

کاشف عباسی , September 26,2026
پشاور (نیوز اینڈ نیوز) — 26 ستمبر 2026ء
وزیراعلیٰ خیبر پختونخوا سہیل آفریدی نے وفاقی حکومت کو مذاکرات کی پیشکش کرتے ہوئے کہا ہے کہ اگر حکومت مسائل کا حل چاہتی ہے تو آئندہ سات روز میں افہام و تفہیم کے ذریعے راستہ نکالا جا سکتا ہے، تاہم پاکستان تحریک انصاف (پی ٹی آئی) کا 4 اکتوبر کو اسلام آباد کی جانب لانگ مارچ کا فیصلہ اٹل ہے۔
وزیراعلیٰ ہاؤس پشاور میں صحافیوں سے گفتگو کرتے ہوئے سہیل آفریدی نے کہا کہ تحریک انصاف نے لانگ مارچ کی کال دینے سے پہلے ہی مذاکرات کی بات کی تھی، لیکن اس وقت حکومت کی جانب سے کوئی پیش رفت نہیں ہوئی۔ ان کے مطابق اب احتجاج کے قریب آ کر مذاکرات کی ضرورت محسوس کیے جانے پر سوالات پیدا ہوتے ہیں۔
وزیراعلیٰ نے کہا کہ 4 اکتوبر صرف شروعات ہوگی اور اگر عوام سڑکوں پر نکل آئے تو حکومت برقرار نہیں رہ سکے گی۔ انھوں نے کہا، ’اس دفعہ نکلے تو واپس نہیں آئیں گے‘، اور واپسی کے فیصلے کو حکومت کے مستقبل سے جوڑا۔
لانگ مارچ کی تیاری، حکومت کو سات دن کی مہلت
سہیل آفریدی کے مطابق تحریک انصاف کی سیاسی کمیٹی نے لانگ مارچ کے آغاز میں تاخیر کا فیصلہ حکمت عملی کے تحت کیا تھا تاکہ حکومت کو معاملات حل کرنے کا موقع دیا جا سکے۔ انھوں نے کہا کہ پارٹی اب بھی مسائل کا سیاسی حل چاہتی ہے۔
وزیراعلیٰ نے دعویٰ کیا کہ لانگ مارچ کے لیے گاڑیوں اور بڑی تعداد میں موٹرسائیکلوں کا انتظام کر لیا گیا ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ اگر کسی قسم کی ’مہم جوئی‘ کی گئی تو عوام 24 گھنٹوں کی کال پر سڑکوں پر نکل آئیں گے۔
انھوں نے وفاقی حکومت سے مطالبہ کیا کہ احتجاج سے پہلے مذاکرات کے ذریعے مسائل حل کرنے کی کوشش کی جائے، تاہم واضح کیا کہ لانگ مارچ کا فیصلہ واپس نہیں لیا گیا۔
بانی پی ٹی آئی کی رہائی اور طبی سہولتوں کا معاملہ
بانی پی ٹی آئی عمران خان کی رہائی اور انھیں فراہم کی جانے والی سہولتوں کے حوالے سے سہیل آفریدی نے کہا کہ گزشتہ نو ماہ کے دوران تمام قانونی راستے اختیار کیے گئے اور عدالتوں سے بھی رجوع کیا گیا۔
ان کے مطابق کوشش کی گئی کہ عمران خان کا علاج ان کے ذاتی ڈاکٹروں کی نگرانی میں اور اہل خانہ کی موجودگی میں ہو، لیکن ان کی بات نہیں سنی گئی۔
وزیراعلیٰ نے کہا کہ اب حکومت کی جانب سے رابطے کرکے احتجاج ملتوی کرنے کا کہا جا رہا ہے، جبکہ ان کے بقول گزشتہ نو ماہ کے دوران مطالبات پر کوئی پیش رفت نہیں ہوئی۔
ممکنہ نااہلی اور مولانا فضل الرحمان سے متعلق بیان
اپنی ممکنہ نااہلی یا عہدے سے ہٹائے جانے کے سوال پر سہیل آفریدی نے کہا کہ ایسی صورت میں ان کا متبادل عمران خان خود طے کریں گے۔ انھوں نے کہا کہ اگر انھیں نااہل کیا گیا تو وہ مزید خطرناک ہو جائیں گے اور انھیں ہٹانے کی صورت میں لوگ سڑکوں پر نکل آئیں گے۔
جمعیت علمائے اسلام (ف) کے سربراہ مولانا فضل الرحمان کے حوالے سے وزیراعلیٰ نے کہا کہ اگر وہ تحریک انصاف کے مؤقف کے قریب آتے ہیں تو ان کا خیرمقدم کیا جائے گا۔ ان کا کہنا تھا کہ انھیں یقین ہے کہ مولانا فضل الرحمان بالآخر ان کی ’پچ‘ پر آئیں گے۔
وفاقی وزیر اطلاعات عطا تارڑ کے بیان پر تنقید کرتے ہوئے سہیل آفریدی نے الزام لگایا کہ یہ بیان منصوبہ بندی کے تحت دیا گیا اور اس سے ملک میں نفرت کے ماحول کو فروغ مل رہا ہے۔
معاشی کارکردگی پر تنقید، عہدہ چھوڑنے کا عندیہ
وزیراعلیٰ خیبر پختونخوا نے وفاقی حکومت کی معاشی کارکردگی پر بھی سوال اٹھائے۔ ان کا کہنا تھا کہ شہباز شریف کے دور میں متعدد بجٹ پیش کیے جا چکے ہیں، لیکن قرضوں میں مسلسل اضافہ ہوا ہے۔
سہیل آفریدی نے کہا کہ اگر وزارتِ اعلیٰ کی کرسی ان کے مقصد اور نظریے کی راہ میں رکاوٹ بنی تو وہ عہدہ چھوڑنے میں دیر نہیں کریں گے۔ انھوں نے کہا، ’میں ٹیپو سلطان بننا پسند کروں گا۔‘
نیوز اینڈ نیوز کی وضاحت: اس خبر میں سہیل آفریدی کی صحافیوں سے گفتگو کے دوران بیان کردہ مؤقف، دعووں اور سیاسی اعلانات کو ان سے منسوب کیا گیا ہے۔ لانگ مارچ کے انعقاد، شرکا کی تعداد، حکومتی ردعمل یا سیاسی نتائج کے بارے میں کوئی آزادانہ پیش گوئی نہیں کی گئی۔
ماخذ: وزیراعلیٰ خیبر پختونخوا سہیل آفریدی کی وزیراعلیٰ ہاؤس پشاور میں صحافیوں سے گفتگو — فراہم کردہ خبر کا متن۔