

محمود احمد, September 22,2026
نیویارک (نیوز اینڈ نیوز) — 22 ستمبر 2026ء
ایران کے وزیر خارجہ عباس عراقچی اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی کے 81ویں اجلاس میں شرکت اور عالمی سفارتی مشن کی قیادت کے لیے نیویارک پہنچ گئے ہیں، جہاں پہنچتے ہی انہوں نے اقوام متحدہ کے سیکریٹری جنرل انتونیو گوتریس سے ٹیلیفون پر اہم گفتگو کی ہے۔ نیویارک پہنچنے پر میڈیا نمائندگان سے گفتگو کرتے ہوئے ایرانی وزیر خارجہ نے واضح کیا کہ تہران کا اس بین الاقوامی پلیٹ فارم پر آمد کا بنیادی اور اہم ترین مقصد ایران کے عوام کے جائز حقوق، ملکی مفادات اور علاقائی موقف کا عالمی برادری کے سامنے مؤثر دفاع کرنا ہے۔
وزارتِ خارجہ ایران کے ترجمان اسماعیل بقائی نے سماجی رابطے کی ویب سائٹ ‘ایکس’ پر معلومات کا تبادلہ کرتے ہوئے تصدیق کی کہ عباس عراقچی جنرل اسمبلی کے اعلیٰ سطحی ہفتے (18 تا 28 ستمبر) اور 22 ستمبر سے شروع ہونے والے جنرل ڈیبیٹ کے موقع پر متعدد ہم منصب وزرائے خارجہ اور بین الاقوامی تنظیموں کے سربراہان سے ملاقاتیں کریں گے۔ امریکہ نے ایرانی صدر مسعود پزشکیان اور وزیر خارجہ کو ویزے جاری کر دیے ہیں، تاہم ان کے سفارتی عملے اور نقل و حرکت پر کچھ مخصوص حد بندیاں قائم رکھی گئی ہیں۔
ایران اور امریکہ کے درمیان جاری سنگین فوجی و سیاسی کشیدگی کے اس دور میں ایرانی وزیر خارجہ کا سیکریٹری جنرل انتونیو گوتریس سے رابطہ اور صدارتی وفد کا یہ دورہ سفارتی محاذ پر انتہائی غیر معمولی قرار دیا جا رہا ہے۔ ایرانی صدر مسعود پزشکیان بھی جنرل اسمبلی میں اپنا تاریخی خطاب پیش کرنے کے لیے جلد نیویارک پہنچ رہے ہیں، جہاں دنیا کی نظریں ایران کی جانب سے پیش کیے جانے والے نئے سفارتی اور معاشی مطالبات پر مرکوز ہیں۔
نیوز اینڈ نیوز کی وضاحت:
یہ خبر ایران کی وزارتِ خارجہ کے ترجمان اسماعیل بقائی کے بیانات اور اقوام متحدہ کے طے شدہ اعلیٰ سطحی شیڈول پر مبنی ہے۔ سیکریٹری جنرل انتونیو گوتریس اور ایرانی وزیر خارجہ کے درمیان ہونے والے ٹیلیفونک رابطے کے مکمل مندرجات باضابطہ جاری ہونے پر شائع کیے جائیں گے۔
ماخذ: بین الاقوامی سفارتی ڈیسک، نیوز اینڈ نیوز نیویارک / تہران۔