

روزینہ اسماعیل, September 25,2026
نیویارک (نیوز اینڈ نیوز) — 26 ستمبر 2026ء —
پاکستان کے نائب وزیر اعظم اور وزیر خارجہ سینیٹر محمد اسحاق ڈار نے نیویارک میں اقتصادی تعاون تنظیم (ای سی او) کے وزرائے خارجہ کے 27ویں غیر رسمی اجلاس کی صدارت کی، جس میں علاقائی و عالمی صورت حال، معاشی تعاون اور خطے میں رابطوں کے فروغ سے متعلق امور پر تبادلہ خیال کیا گیا۔
اجلاس اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی کے 81ویں اجلاس کے موقع پر منعقد ہوا، جس میں ای سی او کے رکن ممالک کے وزرائے خارجہ اور اعلیٰ حکام نے شرکت کی۔ تنظیم کے سیکریٹری جنرل ڈاکٹر اسد مجید خان نے بھی اجلاس کو بریفنگ دی۔
علاقائی سلامتی اور تنازعات کے پُرامن حل پر زور
اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے اسحاق ڈار نے خطے اور مشرق وسطیٰ کی موجودہ سیکیورٹی صورت حال پر تشویش کا اظہار کیا۔ انہوں نے کہا کہ علاقائی استحکام اور پائیدار ترقی کے لیے تنازعات کا پُرامن حل اور ممالک کے درمیان تعاون میں اضافہ ضروری ہے۔
پاکستانی وزیر خارجہ نے علاقائی مکالمے، باہمی احترام اور مشترکہ کوششوں کی اہمیت اجاگر کرتے ہوئے کہا کہ خطے کے ممالک کو درپیش چیلنجز سے نمٹنے کے لیے اقتصادی تعاون اور رابطوں کو مضبوط بنانا وقت کی اہم ضرورت ہے۔
پاکستان کی ای سی او صدارت کی ترجیحات
اسحاق ڈار نے بتایا کہ پاکستان کی اقتصادی تعاون تنظیم کی 2026-27 کی صدارت کے دوران علاقائی تجارت میں اضافے، معاشی انضمام اور رکن ممالک کے درمیان اقتصادی روابط کو فروغ دینے پر توجہ دی جائے گی۔
ان کے مطابق پاکستان کی ترجیحات میں وسطی ایشیا کو بحیرہ عرب سے ملانے والے رابطہ اور ٹرانزٹ منصوبوں کو مضبوط بنانا بھی شامل ہے۔ ان منصوبوں کے ذریعے علاقائی منڈیوں تک رسائی، تجارتی سرگرمیوں میں اضافے اور نقل و حمل کے بہتر نظام کو فروغ دینے کی کوشش کی جائے گی۔
انہوں نے موسمیاتی تبدیلیوں کے اثرات سے نمٹنے اور موسمیاتی لچک بڑھانے کے لیے رکن ممالک کے درمیان تعاون کو بھی اہم ترجیح قرار دیا۔
ای سی او میں علاقائی معاشی انضمام کی اہمیت
اقتصادی تعاون تنظیم ایک علاقائی تنظیم ہے جس کا مقصد رکن ممالک کے درمیان تجارت، اقتصادی ترقی، نقل و حمل اور باہمی تعاون کو فروغ دینا ہے۔ وسطی اور مغربی ایشیا کے ممالک کے درمیان تجارتی روابط کے فروغ اور خطے کو عالمی منڈیوں سے جوڑنے میں تنظیم کا کردار اہم سمجھا جاتا ہے۔
نیویارک میں ہونے والے اجلاس میں رکن ممالک کی شرکت اور علاقائی و عالمی امور پر تبادلہ خیال اس بات کی عکاسی کرتا ہے کہ تنظیم کے پلیٹ فارم پر معاشی تعاون کے ساتھ علاقائی سلامتی اور مشترکہ چیلنجز بھی زیر بحث رہے۔
پاکستان کی 2026-27 کی صدارت کے دوران تجارت، ٹرانزٹ رابطوں، معاشی انضمام اور موسمیاتی تعاون سے متعلق ترجیحات پر پیش رفت رکن ممالک کے درمیان مشاورت اور مشترکہ اقدامات سے مشروط ہوگی۔
نیوز اینڈ نیوز کی وضاحت: یہ خبر فراہم کردہ معلومات کی بنیاد پر مرتب کی گئی ہے۔ اجلاس میں زیر بحث امور اور پاکستان کی صدارت کی ترجیحات کو فراہم کردہ بیان کے مطابق بیان کیا گیا ہے؛ کسی مخصوص منصوبے کے لیے نئی منظوری یا مالی معاہدے کی اطلاع فراہم نہیں کی گئی۔
ماخذ: فراہم کردہ اجلاس کی تفصیلات اور پاکستان کے وزیر خارجہ سے متعلق بیان