Latest news

ٹرمپ کے خطاب کے بعد اقوام متحدہ کی تقریر میں آخری وقت پر تبدیلیاں کیں: ایرانی صدر مسعود پزشکیان

Spread the love

روزینہ اسماعیل, September 24,2026

نیویارک (نیوز اینڈ نیوز) — 24 ستمبر 2026ء

ایرانی صدر مسعود پزشکیان نے انکشاف کیا ہے کہ انہوں نے اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی سے امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے سخت اور دھمکی آمیز بیان کے بعد اپنی تیار کردہ تقریر کے مسودے میں فوری تبدیلیاں کیں۔ ان کے مطابق واشنگٹن کے دباؤ اور فوجی کارروائی کی دھمکیوں کا براہِ راست جواب دینے کے لیے انہوں نے اپنی تقریر میں اضافی نکات شامل کیے، جن میں یہ واضح موقف بھی شامل تھا کہ ایران کی فوجی طاقت صرف اور صرف دفاعی مقاصد کے لیے ہے اور اس کے لیے تہران کو کسی کی اجازت درکار نہیں۔

ایرانی سرکاری نشریاتی ادارے کو دیے گئے انٹرویو میں صدر پزشکیان نے بتایا کہ 22 ستمبر کو ڈونلڈ ٹرمپ کی جانب سے جنرل اسمبلی سے خطاب کے دوران شدید ردِعمل سامنے آنے کے بعد انہوں نے اپنے مسودے میں ترمیم کی۔ ٹرمپ نے اپنے خطاب میں کہا تھا کہ اگر تہران کے ساتھ امن معاہدہ نہ ہوا تو امریکہ سخت فوجی اقدام کر سکتا ہے، جبکہ انہوں نے ایران کو سیکیورٹی اور معاشی بحالی یا پھر مکمل تباہی میں سے ایک کے انتخاب کا چیلنج دیا تھا۔

ایران کے صدر مسعود پزشکیان نے جنرل اسمبلی کے ڈائس سے امریکی الزامات کو سختی سے مسترد کرتے ہوئے کہا کہ تہران طاقت یا دباؤ کے تحت مسلط کی گئی کسی بھی شرط کو قبول نہیں کرے گا۔ انہوں نے واضح کیا کہ ایران علاقائی استحکام اور ہمسایہ ممالک کے ساتھ شراکت داری کا حامی ہے، تاہم وہ اپنی بقا اور قومی سلامتی پر کوئی سمجھوتا نہیں کرے گا۔ انہوں نے ان ممالک کو بھی آڑے ہاتھوں لیا جو خود بین الاقوامی قوانین کی پاسداری نہیں کرتے مگر ایران پر خطے میں عدم استحکام کے الزامات لگاتے ہیں۔

یہ ڈرامائی سفارتی پیش رفت ایک ایسے وقت میں سامنے آئی ہے جب نیویارک میں اقوام متحدہ کے اجلاس کے حاشیے پر امریکہ اور ایران کے درمیان بالواسطہ سفارتی رابطے بھی جاری ہیں۔ امریکی نمائندے اسٹیو وٹکوف اور بین الاقوامی خبر رساں اداروں کے مطابق ثالثوں کے ذریعے دونوں ممالک کے درمیان بات چیت ہوئی ہے، تاہم حتمی پیش رفت یا تفصیلاں ابھی سامنے نہیں آئی ہیں۔ ایرانی حکام نے واضح کیا ہے کہ وہ سفارت کاری کے لیے تیار ہیں، بشرطیکہ امریکہ فوجی دباؤ ختم کرے، بحری ناکہ بندی ہٹائے اور آبنائے ہرمز کی بحالی کے لیے عملی اقدامات کرے۔

نیوز اینڈ نیوز کی وضاحت: یہ خبر اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی کے 81ویں اجلاس کے موقع پر ایرانی صدر مسعود پزشکیان کے سرکاری انٹرویو، امریکی صدر کے خطاب اور نیویارک میں جاری سفارتی رابطوں کی موصول شدہ اطلاعات کی بنیاد پر مرتب کی گئی ہے۔ اس کا مقصد دوطرفہ تناؤ اور سفارتی صورتحال کی درست اور متوازن معلومات فراہم کرنا ہے۔

ماخذ: ایرانی سرکاری نشریاتی ادارہ (IRIB)، رائٹرز (Reuters) اور اقوام متحدہ کے ڈیسک کی رپورٹس۔