اقوام متحدہ کے انسانی حقوق کے سربراہ وولکر ترک نے مصنوعی ذہانت (اے آئی) کی ٹیکنالوجی کو موثر کنٹرول میں لانے کے بڑھتے ہوئے عالمی مطالبات کی پرزور حمایت کی ہے اور خبردار کیا ہے کہ اگر اس ٹیکنالوجی کو بغیر کسی ضابطے کے بے قابو چھوڑ دیا گیا تو یہ بالآخر “انسانیت کے وجود کے لیے تباہ کن خطرہ” ثابت ہو سکتی ہے۔
اماراتی نیوز ایجنسی (وام) کے مطابق جنیوا میں اقوام متحدہ کی انسانی حقوق کونسل کے اہم اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے انسانی حقوق کے ہائی کمشنر وولکر ترک نے کہا کہ پابند قوانین، آزادانہ نگرانی اور واضح بین الاقوامی حدود کے بغیر مصنوعی ذہانت کا نظام انسانوں کے قابو سے باہر نکل سکتا ہے۔ انہوں نے اس سنگین خدشے کا اظہار کیا کہ اے آئی سسٹمز اتنے زیادہ طاقتور ہو سکتے ہیں کہ ان کے اپنے بنانے والے (ڈویلپرز) بھی ان پر کنٹرول برقرار نہ رکھ سکیں۔
وولکر ترک نے سائنسی امکانات کی نشاندہی کرتے ہوئے کہا کہ ایسی ای آئی ٹیکنالوجی جو اپنے تجرباتی اور آزمائشی ماحول سے باہر نکل جائے یا بند کیے جانے سے بچنے کے لیے اپنے ہی ڈویلپرز کو بلیک میل کرنے لگے، انتہائی خطرناک اور حد سے زیادہ طاقتور صورتحال کی نشاندہی کرتی ہے۔ انہوں نے عالمی برادری سے اپیل کی کہ اس سے پہلے کہ بہت دیر ہو جائے، مصنوعی ذہانت کی حفاظت اور سلامتی کے لیے عالمی سطح پر جامع اور موثر حفاظتی اقدامات یقینی بنائے جائیں۔
انہوں نے اے آئی کی ہوسٹنگ کرنے والے اور اس کی عالمی سپلائی چین سے منسلک تمام ممالک پر زور دیا کہ وہ مل کر واضح اور سخت حدود مقرر کریں۔ اس کے علاوہ انہوں نے انکشاف کیا کہ اس وقت دنیا بھر میں مٹھی بھر افراد اور بڑی ٹیک کمپنیوں کے پاس مصنوعی ذہانت پر تقریباً لامحدود طاقت اور وسیع ڈیٹا جمع ہو چکا ہے، جو کہ طاقت کا خطرناک ارتکاز ہے۔ انہوں نے واضح کیا کہ ٹیکنالوجی کو انسانوں کی خدمت کرنی چاہیے، نہ کہ انسان ٹیکنالوجی کے غلام بنیں۔ انہوں نے اے آئی کے روزگار، جمہوریت، ماحولیات اور انسانی حقوق پر پڑنے والے منفی اثرات سے نمٹنے کے لیے متفقہ عالمی اصولوں پر کاربند رہنے کی ضرورت پر زور دیا۔
وزیراعظم محمد شہباز شریف نے اعادہ کیا ہے کہ پاکستان عالمی امور اور کثیرالجہتی نظام میں اقوام متحدہ کے موثر اور فعال کردار کی مسلسل حمایت جاری رکھے گا، جبکہ موجودہ پیچیدہ عالمی چیلنجز سے نمٹنے کے لیے اقوام متحدہ کے پلیٹ فارم اور بین الاقوامی تعاون کو مزید مستحکم بنانا وقت کی اہم ضرورت ہے۔
وزیراعظم آفس کے میڈیا ونگ کی جانب سے جمعہ کے روز جاری کیے گئے باضابطہ بیان کے مطابق، ان خیالات کا اظہار وزیراعظم شہباز شریف نے اسلام آباد میں اقوام متحدہ کے سیکرٹری جنرل کے عہدے کے امیدوار سفیر اولارا اوتونو سے ایک اعلیٰ سطح کی ملاقات کے دوران کیا۔ اس موقع پر یوگنڈا کے صدر کے خصوصی ایلچی اور سابق وزیراعظم روہاکانا روگونڈا بھی ان کے ہمراہ تھے۔
ملاقات میں نائب وزیراعظم و وزیرِ خارجہ سینیٹر محمد اسحاق ڈار، وزیراعظم کے معاونِ خصوصی طارق فاطمی اور سیکرٹری خارجہ آمنہ بلوچ نے بھی شرکت کی اور اہم سفارتی امور پر گفتگو کی گئی۔
وزیراعظم شہباز شریف نے اقوام متحدہ کے منشور، عالمی قوانین اور بین الاقوامی معاہدوں کے احترام کی اہمیت کو اجاگر کرتے ہوئے کہا کہ پاکستان اقوام متحدہ کے بنیادی منشور سے مکمل وابستگی رکھتا ہے۔ انہوں نے امید ظاہر کی کہ اقوام متحدہ کے آئندہ منتخب ہونے والے سیکرٹری جنرل عالمی ادارے کے تینوں بنیادی ستونوں یعنی امن و سلامتی، اقتصادی و سماجی ترقی اور انسانی حقوق پر یکساں اور متوازن توجہ مرکوز کریں گے۔
سفیر اولارا اوتونو نے کثیرالجہتی نظام کے فروغ، اقوام متحدہ کے مشنز اور عالمی امن و سلامتی کے لیے پاکستان کی دہائیوں پر محیط اور تاریخی خدمات کو زبردست الفاظ میں سراہا اور پاکستان کی فعال عالمی قیادت پر تشکر کا اظہار کیا۔
پاکستان نے اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل میں شام کے کیمیائی ہتھیاروں سے متعلق معاملے میں ہونے والی اہم اور مثبت پیش رفت کا پرجوش خیرمقدم کیا ہے اور شامی حکومت کی جانب سے اپنی سرزمین پر کیمیائی ہتھیاروں کی سرگرمیوں کا خاتمہ کرنے کے عزم کو سراہا ہے۔ اس کے ساتھ ہی پاکستان نے باقی ماندہ ستائیس میں سے انیس زیرِ التوا امور کے حل کے لیے فریقین کے درمیان مسلسل روابط اور باہمی تعاون کو برقرار رکھنے کی ضرورت پر زور دیا ہے۔
اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل میں مشرقِ وسطیٰ اور بالخصوص شام کے کیمیائی ہتھیاروں سے متعلق خصوصی بریفنگ کے دوران اقوام متحدہ میں پاکستان کے نائب مستقل مندوب سفیر عثمان جدون نے شامی عرب جمہوریہ کی جانب سے ارسال کردہ تازہ ترین مراسلات اور تعاون کا خیرمقدم کیا۔ انہوں نے بتایا کہ شامی حکومت نے کیمیائی ہتھیاروں کی سرگرمیوں سے وابستہ مختلف مقامات اور حال ہی میں ظاہر کی گئی دو اہم ذخیرہ گاہوں کے جائزوں سے متعلق اہم تفصیلات فراہم کی ہیں۔
سفیر عثمان جدون نے اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ شامی حکومت کی جانب سے حاصل کی جانے والی پیش رفت تحسین اور حوصلہ افزائی کی مستحق ہے۔ انہوں نے کہا کہ اس معاملے کو حتمی انجام تک پہنچانے کے لیے آگے بڑھنے کا واحد راستہ شام اور کیمیائی ہتھیاروں کی ممانعت کی تنظیم کے ٹیکنیکل سیکریٹریٹ کے درمیان قائم تعاون، باہمی اعتماد اور شفافیت کی فضا کو مزید مضبوط بنانا ہے۔
پاکستانی مندوب نے عالمی برادری پر زور دیا کہ وہ ضروری تکنیکی معاونت، ماہرانہ مشورے اور صلاحیتوں میں اضافے کے لیے شام کو تعاون فراہم کرے تا کہ باقی ماندہ امور جلد از جلد حل ہو سکیں۔ انہوں نے پاکستان کی طرف سے شام کی خودمختاری، قومی وحدت اور علاقائی سالمیت کے لیے غیر متزلزل حمایت کا اعادہ بھی کیا۔
سفیر عثمان جدون نے پاکستان کا اصولی موقف دہرااتے ہوئے کہا کہ پاکستان کسی بھی فرد، تنظیم یا فریق کی جانب سے دنیا میں کسی بھی مقام پر اور کسی بھی حالت میں کیمیائی ہتھیاروں کے استعمال کی سخت مخالفت کرتا ہے۔ انہوں نے واضح کیا کہ کیمیائی ہتھیاروں کی ممانعت کا عالمی معاہدہ بین الاقوامی تخفیفِ اسلحہ اور عدمِ پھیلاؤ کے نظام کا بنیادی ستون ہے، اور پاکستان اس کے بلا تفریق اور مؤثر نفاذ کا حامی ہے۔
انہوں نے امید ظاہر کی کہ مسلسل تکنیکی تصدیق، آزادانہ جائزہ اور عالمی تعاون کے نتیجے میں تمام زیرِ التوا مسائل احسن طریقے سے حل ہو جائیں گے اور شام کا کیمیائی ہتھیاروں کا معاملہ کامیابی سے اپنے منطقی انجام کو پہنچے گا۔
اقوامِ متحدہ میں جمہوریہ اسلامی ایران کے دائمی مشن نے امریکہ پر ایران کے متعدد گنجان آباد شہروں میں عام شہریوں پر دانستہ حملے کرنے کا سنگین الزام عائد کرتے ہوئے اعلان کیا ہے کہ بے گناہ شہریوں اور معصوم بچوں کو گولا باری کا نشانہ بنانا بین الاقوامی انسانی حقوق کے بنیادی اصولوں کی سنگین ورزی اور ایک صریح ‘جنگی جرم’ ہے۔
اقوامِ متحدہ میں ایران کے سفیر اور ڈپٹی ہیڈ آف مشن غلام حسین درزی نے عالمی ادارے کے سیکریٹری جنرل انتونیو گوتیرس کو ارسال کردہ اپنے ہنگامی اور باضابطہ خط میں یکم ستمبر کو ہونے والے بھیانک امریکی فضائی حملوں کا تفصیل سے حوالہ دیا ہے۔ انہوں نے اپنے مکتوب میں مؤقف اختیار کیا کہ جنوبی ایران کے سرحدی و ساحلی شہروں میں رہائشی علاقوں اور شہری اہداف کو دانستہ اور حکمتِ عملی کے تحت تباہ کیا گیا۔
ایرانی حکام کا کہنا ہے کہ مارچ 1404 (شمسی ہجری تقویم) میں حالیہ خونریز جنگ کے برپا ہونے کے بعد سے واشنگٹن انتظامیہ نے مسلسل سویلین آبادی، عوامی مقامات اور قومی بنیادی ڈھانچے کو ہدف بنایا ہے۔ ان حملوں میں سکول، ہسپتال، ایئرپورٹس، رہائشی کالونیاں، پل، سڑکیں اور ریلوے کی حساس تنصیبات شدید متاثر ہوئی ہیں۔
ایران کے ہرمزگان صوبے میں امدادی ٹیموں اور ایرانی ریڈ کریسنٹ سوسائٹی کے حکام کے مطابق کوہستک کی بندرگاہ کے قریب ہونے والے تازہ حملے میں ایک معصوم بچے سمیت چار افراد ہلاک جبکہ 60 سے زائد افراد زخمی ہوئے ہیں۔
دوسری جانب امریکی عسکری حکام اور پینٹاگون نے سویلینز کو دانستہ نشانہ بنانے کے تمام الزامات کو مسترد کرتے ہوئے دعویٰ کیا ہے کہ منگل کی شب کیے گئے فضائی حملوں میں صرف پاسدارانِ انقلاب اسلامی کی عسکری تنصیبات اور کمانڈ سنٹرز کو نشانہ بنایا گیا تھا۔
تاہم، کوہستک میں شادی ہال کے وقوعہ کا باریک بینی سے جائزہ لینے پر بی بی سی فارسی کے ‘فیکٹ فائنڈنگ ڈیپارٹمنٹ’ نے مشاہدہ کیا کہ تباہ شدہ شادی ہال قریبی ٹیلی کمیونیکیشن ٹاور سے کم از کم 110 میٹر کی دوری پر واقع تھا، جس سے یہ ظاہر ہوتا ہے کہ ممکنہ طور پر امریکی حملے کا اصل ہدف وہ مواصلاتی ٹاور تھا جو غلط نشانہ دہی یا ضمنی تباہی کے باعث قریبی آبادی پر اثر انداز ہوا۔
اقوام متحدہ کے سیکرٹری جنرل انتونیو گوتریش نے عالمی مالیاتی نظام میں بنیادی اور عاجلانہ اصلاحات کا پرزور مطالبہ کرتے ہوئے تشویش کا اظہار کیا ہے کہ دنیا کے بیشتر ترقی پذیر ممالک بدستور نا قابلِ برداشت اور کمر توڑ غیر ملکی قرضوں کے شدید بوجھ تلے دبے ہوئے ہیں۔
اماراتی نیوز ایجنسی کے مطابق، اقوام متحدہ کے سربراہ نے کرغزستان کے دارالحکومت بشکیک میں منعقدہ شنگھائی تعاون تنظیم کے اعلیٰ سطحی سربراہی اجلاس سے اہم خطاب کرتے ہوئے کہا کہ بین الاقوامی برادری کو عالمی مالیاتی و معاشی ڈھانچے میں فوری اصلاحات لانا ہوں گی تاکہ عالمی سطح پر انصاف اور مساوات کو فروغ دیا جا سکے۔ انہوں نے واضح کیا کہ ترقی پذیر ممالک کو مفلوج کرنے والے ان بوجھل قرضوں کے سنگین مسئلے کا ایک پائیدار اور منصفانہ حل تلاش کرنا وقت کی اہم ترین ضرورت ہے۔
اپنے خطاب کے دوران انتونیو گوتریش نے کثیرالجہتی ترقیاتی بینکوں پر زور دیا کہ وہ غریب اور درمیانی آمدنی والے ممالک کی معاشی ترقی کی کوششوں اور مالی معاونت کے لیے پہلے سے کہیں زیادہ بڑا، مؤثر اور جرات مندانہ کردار ادا کریں۔
انہوں نے اس بات کو بھی اجاگر کیا کہ اقوام متحدہ کے اپنے ڈھانچے اور ‘بریٹن ووڈز’ نظام سمیت تمام بین الاقوامی کثیرالجہتی اداروں میں انقلابی اصلاحات ناگزیر ہو چکی ہیں تاکہ ان اداروں کو آج کی جدید اور تلخ عالمی حقیقتوں سے ہم آہنگ کیا جا سکے اور بین الاقوامی فیصلے سازی میں ترقی پذیر ممالک کی متناسب نمائندگی اور اثر و رسوخ میں حقیقی اضافہ ممکن بنایا جا سکے۔
ٹیکنالوجی کے شعبے اور بالخصوص مصنوعی ذہانت کے ابھرتے ہوئے خطرات و فوائد پر گفتگو کرتے ہوئے اقوام متحدہ کے سیکرٹری جنرل کا کہنا تھا کہ مصنوعی ذہانت کی ترقی اور اس کے فوائد صرف چند امیر یا ٹیکنالوجی میں پیش رفتہ ممالک تک محدود نہیں رہنے چاہئیں، بلکہ اسے دنیا کے تمام ممالک اور ان کے شہریوں کے لیے یکساں طور پر کارآمد بنانا ہوگا۔ انہوں نے زور دیا کہ اس مقصد کے حصول کے لیے عالمی سطح پر مؤثر اور محفوظ حفاظتی ضوابط اور زیادہ جامع طرزِ حکمرانی کا طریقہ کار تشکیل دینا بے حد ضروری ہے۔
اقوام متحدہ کے سیکرٹری جنرل انتونیو گوتریش نے امریکہ اور ایران کے درمیان حالیہ فوجی کارروائیوں اور بڑھتی ہوئی شدید عسکری کشیدگی پر گہرے تشویش کا اظہار کرتے ہوئے دونوں ممالک پر زور دیا ہے کہ وہ زیادہ سے زیادہ تحمل کا مظاہرہ کریں۔
چین کے خبر رساں ادارے شنہوا کے مطابق، اقوام متحدہ کے سیکرٹری جنرل کے ترجمان سٹیفین دوجارک نے نیویارک میں ایک باضابطہ بیان جاری کرتے ہوئے کہا کہ امریکہ اور ایران کے درمیان ہفتے کے اختتام پر ہونے والی فوجی کارروائیوں اور حملوں میں ناخوشگوار اضافہ انتہائی افسوسناک اور عالمی امن کے لیے خطرناک ہے۔
ترجمان کے مطابق سیکرٹری جنرل انتونیو گوتریش نے ایک بار پھر تمام متعلقہ فریقین سے شدید ترین تحمل کا مظاہرہ کرنے کی اپیل کی ہے۔ انہوں نے واضح کیا کہ عسکری ٹکراؤ کسی مسئلے کا حل نہیں ہے، اسی لیے وہ تمام سفارتی سرگرمیوں اور دوطرفہ یا کثیرالجہتی مذاکرات کی فوری بحالی کی بھرپور حوصلہ افزائی کرتے ہیں۔
اقوام متحدہ کے سربراہ نے اس بات پر زور دیا کہ صرف باہمی گفتگو اور سفارت کاری کے ذریعے ہی ایک ایسا پائیدار حل تلاش کیا جا سکتا ہے جو مشرقِ وسطیٰ کے خطے میں مکمل استحکام، عدم تشدد اور تمام فریقوں کے مابین اعتماد بحال کرنے میں مددگار ثابت ہو سکے۔
جنوبی ایشیا کے پہاڑی ملک نیپال اور اس کے ہمسائے تبت کے سرحدی خطے میں بدھ کے روز گلیشیئر انہدام اور شدید بارشوں کے بعد آنے والے تباہ کن سیلاب کی ہولناکی میں ہر گزرتے گھنٹے کے ساتھ اضافہ ہوتا جا رہا ہے۔ سڑکوں، پلوں، اور درجنوں پہاڑی دیہاتوں کو بہا لے جانے والے اس ناگہانی قدرتی آفت کے نتیجے میں دونوں ممالک میں مجموعی ہلاکتوں کی تعداد بڑھ کر 623 تک پہنچ چکی ہے، جبکہ نیپالی حدود میں 2,000 اور تبت میں 550 سے زائد افراد تاحال لاپتہ ہیں، جس کے باعث ہلاکتوں میں مزید دردناک اضافے کا شدید خدشہ ظاہر کیا جا رہا ہے۔ نیپال اور تبت میں ہنگامی حالت نافذ کر کے مقامی ریسکیو اداروں، افواج اور بین الاقوامی امدادی تنظیموں کی جانب سے وسیع پیمانے پر بحالی اور سرچ آپریشن جاری ہے۔
نیپال پولیس کی جانب سے جاری کردہ تازہ ترین سرکاری اعداد و شمار کے مطابق، نیپالی حدود میں سیلابی ریلوں اور لینڈ سلائیڈنگ کے نتیجے میں جاں بحق ہونے والے شہریوں کی تصدیق شدہ تعداد بڑھ کر 616 ہو گئی ہے۔ اس سے قبل نیپالی حکام نے ہلاکتوں کی تعداد 579 بتائی تھی، تاہم ملبے اور تباہ شدہ مکانات کی کھدائی کے دوران مزید لاشیں برآمد ہونے پر اعداد و شمار اپ ڈیٹ کر دیے گئے ہیں۔ دوسری جانب تبت کی سرحد پر چینی سرکاری میڈیا نے تصدیق کی ہے کہ سرحدی دیہاتوں میں سیلاب کی زد میں آ کر ہلاک ہونے والے چینی شہریوں کی سرکاری تعداد بڑھ کر 7 ہو گئی ہے جبکہ 554 افراد تاحال بے نشان اور لاپتہ ہیں، جن کی تلاش کے لیے ڈرون اور ریسکیو کتوں کی مدد لی جا رہی ہے۔
سیلاب کے بعد پیدا ہونے والے اس انسانی بحران کے تناظر میں بین الاقوامی برادری اور مختلف عالمی ممالک نے نیپال کی مدد کے لیے ہنگامی کارروائیاں اور امداد کا سلسلہ تیز کر دیا ہے۔ اقوام متحدہ کے ترجمان نے نیپار کی موجودہ صورتحال پر گہری تشویش کا اظہار کرتے ہوئے بتایا کہ متاثرہ علاقوں میں فوری طور پر 10 ہزار سے زائد خاندانوں کو خوراک، طبی امداد اور صاف پینے کے پانی کی شدید اور اضطراری ضرورت ہے۔ اقوام متحدہ کے مختلف ادارے متاثرین میں خیمے اور راشن کی تقیسم میں مصروف ہیں۔
دریں اثناء، یورپی یونین کینیڈا اور ریاستہائے متحدہ امریکہ سمیت دنیا کے متعدد اہم ممالک نے نیپال کے لیے کروڑوں ڈالر کے ہنگامی مالیاتی پیکج اور بنیادی امدادی سامان بھجوانے کا باقاعدہ اعلان کر دیا ہے۔ نیپالی حکومت کی جانب سے عالمی برادری کا شکریہ ادا کرتے ہوئے واضح کیا گیا ہے کہ دور دراز کے پہاڑی علاقوں میں مواصلاتی نظام درہم برہم ہونے اور سڑکیں تباہ ہو جانے کی وجہ سے ریسکیو کارروائیوں میں شدید مشکلات کا سامنا ہے، تاہم ہیلی کاپٹرز اور ڈرونز کے ذریعے لاپتہ 2,000 سے زائد افراد کی تلاش کے لیے دن رات آپریشن جاری رکھا جائے گا۔
پاکستان نے کیریبین ملک ہیٹی کے علاقے کینسکوف میں مسلح گینگ کے حالیہ دلخراش اور سفاکانہ حملے کی شدید الفاظ میں مذمت کرتے ہوئے بین الاقوامی برادری اور اقوام متحدہ سے مطالبہ کیا ہے کہ وہ ہیٹی میں ہیٹی کی اپنی قیادت میں جاری سکیورٹی کاوشوں کی بھرپور معاونت کرے۔ پاکستان نے زور دیا ہے کہ گینگ سپریشن فورس کی بروقت، مؤثر اور مکمل تعیناتی کے لیے درپیش تمام انتظامی، مالی اور لاجسٹک رکاوٹوں کو فوری طور پر دور کیا جائے تاکہ متاثرہ عوام کی حفاظت کو یقینی بنایا جا سکے۔
ہیٹی کی کی تشویشناک سکیورٹی صورتحال کے بارے میں اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل کے ایک ہنگامی اور اعلیٰ سطحی اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے اقوام متحدہ میں پاکستان کے مستقل مندوب، سفیر عاصم افتخار احمد نے کہا کہ حالیہ ہولناک حملے ہیٹی کے عوام کو درپیش طویل عرصے سے جاری، ابتر اور نہایت تشویشناک سکیورٹی صورتِ حال کی ایک سنگین اور تلخ یاد دہانی ہیں۔ انہوں نے افسوس کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ گزشتہ کئی برسوں کی بین الاقوامی کوششوں کے باوجود وہاں کے حالات میں کوئی خاطر خواہ یا پائیدار بہتری نہیں آ سکی، جس سے عام شہریوں کی روزمرہ زندگی مکمل طور پر معطل ہو کر رہ گئی ہے۔
سفیر عاصم افتخار احمد نے سلامتی کونسل کے سامنے ہیٹی کے معصوم شہریوں کی تکالیف کو اجاگر کرتے ہوئے کہا کہ “حالیہ واقعہ ہیٹی کے عوام کو درپیش طویل اور سنگین سکیورٹی صورتِ حال کی ایک تلخ اور واضح یاد دہانی ہے۔ گینگ کی جانب سے شہریوں کو دانستہ طور پر نشانہ بنا کر کیے جانے والے یہ ہولناک اور پرتشدد حملے خواتین اور معصوم بچوں کو غیر متناسب طور پر اور سب سے زیادہ متاثر کر رہے ہیں، جس کا عالمی برادری کو فوری نوٹس لینا ہوگا”۔
اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل کی جانب سے گزشتہ برس ہیٹی کے حکام کی مدد کے لیے منظور کی جانے والی \ کی تعیناتی کا حوالہ دیتے ہوئے پاکستانی مندوب نے اس بات پر خصوصی زور دیا کہ اس فورس کی بلا تاخیر اور مکمل تعیناتی کے ساتھ ساتھ ہیٹی میں غیر قانونی اسلحے، بارود اور ہتھیاروں کی ترسیل کو روکنے کے لیے عالمی سطح پر انتہائی مربوط اور مؤثر اقدامات اٹھانا بے حد ناگزیر ہیں۔ انہوں نے واضح کیا کہ غیر قانونی اسلحے کی رسد کا خاتمہ کیے بغیر گینگ تشدد کی مؤثر روک تھام اور عوام میں سکیورٹی و تحفظ کا بنیادی احساس بحال کرنا ممکن نہیں ہے۔
سفیر عاصم افتخار احمد نے اس مشکل اور نازک وقت میں ہیٹی کے عوام اور حکومت کی معاونت کے لیے عالمی برادری کے باہمی تعاون کو مزید مضبوط اور وسیع بنانے کی ضرورت پر زور دیا۔ انہوں نے کہا کہ ہیٹی کے بحران کے ایک پائیدار، دیرپا اور جامع حل کے لیے وہاں جاری عدم استحکام کے بنیادی، کثیرالجہتی اور تاریخی اسباب سے نمٹنا انتہائی ضروری ہے، اور اس مقصد کے حصول کے لیے کوئی بھی ایسا لائحہ عمل تبھی کامیاب ہو سکتا ہے جو ‘ہیٹی کی قیادت میں اور ہیٹی کی ملکیت’ پر مبنی ہو۔
پاکستان کے مستقل مندوب نے اپنے خطاب کو آگے بڑھاتے ہوئے کہا کہ “ہم کی عملی کارروائیوں کے لیے عالمی معاونت کو متحرک کرنے اور ہیٹی میں جاری طویل المدت تشدد کی بنیادی وجوہات کو جڑ سے اکھاڑ پھینکنے کے لیے جامع تخفیفِ اسلحہ، عدم مسلح کاری اور بحالیِ نو کی حکمتِ عملی کو آگے بڑھانے کے سلسلے میں شراکت داروں کے ‘اسٹینڈنگ گروپ’ کی کاوشوں اور اقدامات کا کھلے دل سے خیرمقدم کرتے ہیں”۔
بیان کے اختتام پر پاکستان کی نمائندگی کرتے ہوئے سفیر عاصم افتخار احمد نے ہیٹی کے مظلوم عوام کے ساتھ پاکستان کی مکمل اور غیر متزلزل یکجہتی کا اعادہ کیا۔ انہوں نے یقین دہانی کرائی کہ پاکستان ہیٹی میں دیرپا امن کی بحالی، سکیورٹی کے قیام، استحکام، تعمیرِ نو، اور ترقی و خوشحالی کے اہداف کے حصول کے لیے بین الاقوامی برادری، اقوام متحدہ اور ہیٹی کی قیادت کے ساتھ مل کر اپنا مثبت، فعال اور تعمیری کردار مسلسل ادا کرتا رہے گا۔
پاکستان نے شام کی صورتحال میں رونما ہونے والی مثبت پیش رفت کا خیرمقدم کرتے ہوئے کہا ہے کہ تنازع، تقسیم اور انسانی بحران کے برسوں کے بعد اب شام کو استحکام، بحالی اور معمول کی جانب واپسی کے لیے ایک حقیقی موقع میسر آیا ہے۔ اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل میں شام کی انسانی اور سیاسی صورتحال پر بریفنگ کے دوران اقوام متحدہ میں پاکستان کے نائب مستقل مندوب سفیر عثمان جدون نے زور دیا کہ اس موقع سے بھرپور فائدہ اٹھانے کے ساتھ ساتھ اسے محفوظ اور برقرار رکھنے اور عالمی برادری کی جانب سے اس کی بھرپور حمایت کو یقینی بنانے کی ضرورت ہے۔ سفیر عثمان جدون نے شامی ریاست اور اس کے اداروں کے استحکام کو مستحکم بنانے کی اہمیت اجاگر کی اور شامی ڈیموکریٹک فورسز کو ریاستی ڈھانچے میں ضم کرنے کی جانب پیش رفت کا خیرمقدم کیا۔ انہوں نے جامع، شامی ملکیت اور شامی قیادت میں ایسے سیاسی عمل پر زور دیا جو قومی یکجہتی کو مضبوط کرے۔
شام کے وزیر خارجہ کے حالیہ دورۂ پاکستان کا ذکر کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ یہ دورہ دونوں برادر ممالک کے دیرینہ تعلقات میں نئی تحریک کا مظہر ہے۔ انہوں نے شام پر عائد معاشی پابندیوں بالخصوص امریکی پابندیوں کے خاتمے، اور خطے میں شام کے ساتھ بڑھتے ہوئے تعاون اور سرمایہ کاری کا خیرمقدم کیا، تاہم یہ بھی واضح کیا کہ شام میں انسانی صورتحال تاحال تشویشناک ہے اور تعمیرِ نو کے ساتھ امداد کا سلسلہ برقرار رہنا چاہیے۔ انہوں نے دہشت گردی اور داعش جیسے گروہوں کو ابھرتے استحکام کے لیے خطرہ قرار دیتے ہوئے مربوط کوششوں پر زور دیا۔ دوسری جانب، شام کے خلاف اسرائیلی فوجی کشیدگی اور ابو الضہور ایئربیس پر اسرائیلی حملے کی شدید مذمت کرتے ہوئے سفیر عثمان جدون نے 1974 کے علیحدگی کے معاہدے کے احترام اور مقبوضہ شامی گولان سمیت تمام علاقوں سے اسرائیلی انخلا کا مطالبہ کیا، اور شام کی خودمختاری و سالمیت کے لیے پاکستان کی مکمل حمایت کا اعادہ کیا۔
اقوامِ متحدہ کی سلامتی کونسل کے زیرِ اہتمام مشرقِ وسطیٰ اور بالخصوص مقبوضہ فلسـطینی علاقے کی بگڑتی ہوئی انتہائی حساس صورتحال پر منعقدہ اہم ماہانہ بریفنگ سے خطاب کرتے ہوئے اقوامِ متحدہ میں پاکستان کے مستقل مندوب سفیر عاصم افتخار احمد نے عالمی برادری کو خبردار کیا ہے کہ مقبوضہ فلسـطینی خطہ اس وقت تاریخ کے سب سے نازک اور خطرناک ترین موڑ پر پہنچ چکا ہے جہاں قابض اسرائیلی حکومت کی جانب سے بین الاقوامی قوانین کی سنگین پامالیاں، غیر قانونی الحاق کی کوششیں اور مظلوم فلسـطینیوں پر مظالم کی انتہا کر دی گئی ہے۔ اقوامِ متحدہ کی سلامتی کونسل میں پاکستان کی جانب سے جاری کردہ اس بیانیے میں قائم مقام خصوصی رابطہ کار رامز الاکبروف، اعلیٰ نمائندے نکولائی ملاڈینوف اور محترمہ رے برن کی بریفنگز کا خصوصی حوالہ دیتے ہوئے کہا گیا ہے کہ زمینی حقائق کو دانستہ تبدیل کرنے کے تمام اسرائیلی اقدامات دراصل ایک خودمختار فلسـطینی ریاست کی جغرافیائی و سیاسی بنیادوں کو تباه کرنے کی ناپاک کوشش ہیں۔
پاکستانی مندوب سفیر عاصم افتخار احمد نے اپنے تفصیلی خطاب کے دوران سلامتی کونسل اور عالمی ضمیر کو مخاطب کرتے ہوئے کہا کہ اسرائیل کی جانب سے غير قانونی آبادکاری کی سرگرمیاں بلا خوف و خطر اور بلا روک ٹوک جاری ہیں جبکہ متنازع علاقوں میں پیش رفت عملاً مغربی کنارے کو منقسم کر کے ہزاروں فلسـطینیوں کو جبری بے دخلی کے شدید خطرے سے دوچار کر رہی ہے۔ انہوں نے واضح کیا کہ پاکستان سمیت آٹھ عرب اور اسلامی ممالک کے وزرائے خارجہ کے گروپ نے اسرائیلی آبادکاری کی ان توسیع پسندانہ پالیسیوں اور الحاق کے منصوبوں کو دوٹوک الفاظ میں مسترد کرتے ہوئے اسے خطے کے امن کے خلاف ایک تبا ہ کن اور خطرناک اشتعال انگیزی قرار دیا ہے۔ اس کے ساتھ ساتھ قابض یہودیوں اور آبادکاروں کی جانب سے عام شہریوں پر تشدد اور دہشت گردی کے واقعات میں تشویشناک حد تک اضافہ ہوا ہے جن میں سے سینکڑوں حملے ریکارڈ پر آ چکے ہیں لیکن عالمی سطح پر ان مظالم کو روکنے کے لیے تاحال کوئی مضبوط عملی اقدام نہیں اٹھایا گیا جو کہ انتہائی افسوسناک اور ناقابلِ قبول ہے۔
مالیاتی جارحیت اور معاشی تسلط کا ذکر کرتے ہوئے پاکستانی سفیر نے نشاندہی کی کہ قابض اسرائیلی انتظامیہ کی جانب سے اربوں ڈالر کے فلسـطینی کلیئرنس ریونیو اور رقوم کی مسلسل اور غیر قانونی روک تھام نے فلسـطینی کو معاشی بحران اور شدید مالیاتی تباہی کے دہانے پر لا کھڑا کیا ہے جس کے باعث وہاں کے معصوم شہریوں کے لیے بنیادی زندگی کی سہولیات اور طبی خدمات کی فراہمی بھی ناممکن ہوتی جا رہی ہے، لہٰذا یہ روک رکاوٹیں فوری طور پر ختم کر کے رقوم کی بلا تاخیر منتقلی یقینی بنائی جائے۔ غزہ کی صورتحال کا نقشہ کھینچتے ہوئے انہوں نے سلامتی کونسل کے ارکان پر سخت سوال اٹھایا کہ اگر جنگ بندی کے اعلانات اور سفارتی دعوے موجود ہیں تو پھر غـزہ میں ہر روز معصوم شہری، خواتین اور بچے کیسے شہید کیے جا رہے ہیں، ہلاکتیں اور تباہی کا سلسلہ کیوں نہیں تھما اور جنگ بندی کے بعد سے اب تک بارہ سو سے زائد فلسـطینی کس بنیاد پر جاں بحق ہوئے ہیں، جس کا واضح مطلب یہ ہے کہ قابض قوتیں عالمی مطالبات اور سلامتی کونسل کی قراردادوں کو مکمل طور پر ہوا میں اڑا رہی ہیں۔
سفیر عاصم افتخار احمد نے مزید کہا کہ امریکہ، مصر، قطر اور ترکیہ کی جانب سے امن کے لیے کی جانے والی تمام تر سفارتی کوششوں اور اقوامِ متحدہ کی سلامتی کونسل کی امن قراردادوں کے باوجود اسرائیل کی طرف سے مسلسل فوجی کشیدگی، بمباری اور روڈ میپ کی کھلی خلاف ورزیاں پورے سفارتی عمل کو پٹڑی سے اتارنے کی سازش ہیں تاکہ خطے کو مزید تباہی کی طرف دھکیلا جا سکے۔ پاکستان نے اقوامِ متحدہ کے ریلیف ادارے اور اس کی تنصیبات پر اسرائیلی حملوں اور غیر قانونی جبری مداخلت پر بھی گہری تشویش کا اظہار کرتے ہوئے واضح کیا کہ بین الاقوامی قوانین کے تحت اقوامِ متحدہ کے تمام دفاتر، سکولوں، تربیتی مراکزی اور سفارتی عملے کے تحفظ کی ضمانت دی جائے اور اسرائیل کو بین الاقوامی ضوابط کا پابند بنایا جائے کیونکہ کسی بھی ملک کو اقوامِ متحدہ کے منشور پر حملہ کرنے کی اجازت نہیں دی جا سکتی۔
عالمی برادری اور سلامتی کونسل کے سامنے پاکستان نے اپنا چار نکاتی ہنگامی حل پیش کرتے ہوئے پرزور مطالبہ کیا ہے کہ قابض طاقت اسرائیل کو مقبوضہ فلسـطینی علاقے کی قانونی، جغرافیائی اور آبادیاتی ہیئت کو تبدیل کرنے کے تمام غیر قانونی اقدامات، الحاق کی سازشوں اور جبری بے دخلی سے فوری طور پر روکا جائے۔ اس کے ساتھ ساتھ غزہ امن منصوبے پر سچے دل اور مکمل شفافیت کے ساتھ عمل درآمد کا آغاز کیا جائے جبکہ جن طاقتور عالمی ممالک کا اس خطے میں اثر و رسوخ ہے وہ اپنے سفارتی اور معاشی ذرائع کو استعمال میں لا کر اسرائیل کو عالمی قوانین کی پاسداری پر مجبور کریں اور فلسـطینیوں پر ڈھائے جانے والے جنگی جرائم کے تمام ذمہ داران کا عالمی عدالتوں میں سخت محاسبہ کیا جائے۔ پاکستانی مندوب نے اپنے بیان کے اختتام پر دوٹوک الفاظ میں کہا کہ فلسـطین کے مظلوم عوام کے ساتھ پاکستان کی مکمل نظریاتی، اخلاقی اور سفارتی یکجہتی ہمیشہ کی طرح غیر متزلزل ہے اور ہم ان کے حقِ خودارادیت کی جدوجہد میں ان کے ساتھ چٹان کی طرح کھڑے رہیں گے۔ انہوں نے واضح کیا کہ خطے میں دائمی اور حقیقی امن کی واحد راہ یہی ہے کہ اقوامِ متحدہ کی قراردادوں کی روشنی میں انیس سو سرسٹھ سے قبل کی سرحدوں پر مشتمل ایک آزاد، خود مختار اور پائیدار فلسـطینی ریاست قائم کی جائے جس کا دارالحکومت القدس الشریف ہو۔
پاکستان نے عالمی سطح پر جاری تنازعات، جنگوں اور ان کے نتیجے میں پیدا ہونے والے شدید غذائی عدم تحفظ کے دوہرے چیلنجز سے نمٹنے کے لیے بین الاقوامی اصولوں، عالمی انسانی قوانین کی پاسداری اور پیشگی سفارتی حکمتِ عملی اپنانے پر شدید زور دیا ہے۔ اقوامِ متحدہ کی سلامتی کونسل کے زیرِ اہتمام ‘جنگ کی زد میں خوراک: عالمی اور مقامی غذائی بحرانوں کے تدارک میں سلامتی کونسل کا کردار’ کے موضوع پر منعقدہ اعلیٰ سطحی وزارتی مباحثے سے خطاب کرتے ہوئے اقوامِ متحدہ میں پاکستان کے مستقل مندوب سفیر عاصم افتخار احمد نے ‘2026 گلوبل رپورٹ آن فوڈ کرائسز’ کے اعداد و شمار پر گہری تشویش کا اظہار کیا، جس میں دنیا بھر میں بڑھتی ہوئی بھوک اور غذائی قلت کی بنیادی وجہ تشدد اور عسکری تنازعات کو قرار دیا گیا ہے۔ انہوں نے انکشاف کیا کہ گزشتہ ایک سال کے دوران عالمی سطح پر 266 ملین سے زائد افراد شدید ترین غذائی عدم تحفظ کا شکار رہے ہیں جبکہ پچھلی ایک دہائی میں بھوک کے واقعات دگنے ہو چکے ہیں اور شدید بھوک کا سامنا کرنے والے 70 فیصد سے زائد افراد تنازعات کی زد میں گھیرے علاقوں میں مقیم ہیں۔
سفیر عاصم افتخار احمد نے خطاب میں واضح کیا کہ عالمی برادری کو بین الاقوامی انسانی قوانین پر سختی سے عمل درآمد یقینی بنانا ہوگا تاکہ بھوک، قحط اور شہری آبادی کو اجتماعی سزا دینے کے عمل کو کبھی بھی فوجی یا سیاسی مقاصد حاصل کرنے کے لیے بطور ہتھیار استعمال نہ کیا جا سکے۔ انہوں نے غزہ، یمن، سوڈان، جنوبی سوڈان اور ہیٹی کی بگڑتی ہوئی صورتِ حال کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ غزہ میں خوراک و بنیادی ضروریات کی معطلی، امدادی سامان پر پابندیوں اور انسانی بنیادی ڈھانچے کی تباہی نے فلسطینیوں کو ناقابلِ برداشت مصائب میں مبتلا کر دیا ہے۔ انہوں نے مزید کہا کہ تنازعات کی وجہ سے عالمی معیشت، خوراک اور مال برداری کے اخراجات میں بھی ریکارڈ اضافہ ہوا ہے جس کا سب سے بڑا اور غیر متناسب بوجھ غریب اور ترقی پذیر ممالک پر پڑ رہا ہے۔ پاکستان نے مطالبات پیش کیے کہ انسانی امداد میں رکاوٹ ڈالنے والوں کا محاسبہ کیا جائے، امداد کو سیاسی و عسکری شرائط سے پاک رکھا جائے اور WFP و FAO کی رپورٹس کی روشنی میں پیشگی کارروائی کی جائے۔ سفیر عاصم افتخار نے اختتام پر کہا کہ محض انسانی امداد سیاسی حل کا متبادل نہیں ہو سکتی اور امن قائم کیے بغیر دنیا میں پائیدار غذائی تحفظ کا حصول ممکن نہیں ہے۔
حکومتِ پاکستان نے ملک کے دو بڑے اقتصادی و انتظامی مراکز اسلام آباد اور لاہور کے درمیان ایک جدید ترین ہائی سپیڈ ریل کوریڈور قائم کرنے کی باضابطہ منظوری دے دی ہے، جس کا مقصد دونوں شہروں کے درمیان سفری وقت کو نصف سے بھی کم کرنا اور تجارتی روابط کو فروغ دینا ہے۔ اس اہم اور تاریخ ساز منصوبے کی منظوری وفاقی کابینہ اور قومی اقتصادی کونسل کے ایک اعلیٰ سطح کے اجلاس میں دی گئی، جس کی صدارت وزیراعظم نے کی۔ ابتدائی تفصیلات کے مطابق اس جدید ریلوے ٹریک کی کل لمبائی تقریباً تین سو پچاس کلومیٹر ہو گی اور اس پر دو سو کلومیٹر فی گھنٹہ کی رفتار سے سفر کرنے والی بلٹ ٹرین ٹائپ ہائی سپیڈ ٹرینیں چلائی جائیں گی، جس کی بدولت اسلام آباد سے لاہور کا فاصلہ محض پونے دو سے دو گھنٹے میں طے کرنا ممکن ہو سکے گا۔ اس منصوبے کے ذریعے نہ صرف عام مسافروں، تاجروں اور سرکاری حکام کو سفری سہولت میسر آئے گی بلکہ موٹروے اور جی ٹی روڈ پر گاڑیوں کے دباؤ اور ماحولیاتی آلودگی میں بھی نمایاں کمی دیکھنے کو ملے گی۔ وزاتِ ریلوے اور مواصلات کے ذرائع نے بتایا ہے کہ اس منصوبے کی مجموعی لاگت کا تخمینہ اربوں ڈالر لگایا گیا ہے جسے بین الاقوامی اور علاقائی مالیاتی اداروں کی شراکت داری نیز پبلک پرائیویٹ پارٹنرشپ ماڈل کے تحت مکمل کیا جائے گا۔ اس منصوبے کے تحت اسلام آباد اور لاہور کے علاوہ راولپنڈی، جہلم، گجرات اور گوجرانوالہ کے قریب بھی جدید انٹرچینج اسٹیشن بنائے جائیں گے تاکہ ملحقہ علاقوں کی آبادی بھی اس تیز رفتار ٹرانسپورٹ سسٹم سے بھرپور فائدہ اٹھا سکے۔ کابینہ اجلاس کے بعد صحافیوں کو بریفنگ دیتے ہوئے وفاقی وزیرِ مواصلات نے بتایا کہ یہ منصوبہ آنے والی نسلوں کے لیے بنیادی ڈھانچے کا ایک عظیم تحفہ ہو گا جو ملک میں اقتصادی سرگرمیوں میں تزی لانے کے ساتھ ساتھ روزگار کے ہزاروں نئے مواقع پیدا کرے گا۔ انہوں نے مزید کہا کہ اس منصوبے کے لیے جدید اور صاف ستھری گرین انرجی یعنی سولر اور الیکٹرک پاور سسٹم کا استعمال کیا جائے گا تا کہ ایندھن کے درآمدمی بل پر بھی قابو پایا جا سکے اور ماحولیات کو نقصان سے بچایا جا سکے۔ منصوبے کا پہلا فیز تین سال کے عرصے میں مکمل کرنے کا ہدف مقرر کیا گیا ہے اور اس کے لیے زمین کے حصول اور سروے کا کام رواں سال کے آخر تک شروع کر دیا جائے گا۔ معاشی ماہرین اور تجارتی برادری نے اس منصوبے کو ملک کے ٹرانسپورٹیشن سیکٹر میں ایک شاندار انقلاب قرار دیتے ہوئے اس کا پرجوش خیرمقدم کیا ہے اور امید ظاہر کی ہے کہ اس سے ملک کی اندرونی تجارت، سیاحت اور صنعتی نقل و حمل کو بے پناہ استحکام حاصل ہو گا۔
پاکستان نے سوڈان میں بگڑتی ہوئی سیکیورٹی و انسانی صورتحال پر شدید تشویش کا اظہار کرتے ہوئے عالمی برادری سے مسلسل رابطہ کاری، بین الاقوامی انسانی قوانین کی پاسداری اور فوری انسانی امداد کی فراہمی کا مطالبہ کیا ہے۔ اقوامِ متحدہ کی سلامتی کونسل کے اہم اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے اقوامِ متحدہ میں پاکستان کے مستقل مندوب سفیر عاصم افتخار احمد نے واضح کیا کہ سوڈان میں پائیدار امن کی بحالی صرف اور صرف سوڈانی قیادت اور سوڈانی ملکیت میں چلنے والے سیاسی عمل کے ذریعے ہی ممکن ہے۔
سفیر عاصم افتخار احمد نے دارفور، کردفان اور بالخصوص العبید کی ابتر ہوتی صورتحال پر گہری تشویش کا اظہار کیا۔ انہوں نے کہا کہ ریپڈ سپورٹ فورسز (RSF) کے عسکری رویے اور بڑھتی کشیدگی کو دارفور، الجنینہ اور الفاشر میں ہونے والے مظالم کے تناظر میں دیکھا جانا چاہیے۔ انہوں نے زور دیا کہ تنازع اپنے چوتھے سال میں داخل ہو چکا ہے اور اس کا سب سے بڑا خامیانہ عام شہری بھگت رہے ہیں۔ پاکستان نے واضح کیا کہ ایک متحد، مستحکم اور خودمختار سوڈان نہ صرف وہاں کے عوام بلکہ پورے افریقہ کے امن و خوشحالی کے لیے ناگزیر ہے۔
پاکستان نے سلامتی کونسل پر زور دیا کہ وہ خاموش تماشائی بننے کے بجائے فوری طور پر جدہ اعلامیے پر عملدرآمد یقینی بنائے اور بلا رکاوٹ امداد کی رسائی ممکن بنائے۔ سفیر عاصم افتخار نے کونسل پر واضح کیا کہ ایک خودمختار ریاست کی قومی مسلح افواج اور نسل کشی کے التزامات کا سامنا کرنے والی ملیشیا کے درمیان واضح فرق برقرار رکھا جائے اور سوڈان کی تقسیم یا متوازی حکومت قائم کرنے کی کسی بھی کوشش کی سختی سے مخالفت کی جائے۔
اقوام متحدہ کی انڈر سیکرٹری جنرل اور کنونشن برائے انسدادِ صحرا زدگی کے سیکرٹریٹ کی ایگزیکٹو سیکرٹری یاسمین فواد نے چین کے اپنے حالیہ دورے کے دوران بیجنگ میں چائنا میڈیا گروپ کو ایک خصوصی انٹرویو دیا ہے، جس میں انہوں نے زمین کو بنجر ہونے سے بچانے اور سبزہ زاروں کی بحالی کے حوالے سے چین کی عالمی سطح پر نمایاں اور شاندار کامیابیوں کو زبردست الفاظ میں سراہا ہے۔ انہوں نے اس بات پر خاص زور دیا کہ ماحولیاتی تحفظ اور زمین کے تحفظ کے کسی بھی بڑے اور پائیدار منصوبے کی کامیابی کے لیے مضبوط، طویل مدتی اور اٹل سیاسی عزم بنیادی شرط ہے، جو کہ چین کی اعلیٰ قیادت میں واضح طور پر دکھائی دیتا ہے۔
اقوام متحدہ کی ایگزیکٹو سیکرٹری یاسمین فواد نے تفصیلی گفتگو کرتے ہوئے بتایا کہ حالیہ برسوں کے دوران چین میں صحرائی، بنجر اور ریتلی زمینوں کے رقبے میں مسلسل اور نمایاں کمی واقع ہوئی ہے، جس نے چین کو دنیا بھر میں زمینی انحطاط کے منفی رجحان کو مثالی انداز میں تبدیل کرنے والی عالمی مثالوں میں ممتاز ترین مقام پر لا کھڑا کیا ہے۔ انہوں نے مزید کہا کہ چین عالمی سطح پر صحرا زدگی کو روکنے، ماحول کو بچانے اور سبز ترقی کو فروغ دینے کی بین الاقوامی کوششوں میں ایک فعال، بااثر اور پیش پیش رہنما کا کردار ادا کر رہا ہے، اور صحرا زدگی کے خلاف اس طویل اور مسلسل جدوجہد میں سبز ترقی کا چینی ماڈل اور تجربہ دنیا کے دیگر تمام ممالک کے لیے انتہائی قابلِ تقلید اور مشعلِ راہ ثابت ہو سکتا ہے۔
اقوام متحدہ کے بچوں کے فنڈ (یونیسف) نے شدید خبردار کیا ہے کہ صومالیہ میں عالمی انسانی امداد میں کٹوتیوں کی وجہ سے بنیادی طبی و غذائی خدمات تیزی سے بند ہو رہی ہیں، جس کا سب سے زیادہ نقصان معصوم بچوں کو اٹھانا پڑ رہا ہے۔
جنیوا میں صحافیوں کو بریفنگ دیتے ہوئے یونیسف کے ترجمان جیمز ایلڈر نے انکشاف کیا کہ امدادی کٹوتیوں کے نتیجے میں صومالیہ میں سینکڑوں غذائی اور صحتی مراکزبند ہو چکے ہیں، جبکہ تعلیم اور بچاؤ کے دیگر تحفظاتی پروگرام ختم ہو رہے ہیں۔ ترجمان کے مطابق سال 2026ء کے پہلے چھ مہینوں میں شدید غذائی قلت کے شکار بچوں کی سٹیبلائزیشن سینٹرز میں منتقلی میں 32 فیصد اضافہ ریکارڈ کیا گیا ہے، جس کی بنیادی وجہ کمیونٹی کی سطح پر حفاظتی غذائی خدمات کی بندش ہے۔
یونیسف نے خبردار کیا کہ مراکزبند ہونے سے ماؤں کو بچوں کے علاج کے لیے طویل مسافت طے کرنا پڑتی ہے، جس سے علاج میں تاخیر اور بچوں کی ہلاکت کا خدشہ بڑھ جاتا ہے۔ صومالیہ اس وقت شدید خشک سالی، سیلاب اور مشرقِ وسطیٰ کے تنازعات کی وجہ سے ایندھن اور کھاد کی گرانی جیسے سنگین بحرانوں سے گھرا ہوا ہے، جہاں فوری عالمی امداد کی اشد ضرورت ہے۔
اسلام آباد / نیویارک (نیوز اینڈ نیوز) — 20 اگست 2026ء
اقوام متحدہ کے دفتر برائے رابطہِ انسانی امور (او سی ایچ اے) نے خبردار کیا ہے کہ مقبوضہ مغربی کنارے کے علاقے الخلیل کے نزدیک الظاہریہ میں جاری اسرائیلی ملٹری آپریشن اور نافذ کردہ کرفیو کے نتیجے میں اندازاً 40 ہزار سے زائد فلسطینی شہری اپنے ہی گھروں میں قید ہو کر رہ گئے ہیں، جس سے شدید انسانی بحران جنم لے رہا ہے۔
اقوام متحدہ کی روزانہ کی رپورٹ کے مطابق اسرائیلی فورسز کی جانب سے علاقے میں عمارتوں کی چھتوں پر سنائپرز تعینات کر دیے گئے ہیں اور سڑکوں کو مٹی کے ڈھیروں سے بند کر دیا گیا ہے، جس کی وجہ سے بچوں اور معمر افراد سمیت ہزاروں لوگ گھروں سے باہر نہیں نکل پا رہے اور نہ ہی انہیں خوراک، ادویات اور دیگر بنیادی ضروریات زندگی تک رسائی مل رہی ہے۔ او سی ایچ اے کے مطابق تقریباً سات فلسطینی گھروں کو فوجی پوچھ گچھ کے مراکز میں تبدیل کر دیا گیا ہے جبکہ خاندانوں کو ایک ہی کمرے میں بند کر کے رکھا گیا ہے۔
رپورٹ میں غزہ کی صورتحال کا ذکر کرتے ہوئے بتایا گیا کہ غزہ سٹی کی بندرگاہ کے قریب اسرائیلی فضائی حملے میں 7 افراد شہید اور متعدد زخمی ہوئے، جس سے انسانی امدادی سرگرمیاں اور شہریوں کا محفوظ مقامات تک پہنچنا انتہائی دشوار ہو گیا ہے۔ اقوام متحدہ نے تمام سیکیورٹی آپریشنز میں بین الاقوامی قوانین کے احترام اور عام شہریوں کے تحفظ کو یقینی بنانے کا مطالبہ کیا ہے۔
پاکستان نے اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل میں لیبیا کے اندر پائیدار امن، معاشی استحکام اور ادارہ جاتی یکجہتی کے لیے مسلسل مذاکرات، حقیقی یکجہتی اور قومی مفاہمت پر زور دیتے ہوئے کہا ہے کہ ایک جامع، لیبیا کے اپنے زیرِ قیادت اور ان کی اپنی ملکیت پر مبنی سیاسی عمل ہی ملک کو درپیش مسائل سے نکالنے اور آگے بڑھانے کا واحد مؤثر راستہ ہے۔
اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل میں اقوام متحدہ کے معاونتی مشن برائے لیبیا کے حوالے سے منعقدہ اہم بریفنگ کے دوران اقوام متحدہ میں پاکستان کے مستقل مندوب سفیر عاصم افتخار احمد نے خطاب کیا۔ انہوں نے لیبیا کے سیاسی عمل اور قومی مفاہمت کو آگے بڑھانے کے لیے یو این ایس ایم آئی ایل کی کاوشوں کو بھرپور انداز میں سراہا۔ سفیر عاصم نے لیبیا کی خودمختاری، آزادی، علاقائی سالمیت اور قومی وحدت کے لیے پاکستان کی غیر متزلزل اور اصولی حمایت کا اعادہ کرتے ہوئے اس بات پر زور دیا کہ اقوام متحدہ کی معاونت سے جاری اس سیاسی عمل کو کامیابی سے آگے بڑھانے کے لیے لیبیا کے تمام اندرونی اور متعلقہ فریقوں کے درمیان مضبوط سیاسی عزم اور باہمی تعاون کا ہونا انتہائی ناگزیر ہے۔
پاکستان نے یو این ایس ایم آئی ایل کے سیاسی روڈ میپ کے تحت ہونے والی پیش رفت کا خیرمقدم کیا، جس میں ہائی نیشنل الیکشن کمیشن کے بورڈ کے چیئرپرسن کی تقرری کے لیے ایک مشترکہ طریقہ کار پر اتفاق بھی شامل ہے۔ پاکستانی مندوب نے اسٹرکچرڈ ڈائیلاگ کے اختتام کو سراہتے ہوئے امید ظاہر کی کہ اس گفتگو کے نتیجے میں سامنے آنے والی سفارشات جلد ہی ادارہ جاتی یکجہتی اور قومی مفاہمت کے فروغ کے لیے عملی اقدامات کی شکل اختیار کریں گی۔
امورِ سکیورٹی پر بات کرتے ہوئے سفیر عاصم افتخار احمد نے مشرقی اور مغربی لیبیا کے فوجی و سکیورٹی اداروں کے درمیان قائم ہونے والے رابطوں، بالخصوص فائیو پلس فائیو جوائنٹ ملٹری کمیشن کے ذریعے ہونے والی مثبت پیش رفت کا خیرمقدم کیا۔ انہوں نے کہا کہ ملکی سطح پر متحد اور ایک ہی فریم ورک کے تحت کام کرنے والے سکیورٹی اداروں کے قیام کے لیے تمام فریقوں کے درمیان مسلسل مذاکرات اور اعتماد سازی کے اقدامات مسلسل جاری رہنے چاہئیں۔
پاکستانی مستقل مندوب نے اپنے خطاب میں 2026ء کے یونیفائیڈ اسپینڈنگ فریم ورک کے ذریعے مالیاتی ہم آہنگی میں سامنے آنے والی پیش رفت کو بھی سراہا اور ملکی سطح پر اقتصادی استحکام، مالیاتی نظم و ضبط، شفافیت، احتساب اور قومی وسائل کی تمام علاقوں میں منصفانہ تقسیم کو یقینی بنانے کی اہمیت پر زور دیا۔ انہوں نے ملک کے اندر عدالتی یکجہتی، قانون کی حکمرانی اور آئینی نگرانی کو مزید مضبوط بنانے کی ضرورت کو اجاگر کیا۔ اپنے بیان کے اختتام پر سفیر عاصم نے کہا کہ سیاسی، سکیورٹی، اقتصادی اور عدالتی شعبوں میں متوازن پیش رفت ہی قومی مفاہمت اور ایک مضبوط و متحد حکومت کے قیام کی راہ ہموار کرے گی، جو لیبیا کے عوام کے لیے پائیدار امن، استحکام اور خوشحالی کو یقینی بنائے گی۔ انہوں نے ان تمام مقاصد اور کوششوں کے لیے پاکستان کی طرف سے مسلسل اور مکمل حمایت فراہم کرنے کا عزم دہرايا۔
اقوام متحدہ کے شعبہ برائے انسانی امور کے ہنگامی امدادی دفتر (او سی ایچ اے) نے تشویشناک اعداد و شمار جاری کرتے ہوئے بتایا ہے کہ سال 2025ء کے دوران دنیا بھر میں اپنے فرائض کی ادائیگی کے دوران ہلاک ہونے والے امدادی کارکنوں کی مجموعی تعداد 350 تک پہنچ گئی۔ رپورٹس کے مطابق ان میں سے سب سے زیادہ یعنی 186 امدادی اہلکار غزہ اور 71 سوڈان میں ہلاک ہوئے۔ ‘او سی ایچ اے’ کے بیان کے مطابق سال 2025ء امدادی کارکنوں کے خلاف تشدد کا ایک اور انتہائی المناک اور ریکارڈ سال ثابت ہوا، جس کے دوران کل 907 کارکن ہلاک، زخمی یا اغوا کا شکار ہوئے۔
تحقیقاتی ادارے “ہیومینیٹیرین آؤٹ کمز” کے ڈیٹا بیس کے مطابق یہ تعداد سال 2024ء میں ہلاک ہونے والے 377 امدادی کارکنوں کے مقابلے میں معمولی سی کم ہے۔ عالمی ادارے کی رپورٹ کے مطابق سال 2026ء کے آغاز سے اب تک دنیا بھر میں مزید 82 امدادی کارکن قتل، 97 شدید زخمی اور 39 اغوا ہو چکے ہیں۔ اقوام متحدہ نے انسانی ہمدردی کے تحت کام کرنے والے عملے پر بڑھتے ہوئے حملوں اور خاص طور پر جدید ٹیکنالوجی کے منفی استعمال پر شدید تحفظات کا اظہار کیا ہے۔
اقوام متحدہ کے دفتر نے خبردار کیا ہے کہ کم لاگت اور جدید ٹیکنالوجی سے لیس مسلح ڈرونز کا پھیلاؤ ایک انتہائی سنگین اور نیا خطرہ بن چکا ہے، جس سے مختلف فریقین کو مہلک طاقت کے استعمال کا موقع مل رہا ہے۔ رپورٹس کے مطابق سوڈان میں رواں سال کے ابتدائی چار ماہ کے دوران ہونے والی عام شہریوں کی 80 فیصد اموات انہی ڈرون حملوں کی وجہ سے ہوئی ہیں، جن میں خاص طور پر مقامی منڈیوں اور طبی مراکزی کو نشانہ بنایا گیا۔
اقوام متحدہ کے امدادی امور کے سربراہ ٹام فلیچر نے صورتحال پر شدید تشویش کا اظہار کرتے ہوئے کہا ہے کہ گزشتہ صرف تین سالوں کے دوران 1000 سے زائد امدادی کارکنان کا مارا جانا کسی بھی طور قابلِ قبول نہیں۔ انہوں نے زور دیا کہ محض مذمت کر دینے سے انسانی حقوق کے محافظوں کو تحفظ نہیں ملے گا، بلکہ عالمی ریاستوں کو بین الاقوامی انسانی حقوق کے قوانین پر سختی سے عمل کرنا ہوگا اور خلاف ورزی کرنے والوں کا احتساب یقینی بنانا ہوگا۔ ٹام فلیچر نے واضح کیا کہ ٹیکنالوجی کتنی ہی کیوں نہ بدل جائے، جنگ کے بنیادی انسانی قوانین کبھی نہیں بدلتے۔
اقوام متحدہ کی انڈر سیکرٹری جنرل یاسمین فواد نے چائنا میڈیا گروپ کو دیے گئے ایک خصوصی انٹرویو میں ماحول اور معیشت کے باہمی تعلق پر روشنی ڈالتے ہوئے کہا ہے کہ “سرسبز پہاڑ اور شفاف پانی” ہی دنیا کے لیے سب سے مستحکم اور پائیدار معاشی سرمایہ کاری ہیں۔ انہوں نے چین کے صدر شی جن پنگ کے پیش کردہ ماحولیاتی و معاشی تصور کی اہمیت کو سراہتے ہوئے کہا کہ یہ نظریہ کہ “سرسبز پہاڑ اور شفاف پانی انمول اثاثے ہیں”، دنیا کے تمام ترقیاتی شعبوں میں ایک نمایاں اور جدید سمت فراہم کرتا ہے۔
انٹرویو کے دوران یاسمین فواد نے خبردار کیا کہ ایک طرف قدرتی وسائل اور ماحول کو مسلسل تباہ کرنا اور دوسری طرف یہ توقع رکھنا کہ معاشی ترقی سے لازوال فائدے حاصل ہوں گے، بالکل ناممکن اور غیر منطقی ہے۔ انہوں نے واضح کیا کہ معاشی ترقی کا یہ پرانا اور فرسودہ طریقہ صرف قلیل مدتی فوائد دے سکتا ہے، جبکہ طویل مدت میں دنیا کو اس کی انتہائی بھاری قیمت چکانی پڑے گی۔ ان کا کہنا تھا کہ ماحولیاتی بحرانوں کا حل ہمارے سامنے موجود ہے اور دنیا کو اب بحران پیدا ہونے کے بعد کارروائی کا انتظار کرنے کے بجائے مضبوط عزم کے ساتھ فوری اور فعال اقدامات اپنانے کی اشد ضرورت ہے۔
اقوامِ متحدہ میں پاکستان کے مستقل مشن اور قونصلیٹ جنرل آف پاکستان، نیویارک کے مشترکہ اور باہمی اہتمام سے چانسلری کی عمارت میں ملک کے 79ویں یومِ آزادی کی مناسبت سے ایک انتہائی شاندار، والہانہ اور پروقار پرچم کشائی کی تقریب منعقد کی گئی۔ اس تاریخی اور اہم تقریب میں امریکہ بالخصوص نیویارک اور گرد و نواح میں مقیم پاکستانی برادری، سفارتی اہلکاروں، خواتین، بچوں اور زندگی کے مختلف شعبوں سے تعلق رکھنے والی ممتاز شخصیات نے انتہائی جوش و جذبے اور ملی یکجہتی کے ساتھ شرکت کی۔
تقریب کا باقاعدہ اور پروقار آغاز پاکستان کے قومی ترانے کی دلکش اور روح پرور دھن سے ہوا، جس کے ساتھ ہی اقوامِ متحدہ میں پاکستان کے مستقل مندوب سفیر عاصم افتخار احمد نے تمام حاضرین کی موجودگی میں پاکستان کا سبز ہلالی پرچم لہرایا۔ اس موقع پر چانسلری کا احاطہ پاکستان زندہ باد کے نعروں سے گونج اٹھا۔ پرچم کشائی کے فوراً بعد تقریب میں موجود تمام ارکان اور معزز مہمانوں نے ملکی سلامتی، پائیدار ترقی، استحکام اور امن و امان کے لیے خصوصی اجتماعی دعا کی۔
بانیٔ پاکستان قائداعظم محمد علی جناح اور تحریکِ پاکستان کو خراجِ عقیدت
تقریب کے باقاعدہ اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے اقوامِ متحدہ میں پاکستان کے مستقل مندوب سفیر عاصم افتخار احمد نے یومِ آزادی کی مبارکباد پیش کرتے ہوئے اس دن کی تاریخی اہمیت، پاکستان کے بنیادی نظریہ اور قومی مقاصد پر تفصیلی روشنی ڈالی۔ انہوں نے بانیٔ پاکستان قائداعظم محمد علی جناح کی لازوال قیادت، اصول پسندی اور دوراندیشی کو شاندار الفاظ میں خراجِ عقیدت پیش کرتے ہوئے انہیں ایک غیر معمولی مدبر اور تاریخی ریاست ساز قرار دیا۔ سفیر عاصم افتخار احمد کا کہنا تھا کہ قائداعظم نے نہ صرف برصغیر کے مسلمانوں کے لیے ایک الگ وطن کی تاریخی جدوجہد کی باوقار قیادت کی بلکہ عالمی نقشے پر ایک آزاد، خود مختار اور باوقار قومی ریاست کی بنیاد بھی رکھی۔
اپنے خطاب کے دوران سفیر عاصم افتخار احمد نے مشہور و معروف امریکی مؤرخ اور سوانح نگار اسٹینلے وولپرٹ کے قائداعظم محمد علی جناح کے بارے میں تاریخی قول کا بالخصوص حوالہ دیا۔ انہوں نے اسٹینلے وولپرٹ کے الفاظ کو دہراتے ہوئے کہا:
“بہت کم افراد تاریخ کے دھارے کا رخ نمایاں طور پر بدلتے ہیں۔ اس سے بھی کم لوگ دنیا کے نقشے میں تبدیلی لاتے ہیں۔ اور شاید ہی کسی کو ایک قومی ریاست کے قیام کا اعزاز حاصل ہوتا ہے۔ محمد علی جناح نے یہ تینوں عظیم الشان کارنامے تنہا انجام دیے۔”
انہوں نے مزید کہا کہ قائداعظم کے متعین کردہ اصول—اتحاد، ایمان اور نظم و ضبط—آج بھی پاکستانی قوم کے لیے ایک روشن مشعلِ راہ کی حیثیت رکھتے ہیں اور انہی اصولوں پر کاربند رہ کر ہم دنیا میں پیش آنے والے کسی بھی چیلنج پر آسانی سے قابو پا سکتے ہیں۔
1947ء سے 2026ء تک کا شاندار قومی سفر اور مسلح افواج کو سلام
سفیر عاصم افتخار احمد نے 14 اگست 1947ء سے لے کر آج یعنی 14 اگست 2026ء تک کے قومی سفر کی کٹھن راہوں کا احاطہ کرتے ہوئے کہا کہ پاکستان نے اپنے قیام کے بعد سے متعدد سخت، جیو پولیٹیکل اور معاشی چیلنجز کا سامنا کیا ہے، لیکن پاکستانی قوم نے ہر مشکل گھڑی میں غیر معمولی استقامت، اتحاد اور عالی ہمتی کا مظاہرہ کیا ہے۔
انہوں نے وطنِ عزیز کی سرحدوں کے دفاع اور شہریوں کی تحفظ کی خاطر دن رات کوشاں پاکستان کی مسلح افواج کی جرات، شجاعت اور مسلسل ثابت قدمی کو دل کھول کر سراہا۔ سفیر عاصم افتخار نے مئی 2025ء میں بھارت کے ساتھ پیش آنے والی حالیہ شدید کشیدگی اور سرحدی ناخوشگوار صورتحال کا ذکر کرتے ہوئے کہا کہ ہماری افواج نے مئی 2025ء کے دوران جس بے مثال طاقت، پیشہ ورانہ مہارت، حکمتِ عملی اور دفاعی عزم کا مظاہرہ کیا، اس نے پوری دنیا پر ثابت کر دیا کہ پاکستان کی سرحدیں مکمل طور پر محفوظ اور ناقابل تسخیر ہیں۔ انہوں نے شہدائے وطن کو سلام پیش کیا جن کی عظیم قربانیوں کی بدولت آج ملک آزاد اور محفوظ فضا میں سانس لے رہا ہے۔
پاکستانی خواتین، نوجوانوں اور بین الاقوامی سفارت کاری میں کامیابی
پاکستانیوں کی عالمی سطح پر حاصل کردہ کامیابیوں کا تذکرہ کرتے ہوئے سفیر عاصم افتخار احمد نے دنیا بھر میں مقیم پاکستانیوں بالخصوص شعبہ سائنس، تکنیکی جدت، کھیلوں، فن و ثقافت اور سفارت کاری میں نمایاں کارکردگی دکھانے والی شخصیات کی تعریف کی۔ انہوں نے تقریب میں موجود سفارتی مشن سے منسلک ممتاز خواتین محترمہ صائمہ سلیم اور محترمہ علینہ مجید کی خدمات کو بالخصوص سراہتے ہوئے کہا کہ ان کی مسلسل محنت اور پیشہ ورانہ صلاحیتیں مستقل مشن میں سب کے لیے باعثِ فخر اور مشعلِ راہ ہیں۔
عالمگیر امن کے قیام اور بین الاقوامی سفارت کاری میں پاکستان کے مثبت کردار پر بات کرتے ہوئے سفیر عاصم افتخار نے کہا کہ عالمی سطح پر رونما ہونے والے تنازعات کے باوجود پاکستان نے ہمیشہ امن کا راستہ اپنایا ہے۔ انہوں نے حالیہ ایران تنازع کے دوران پاکستان کے مثبت اور مؤثر ثالثانہ کردار کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ پاکستان نے خطے اور عالمی سطح پر پائیدار امن اور استقامت کے لیے ہمیشہ ذمہ دارانہ سفارت کاری کی پاسداری کی ہے۔
کشمیر اور فلسطین کے لیے غیر متزلزل اخلاقی و سفارتی حمایت
سلامتی کونسل اور اقوامِ متحدہ کے فورمز کا حوالہ دیتے ہوئے مستقل مندوب سفیر عاصم افتخار احمد نے واضح کیا کہ پاکستان اپنے تاریخی اور اصولی موقف پر سختی سے قائم ہے۔ انہوں نے کہا کہ جموں و کشمیر کے غیر ملکی تسلط میں محصور عوام کی حقِ خودارادیت کی جدوجہد کے لیے پاکستان کی اخلاقی، سیاسی اور سفارتی حمایت جاری رہے گی۔ اس کے ساتھ ساتھ، انہوں نے مظلوم فلسطینی عوام کے لیے پاکستان کے غیر متزلزل عزم کو دہراتے ہوئے کہا کہ جب تک مقبوضہ عرب علاقوں اور فلسطین کے عوام کو ان کا جائز اور قانونی حقِ خودارادیت نہیں مل جاتا، پاکستان عالمی سطح پر ان کی آواز بلند کرتا رہے گا۔
قونصل جنرل عامر احمد اتوزئی کا خطاب اور پاک امریکہ تعلقات
تقریب سے قونصل جنرل پاکستان نیویارک عامر احمد اتوزئی نے بھی ایک فکر انگیز اور تفصیلی خطاب کیا۔ انہوں نے بانیٔ پاکستان قائداعظم محمد علی جناح، مصورِ پاکستان علامہ محمد اقبال اور تحریکِ پاکستان کے تمام شہداء و مجاہدین کو زبردست الفاظ میں خراجِ عقیدت پیش کیا۔ انہوں نے کہا کہ آزادی ایک انمول نعمت اور عظیم الشان ورثہ ہونے کے ساتھ ساتھ ایک بھاری قومی ذمہ داری بھی ہے۔
قونصل جنرل نے امریکہ میں مقیم پاکستانی نژاد برادری کی خدمات کو سراہتے ہوئے کہا کہ اوورسیز پاکستانی ملک کا اصل سرمایہ اور ہمارا فخر ہیں۔ امریکہ میں مقیم پاکستانی نہ صرف معاشی ترسیلاتِ زر، براہ راست سرمایہ کاری، خیراتی کاموں اور اپنے تعلیمی و معاشی تجربات کے ذریعے ملکی ترقی میں اہم ترین حصہ ڈال رہے ہیں، بلکہ وہ پاکستان اور امریکہ کے کے درمیان ایک مضبوط، پائیدار اور ناقابلِ شکست سفارتی و ثقافتی پل کا کردار بھی ادا کر رہے ہیں۔
انہوں نے یومِ آزادی کو صرف ایک روایتی جشن تک محدود رکھنے کے بجائے ایک مضبوط، خوشحال، مساوی اور جدت پسند پاکستان کی تعمیر کے لیے اپنے عزم کو دہرانے کا دن قرار دیا۔ قونصل جنرل نے نوجوان نسل پر زور دیا کہ وہ آئندہ دو دہائیوں کے چیلنجز کا مقابلہ کرنے کے لیے خود کو علم، ٹیکنالوجی اور اعلیٰ اخلاقی اقدار سے آراستہ کریں، تاکہ جب پاکستان اپنی آزادی کے سو سال مکمل کرے تو وہ دنیا کی صفِ اول کی قوموں میں شامل ہو۔
پیغامات کی خواندگی اور بچوں کے ساتھ کیک کاٹنے کی تقریب
تقریب کے ابتدائی مرحلے میں چانسلری کے سینئر افسران ذوالفقار علی، عمر شیخ اور محمد فہیم نے بالترتیب صدرِ مملکت آصف علی زرداری، وزیراعظم محمد شہباز شریف اور نائب وزیراعظم و وزیرِ خارجہ سینیٹر محمد اسحاق ڈار کے یومِ آزادی کی مناسبت سے بھیجے گئے خصوصی، فکر انگیز اور تہنیتی پیغامات تمام حاضرین کو پڑھ کر سنائے۔ پرچم کشائی اور پورے پروگرام کی باقاعدہ نظامت و کارروائی کے فرائض قونصلر جواد اجمل نے انتہائی خوش اسلوبی سے انجام دیے۔
تقریب کے اختتامی مرحلے پر سفیر عاصم افتخار احمد نے قونصل جنرل عامر احمد اتوزئی، ڈپٹی مستقل مندوب سفیر عثمان جدون، سفارتی افسران اور تقریب میں موجود بچوں کے ساتھ مل کر یومِ آزادی کا کیک کاٹا۔ بچوں سے خطاب کرتے ہوئے سفیر عاصم افتخار نے انہیں پاکستان کا تابناک مستقبل قرار دیا اور کہا کہ یہ ہماری اجتماعی قومی ذمہ داری ہے کہ ہم اپنے بچوں کو ایک ایسا پاکستان سونپیں جو ہمیشہ روشن، پائیدار اور خود مختار رہے۔ تقریب کے اختتام پر تمام شرکاء کے لیے پرکلف روایتی پاکستانی refreshments کا انتظام بھی کیا گیا تھا، جہاں برادری کے افراد نے ایک دوسرے کو گلے مل کر جشنِ آزادی کی مبارکباد دی۔