یمن میں حوثیوں کی پیش قدمی سے لڑائی شدید: 1 لاکھ سے زائد شہری بے گھر، ہزاروں نے جبوتی میں پناہ لے لی

Spread the love

محمود احمد, September 15,2026

صنعا (نیوز اینڈ نیوز) — 15 ستمبر 2026ء

یمن میں مغربی ساحل کے ساتھ سرکاری فورسز اور حوثی جنگجوؤں کے درمیان جاری خونریز لڑائی میں اچانک شدت آنے کے باعث شدید انسانی بحران جنم لے چکا ہے۔ ایک لاکھ سے زائد افراد اپنا گھر بار چھوڑ کر بے گھر ہونے پر مجبور ہو چکے ہیں، جبکہ ہزاروں افراد بحیرۂ احمر عبور کر کے پڑوسی ملک جبوتی پہنچ گئے ہیں۔

اقوام متحدہ کے ادارے UNHCR اور عالمی ادارہ برائے مہاجرت (IOM) کے مطابق 14 ستمبر تک 93,864 سے زائد نئے بے گھر افراد کی تصدیق کی جا چکی ہے، جبکہ اب یہ تعداد 1 لاکھ سے تجاوز کر گئی ہے۔ تعز، لحج، جبل حبشی اور المَعافر کے اضلاع شدید ترین متاثرہ علاقوں میں شمار ہوتے ہیں، جہاں سے شہریوں نے عدن اور جنوبی علاقوں کا رخ کیا ہے۔

اہم بندرگاہی شہر موکا پر حوثیوں کا قبضہ:

اقوام متحدہ کے خصوصی ایلچی ہانس گرنڈبرگ نے خبردار کیا ہے کہ 2022ء میں طے پانے والی تاریخی جنگ بندی کے بعد یمن میں ایک بار پھر کامل اور بڑے پیمانے پر جنگ چھڑنے کا خطرہ حقیقت میں بدل چکا ہے۔

اطلاعات کے مطابق حوثی جنگجوؤں نے بحیرۂ احمر کے انتہائی سٹریٹیجک اور اہم بندرگاہی شہر موکا (Mocha) پر باقاعدہ کنٹرول حاصل کر لیا ہے۔ موکا شہر عالمی تجارتی اور توانائی کے راستے “باب المندب” سے صرف 75 کلومیٹر کے فاصلے پر واقع ہے، جس کے باعث عالمی جہاز رانی اور خطے کی سلامتی شدید خطرات کی زد میں آ گئی ہے۔

انسانی امداد کی فراہمی میں مشکلات:

اقوام متحدہ کے مطابق سیکیورٹی کی ابتر صورتحال، مواصلاتی نظام کی تباہی اور سڑکوں کی بندش کے باعث متاثرہ خاندانوں تک فوری انسانی امداد، پانی اور خوراک کی فراہمی شدید متاثر ہو رہی ہے۔ ہزاروں خاندان بغیر کسی چھت کے عارضی کیمپوں میں کھلے آسمان تلے رہنے پر مجبور ہیں۔

نیوز اینڈ نیوز کی وضاحت:

یہ بین الاقوامی رپورٹ اقوام متحدہ کے ہائی کمیشن برائے مہاجرین (UNHCR)، عالمی ادارہ برائے مہاجرت (IOM) کے اعداد و شمار اور رائٹرز کی میدانی رپورٹس کے مطابق ہمارے ایڈیٹوریل معیار پر تیار کی گئی ہے۔

ماخذ: اقوام متحدہ پناہ گزین ایجنسی (UNHCR)، عالمی ادارہ برائے مہاجرت (IOM) اور رائٹرز۔