل پاکستان منصور عثمان اعوان نے کہا کہ وفاقی آئینی عدالت نے 13 نومبر 2025ء کو باقاعدہ کام کا آغاز کیا۔ 27ویں آئینی ترمیم کے ذریعے قائم کی جانے والی اس خصوصی عدالت کے پاس وفاق و صوبوں کے تنازعات اور بنیادی حقوق کے نفاذ کے اختیارات ہیں جو پہلے سپریم کورٹ کے پاس تھے۔

انہوں نے خبردار کیا کہ سیاسی نوعیت کے تنازعات کو آئینی پوشاک پہنا کر عدالت میں لانے سے گریز کیا جائے تا کہ عدالت غیر ضروری طور پر سیاسی معاملات میں نہ الجھے اور اس کا عوامی اعتماد برقرار رہے۔

نیوز اینڈ نیوز کی وضاحت:

یہ تفصیلی رپورٹ وفاقی آئینی عدالت اسلام آباد کے پریس ڈیسک، سپریم کورٹ بار اور اٹارنی جنرل آفس کے جاری کردہ باضابطہ متن کے مطابق تیار کی گئی ہے۔

ماخذ: وفاقی آئینی عدالت اسلام آباد ڈیسک، پریس ریلیز پاکستان بار کونسل۔