

منصور احمد,September 22,2026
راولپنڈی (نیوز اینڈ نیوز) — 22 ستمبر 2026ء
راولپنڈی میں مختلف احتجاجی سرگرمیوں اور امن و امان کے نام پر ہوٹلوں، موٹلوں اور گیسٹ ہاؤسز کی غیر معینہ مدت کے لیے مبینہ بندش کے خلاف تاجر برادری نے قانونی چارہ جوئی کا راستہ اختیار کرتے ہوئے لاہور ہائی کورٹ کے راولپنڈی بینچ سے رجوع کر لیا ہے۔ مقامی ہوٹل کے مالک احتشام الحق نے وکیل نزاکت حسین عباسی کے توسط سے آئینی درخواست دائر کی، جس میں چیف سیکریٹری پنجاب، ہوم سیکریٹری، ڈپٹی کمشنر راولپنڈی اور سٹی پولیس آفیسر (سی پی او) کو فریق بنایا گیا ہے۔
درخواست گزار نے موقف اختیار کیا کہ پولیس اور ضلعی انتظامیہ تحریری احکامات جاری کرنے کے بجائے زبانی ہدایات کے ذریعے بلاجواز ہوٹل بند کروا رہی ہے۔ درخواست میں نشاندہی کی گئی کہ گزشتہ ایک سال کے دوران انتظامیہ 20 سے زائد مرتبہ کاروبار معطل کروا چکی ہے، جبکہ تازہ ترین زبانی حکم میں ہوٹلوں کو غیر معینہ مدت کے لیے بند رکھنے کی ہدایت کی گئی ہے۔ اس مسلسل بندش کی وجہ سے ہوٹل انڈسٹری شدید معاشی بحران کا شکار ہو چکی ہے اور مالکان کے لیے بجلی و گیس کے بھاری بل، ملازمین کی تنخواہیں اور عمارتوں کا کرایہ ادا کرنا ناممکن ہو گیا ہے۔
اس سے قبل انٹر سٹی ہوٹل ایسوسی ایشن کے صدر شیخ عبد الوحید نے بھی انتظامیہ کے رویے پر تحفظات کا اظہار کرتے ہوئے واضح کیا تھا کہ ہوٹل انڈسٹری کا کسی سیاسی جماعت یا احتجاج سے کوئی تعلق نہیں۔ انہوں نے کہا کہ تاجر انتظامیہ سے کامل تعاون کے لیے تیار ہیں اور اگر کسی مخصوص فرد کے بارے میں سکیورٹی خدشات ہوں تو اس کے خلاف قانون کے مطابق کارروائی کی جائے، لیکن پورے شعبے کو تالے لگانا کسی طور پر بھی دانشمندانہ حل نہیں۔ تاجروں نے عدالت سے استدعا کی ہے کہ انتظامیہ کو ہراسانی سے روکا جائے اور ہوٹل فوری طور پر دوبارہ کھولنے کا حکم دیا جائے۔
نیوز اینڈ نیوز کی وضاحت:
یہ خبر لاہور ہائی کورٹ راولپنڈی بینچ میں دائر کی گئی درخواست اور انٹر سٹی ہوٹل ایسوسی ایشن کے رہنماؤں کے باضابطہ بیانات پر مبنی ہے۔ عدالتی سماعت کی ابتدائی پیش رفت اور انتظامیہ کا موقف سامنے آنے پر پورٹ اپ ڈیٹ کر دی جائے گی۔
ماخذ: لیگل ڈیسک، نیوز اینڈ نیوز راولپنڈی۔