Latest news

عالمی جہاز رانی کی تاریخ کا شدید ترین بحران: مسلح تنازعات کے باعث 100 بحری کارکن جان سے گئے، آئی ایم او کی تنبیہ

Spread the love

محمود احمد, September 24,2026

نیویارک (نیوز اینڈ نیوز) — 24 ستمبر 2026ء

انٹرنیشنل میری ٹائم آرگنائزیشن (IMO) کے سیکریٹری جنرل آرسینیو ڈومینگیز نے خبردار کیا ہے کہ موجودہ دور میں عالمی جہاز رانی کی صنعت کو جنگوں اور مسلح تنازعات کے باعث بے مثال بحران اور خطرات کا سامنا ہے۔ اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی کے 81ویں اجلاس کے موقع پر ذرائع ابلاغ سے گفتگو کرتے ہوئے انہوں نے انکشاف کیا کہ جون سے اب تک آبنائے ہرمز، بحیرہ اسود، بحیرۂ آزوف اور بحیرۂ احمر جیسے اہم ترین سمندری راستوں میں ہونے والے واقعات کے نتیجے میں تقریباً 100 بحری کارکن (سی فاررز) اپنی جانوں سے ہاتھ دھو بیٹھے ہیں۔

آئی ایم او کے سربراہ نے زور دیا کہ سمندری تجارت اور تجارتی جہازوں کی حفاظت کے لیے محض تکنیکی یا انتظامی تدابیر کافی نہیں بلکہ عالمی برادری کو سیاسی سطح پر فوری اور مؤثر اقدامات کرنا ہوں گے۔ عالمی تنظیم کے اعداد و شمار کے مطابق فروری میں مشرق وسطیٰ کی جنگ کے آغاز کے بعد سے سیکڑوں تجارتی جہاز اور تقریباً 6 ہزار بحری کارکن خلیج فارس میں پھنسے ہوئے ہیں۔ سیکریٹری جنرل نے واضح کیا کہ آزادانہ نقل و حرکت کے بنیادی اصول کی خلاف ورزی سے عالمی سپلائی چین، خوراک، ایندھن اور کھاد کی عالمی ترسیل بری طرح متاثر ہو رہی ہے، جس کے نتیجے میں معاشی بوجھ براہِ راست عام صارفین پر پڑے گا۔

نیوز اینڈ نیوز کی وضاحت:

یہ رپورٹ اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی کے موقع پر آئی ایم او کے سیکریٹری جنرل آرسینیو ڈومینگیز کے انٹرویو اور 16 ستمبر تک کے آئی ایم او کے باضابطہ ریکارڈ کی روشنی میں مرتب کی گئی ہے۔ جانی نقصانات اور حملوں کے اعداد و شمار بحری تحفظ کی عالمی رپورٹس کے عین مطابق ہیں۔

ماخذ: بین الاقوامی میری ٹائم ڈیسک، بی بی سی (BBC) / نیوز اینڈ نیوز نیویارک۔