پمز ہسپتال میں آتشزدگی عمران خان کے خلاف سازش ہو سکتی ہے: وزیراعلیٰ خیبر پختونخوا کا شدید خدشات اور الزامات کا اظہار

کاشف عباسی , August 27,2026

پشاور (نیوز اینڈ نیوز) — 27 اگست 2026ء

وزیراعلیٰ خیبر پختونخوا محمد سہیل آفریدی نے وفاقی دارالحکومت اسلام آباد کے سرکاری ہسپتال پمز (پاکستان انسٹیٹیوٹ آف میڈیکل سائنسز) کے نرسری وارڈ میں پیش آنے والے ہولناک آتشزدگی کے واقعے اور معصوم نومولود بچوں کی شہادت پر انتہائی گہرے دکھ اور صدمے کا اظہار کرتے ہوئے ایک سنسنی خیز اور سنگین ادعا پیش کیا ہے۔ پشاور میں ایک تقریب سے خطاب کرتے ہوئے انہوں نے خدشہ ظاہر کیا ہے کہ پمز ہسپتال میں ہونے والا یہ آتشزدگی کا واقعہ پاکستان تحریکِ انصاف کے بانی اور سابق وزیراعظم عمران خان کو نشانہ بنانے یا ان کے خلاف بچھایا گیا کوئی خفیا جال بھی ہو سکتا تھا۔ وزیراعلیٰ کا کہنا تھا کہ پمز ہسپتال کی نرسری میں اپنی جانوں سے ہاتھ دھونے والے معصوم نوزائیدہ بچوں کا کسی سیاسی احتجاج یا اقتدار کی کشمکش سے دور دور تک کوئی تعلق نہیں تھا اور وہ بے زبان بچے اپنے حق میں بول بھی نہیں سکتے تھے، اس لیے اس دل دوز واقعے کے پیچھے مجرمانہ غفلت اور سازش شامل ہے جس کی شفاف، اعلیٰ سطحی اور غیر جانبدارانہ تحقیقات کا ہونا نہایت ضروری ہے۔

بقايا خطاب کے دوران عمران خان کے حالیہ طبی معائنے اور ہسپتال منتقلی کا حوالہ دیتے ہوئے وزیراعلیٰ نے سنگین الزامات عائد کیے کہ ابھی چند دن قبل بانی پی ٹی آئی عمران خان کو بھی طبی معائنے اور علاج کی غرض سے اسی پمز ہسپتال لایا گیا تھا، جس سے یہ شک پختہ ہوتا ہے کہ شاید ان کے لیے بھی وہاں کوئی خطرناک جال بچھایا گیا تھا تاکہ مستقبل میں کسی حادثے یا آتشزدگی کی آڑ میں ان کی جان لی جا سکے، باقی واللہ اعلم، یہ لوگ اپنے مقاصد کے لیے کچھ بھی کر سکتے ہیں اور بعد میں کسی بھی حادثے کا بہانہ تراش سکتے ہیں۔ اس المناک واقعے کے تناظر میں سہیل آفریدی نے صوبائی محکمہ صحت کو فوری ہدایات جاری کی ہیں کہ خیبر پختونخوا کے تمام سرکاری اور نجی ہسپتالوں میں آتشزدگی سے بچاؤ، ایمرجنسی ایگزٹ اور ہنگامی سیفٹی انتظامات کا تفصیلی آڈٹ کیا جائے اور ہسپتالوں کے حفاظتی ضوابط کا ازسرِنو جائزہ لے کر عملے کو فائر فائٹنگ کی تربیتی مشقیں کروائی جائیں تاکہ مریضوں کی مکمل حفاظت یقینی بنائی جا سکے۔