Latest news

جی 7 کا ایران سے حوثیوں کی مالی و عسکری امداد روکنے کا مطالبہ: بحیرہ احمر اور باب المندب میں بڑھتی کشیدگی پر تشویش

Spread the love

محمود احمد, September 22,2026

نیویارک (نیوز اینڈ نیوز) — 22 ستمبر 2026ء

دنیا کی سات بڑی صنعتی معیشتوں پر مشتمل جی 7 ممالک کے وزرائے خارجہ نے اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی کے موقع پر نیویارک میں ہونے والے اہم اجلاس کے بعد مشترکہ بیان میں ایران سے پرزور مطالبہ کیا ہے کہ وہ یمن کے حوثی گروپ کو اسلحے کی ترسیل اور ہر قسم کی معاونت کا سلسلہ فوری طور پر بند کرے۔ برطانیہ، کینیڈا، فرانس، جرمنی، اٹلی، جاپان اور امریکہ کے وزرائے خارجہ نے حوثیوں کی جانب سے سعودی عرب پر حملوں اور عالمی بحری تجارتی راستوں کو درپیش خطرات کی شدید الفاظ میں مذمت کرتے ہوئے تمام ملٹری کارروائیاں معطل کرنے اور سیاسی مذاکرات کی طرف لوٹنے پر زور دیا ہے۔

عالمی طاقتوں کی یہ اہم سفارتی پیش رفت ایک ایسے وقت میں سامنے آئی ہے جب حوثی فورسز نے بحیرہ احمر کے ساحلی علاقے میں کارروائیوں کو تیز کرتے ہوئے اہم اسٹریٹجک بندرگاہی شہر مخا پر اپنا کنٹرول حاصل کر لیا ہے۔ باب المندب جیسی کلیدی تجارتی گزرگاہ کے قریب حوثیوں کی اس پیش قدمی نے توانائی اور سامان کی ترسیل سے جڑے عالمی سکیورٹی خدشات کو انتہائی ہائی الرٹ پر پہنچا دیا ہے۔ اگرچہ ذرائع کی جانب سے حوثیوں کی کامیابیوں میں ایرانی ہتھیاروں اور عسکری مشیروں کے کردار کا دعویٰ کیا جا رہا ہے، تاہم تہران ان الزامات کو ہمیشہ کی طرح مسترد کرتا رہا ہے۔

یمن میں شدت اختیار کرتی ہوئی اس تازہ جنگ نے علاقے میں شدید انسانی بحران کو جنم دیا ہے۔ اقوام متحدہ اور عالمی ادارہ خوراک (WFP) کی رپورٹس کے مطابق ستمبر کے آغاز سے اب تک 1 لاکھ 20 ہزار سے زائد افراد گھر بار چھوڑنے پر مجبور ہو چکے ہیں، جبکہ مخا میں امدادی سہولیات پر کنٹرول کے باعث انسانی امداد کی فراہمی میں رکاوٹیں پیدا ہو رہی ہیں۔ دوسری جانب مخا کے قصبے میں سعودی اتحاد کے مبینہ فضائی حملوں میں خواتین اور بچوں سمیت کم از کم 6 افراد کی ہلاکت کی اطلاعات بھی موصول ہوئی ہیں جس کے بعد علاقے میں کشیدگی کا گراف مزید بلند ہو گیا ہے۔

نیوز اینڈ نیوز کی وضاحت:

یہ خبر اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی کے موقع پر جی 7 کے جاری کردہ باضابطہ مشترکہ اعلامیے اور بین الاقوامی امدادی اداروں کی تازہ رپورٹوں پر مبنی ہے۔ یمن کے محاذ پر ہونے والی پیش رفت پر تفصیلی رپورٹ جاری رکھی جائے گی۔

ماخذ: بین الاقوامی ڈیسک، نیوز اینڈ نیوز نیویارک / صنعاء۔