
روزینہ اسماعیل, September 25,2026
نیویارک (نیوز اینڈ نیوز) — 25 ستمبر 2026ء
اسلامی جمہوریہ ایران کے وزیرِ خارجہ عباس عراقچی نے سنسنی خیز انکشاف کرتے ہوئے کہا ہے کہ تہران نے ثالث ممالک کے ذریعے امریکہ کو عالمی اہمیت کی حامل آبی گزرگاہ آبنائے ہرمز کو دوبارہ کھولنے اور معطل شدہ جوہری مذاکرات کی بحالی کے لیے ایک جامع تجویز ارسال کی ہے۔ اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی کے اجلاس کے موقع پر نیویارک میں بین الاقوامی صحافیوں اور امریکی تھنک ٹینکس سے گفتگو کرتے ہوئے ایرانی وزیر خارجہ نے کہا کہ اگر واشنگٹن ایران کے ساتھ طے پانے والی سابقہ شرائط پر عملدرآمد یقینی بناتا ہے تو تہران محض سات دنوں کے اندر آبنائے ہرمز کو بحری آمدورفت کے لیے مکمل طور پر کھول سکتا ہے۔
عباس عراقچی نے وضاحت کی کہ تہران کی جانب سے پیش کی جانے والی شرائط کوئی نئی یا اضافی نہیں ہیں بلکہ ان کی بنیاد “اسلام آباد مفاہمتی یادداشت (MoU)” پر استوار ہے، جس میں بحری ناکہ بندی، ایرانی اثاثوں پر عائد پابندیوں اور خطے میں جنگ بندی کے معاہدت شامل تھے۔ انہوں نے زور دیا کہ ایران نومبر میں ہونے والے امریکی وسط مدتی (Midterm) انتخابات سے پہلے اس پیشکش کا عملی نفاذ چاہتا ہے۔ انہوں نے واضح کیا کہ حتمی وقت کا انحصار اب امریکہ کے فیصلے پر ہے، جبکہ قطر سمیت مختلف ثالثوں کے ذریعے سفارتی رابطے اور پیغامات کا تبادلہ جاری ہے۔ تاہم، امریکی انتظامیہ کی جانب سے ایرانی شرط کی باضابطہ منظوری کے بغیر یہ پیشکش فی الوقت ایک یکطرفہ سفارتی تجویز کے طور پر دیکھی جا رہی ہے۔
نیوز اینڈ نیوز کی وضاحت:
یہ رپورٹ نیویارک میں ایرانی وزیرِ خارجہ کی پریس کانفرنس، الجزیرہ (Al Jazeera) اور بین الاقوامی سفارتی ذرائع کی مصدقہ اطلاعات کی روشنی میں مرتب کی گئی ہے۔
ماخذ: ایران منسٹری آف فارن افیئرز، الجزیرہ (Al Jazeera)، نیویارک ڈیسک / نیوز اینڈ نیوز۔