

محمود احمد, September 27,2026
اسلام آباد (نیوز اینڈ نیوز) — 27 ستمبر 2026ء
امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے کہا ہے کہ انہیں توقع ہے کہ امریکہ اور ایران کے درمیان رواں ہفتے مزید مذاکرات ہوں گے، تاہم انہوں نے واضح کیا ہے کہ ایران کی جانب سے پیش کی جانے والی موجودہ شرائط واشنگٹن کے لیے قابلِ قبول نہیں ہیں۔ ٹرمپ نے ایران پر دوبارہ فوجی حملوں کے امکان کو بھی مسترد نہیں کیا۔
امریکی نشریاتی ادارے ایکسیوس کو اتوار کو دیے گئے ٹیلی فونک انٹرویو میں ٹرمپ نے کہا کہ انہیں امید ہے کہ ایران کے ساتھ مزید بات چیت ہوگی اور ایرانی حکام معاہدہ کرنا چاہتے ہیں، لیکن تہران جس نوعیت کا معاہدہ چاہتا ہے، وہ امریکی صدر کی خواہشات سے مطابقت نہیں رکھتا۔
ٹرمپ کے بقول، ’’شاید ایک سال پہلے ہم ایسے معاہدے پر رضامند ہو جاتے، لیکن اب حالات بدل چکے ہیں۔ ایران نے اپنی پوزیشن ضرورت سے زیادہ استعمال کر لی ہے۔‘‘
ایران پر دوبارہ حملوں کا امکان برقرار
انٹرویو کے دوران جب امریکی صدر سے پوچھا گیا کہ کیا وہ ایران پر دوبارہ حملے کرنے کے امکان پر غور کر رہے ہیں تو انہوں نے جواب دیا کہ وہ اس امکان پر ہمیشہ غور کرتے رہتے ہیں۔
ٹرمپ کے اس بیان سے ظاہر ہوتا ہے کہ سفارتی رابطوں کے باوجود امریکہ نے ایران کے خلاف مزید فوجی کارروائی کے امکان کو مکمل طور پر خارج نہیں کیا۔
قطر کی ثالثی میں مذاکرات کی کوششیں
ایکسیوس کی رپورٹ کے مطابق قطر اور دیگر علاقائی ثالث امریکہ اور ایران کے درمیان بالواسطہ مذاکرات بحال کرنے کی کوشش کر رہے ہیں۔ رپورٹ میں دو علاقائی ذرائع کے حوالے سے بتایا گیا ہے کہ مذاکرات کا اگلا دور پیر سے بھی شروع ہو سکتا ہے، تاہم دونوں ممالک کے درمیان بنیادی معاملات پر اختلافات برقرار ہیں۔
ایران آبنائے ہرمز کو دوبارہ کھولنے اور امریکی بحری ناکہ بندی کے خاتمے کو مذاکرات کا اہم حصہ قرار دیتا ہے، جبکہ امریکی انتظامیہ کسی بھی ممکنہ معاہدے میں ایران کے جوہری پروگرام سے متعلق رعایتوں کا مطالبہ کر رہی ہے۔
رپورٹ کے مطابق امریکی نمائندوں اسٹیو وٹکوف اور جیرڈ کشنر نے اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی کے موقع پر نیویارک میں ایرانی وزیر خارجہ عباس عراقچی سے بالواسطہ مذاکرات کیے تھے، جن میں قطری حکام نے دونوں فریقوں کے درمیان پیغامات پہنچائے۔
ایران نے تجویز دی تھی کہ امریکی بحری ناکہ بندی ختم کرنے، تیل کی فروخت پر پابندیاں ہٹانے اور علاقائی جنگ بندی بحال کرنے کی صورت میں آبنائے ہرمز کو سات روز کے اندر دوبارہ کھولا جا سکتا ہے اور جوہری مذاکرات بھی بحال کیے جا سکتے ہیں۔
ٹرمپ نے ہفتے کے روز اس تجویز کو مسترد کر دیا تھا، تاہم ثالثی کے ذریعے رابطے جاری ہیں۔
ایران کا سفارتی حل پر زور
ایرانی وزیر خارجہ عباس عراقچی نے بھی اتوار کو کہا کہ تہران سفارتی حل کے لیے تیار ہے اور ثالثوں کے ذریعے امریکی مؤقف کے باضابطہ جواب کا انتظار کر رہا ہے۔
عراقچی کے مطابق ایران کے فیصلوں کی بنیاد اس کے قومی مفادات ہیں، جبکہ امریکی داخلی سیاست یا انتخابات ایران کے مذاکراتی مؤقف کا حصہ نہیں۔
فی الحال امریکہ اور ایران کے درمیان کسی حتمی معاہدے یا مذاکرات کے نئے دور کے باضابطہ آغاز کی تصدیق نہیں ہوئی۔ دونوں ممالک کے درمیان آبنائے ہرمز، بحری ناکہ بندی اور جوہری پروگرام سے متعلق اختلافات ممکنہ معاہدے کی راہ میں اہم رکاوٹ ہیں۔
نیوز اینڈ نیوز کی وضاحت:
امریکی صدر کا رواں ہفتے مزید مذاکرات کی توقع ظاہر کرنا کسی حتمی معاہدے یا جنگ بندی کا اعلان نہیں ہے۔ ایران اور امریکہ کے درمیان مذاکرات قطر سمیت علاقائی ثالثوں کے ذریعے جاری رکھنے کی کوششیں کی جا رہی ہیں۔ ایران پر دوبارہ حملوں سے متعلق ٹرمپ کا بیان ان کے ذاتی اور سرکاری مؤقف کی عکاسی کرتا ہے، کسی نئی فوجی کارروائی کی تصدیق نہیں۔
ماخذ: ایکسیوس (Axios)، یروشلم پوسٹ (The Jerusalem Post)