

منصور احمد,September 27,2026
راولپنڈی (نیوز اینڈ نیوز) — 27 ستمبر 2026ء
پاکستانی فوج کے شعبۂ تعلقات عامہ (آئی ایس پی آر) نے کہا ہے کہ بلوچستان کے مختلف علاقوں میں جاری انسدادِ دہشت گردی آپریشنز کے دوران گزشتہ 96 گھنٹوں میں 71 سے زائد شدت پسند ہلاک کیے جا چکے ہیں۔ کارروائیوں کے دوران متعدد ٹھکانوں کو کلیئر کرنے کے علاوہ اسلحہ، گولہ بارود اور دھماکا خیز مواد بھی برآمد کیا گیا ہے۔
آئی ایس پی آر کے مطابق انٹیلیجنس اداروں نے کوئٹہ کے علاقے شابان میں شدت پسندوں کے متعدد ٹھکانوں کی نشاندہی کی تھی، جہاں سے مقامی آبادی کو خطرات لاحق تھے۔ ان اطلاعات کی بنیاد پر سکیورٹی فورسز نے 21 ستمبر کو زیارت اور ملحقہ علاقوں میں کارروائی شروع کی۔
شابان اور زیارت میں آپریشن
فوج کے ترجمان ادارے کے مطابق آپریشن کے دوران شدید فائرنگ کے تبادلے کے بعد 33 شدت پسند ہلاک کیے گئے، جبکہ متعدد ٹھکانوں کو کلیئر کر کے وہاں سے اسلحہ، گولہ بارود اور دھماکا خیز مواد برآمد کیا گیا۔
بیان میں کہا گیا ہے کہ گزشتہ 72 گھنٹوں کے دوران کارروائیوں میں مزید شدت لائی گئی، جس کے نتیجے میں مزید 23 شدت پسند ہلاک ہوئے۔ سکیورٹی فورسز نے ایک وسیع علاقے کو کلیئر کیا ہے جبکہ باقی ماندہ خطرات کے خاتمے کے لیے کلیئرنس آپریشن جاری ہے۔
آئی ایس پی آر کے مطابق ان کارروائیوں کا مقصد علاقے میں شدت پسندوں کی موجودگی سے مقامی آبادی کو لاحق خطرات کا خاتمہ کرنا ہے۔
نوشکی اور مند میں الگ کارروائیاں
آئی ایس پی آر نے بتایا کہ 25 ستمبر کو ضلع نوشکی میں انٹیلیجنس بنیادوں پر ایک الگ کارروائی کی گئی، جس کے دوران شدت پسندوں کے ایک مبینہ ٹھکانے کو نشانہ بنایا گیا اور 11 افراد ہلاک ہوئے۔
بیان کے مطابق مند کے علاقے میں بھی ایک کارروائی کے دوران مزید چھ شدت پسند ہلاک کیے گئے۔ اس کارروائی میں بڑی مقدار میں اسلحہ اور گولہ بارود برآمد کرنے کا دعویٰ کیا گیا ہے۔
فوج کے ترجمان ادارے کا کہنا ہے کہ شابان، نوشکی، مند اور بلوچستان کے دیگر علاقوں میں جاری آپریشنز کے دوران مجموعی طور پر 71 سے زائد شدت پسند ہلاک کیے جا چکے ہیں۔
آپریشن جاری رکھنے کا اعلان
آئی ایس پی آر نے اپنے بیان میں ہلاک ہونے والے افراد کو بھارتی حمایت یافتہ شدت پسند گروہوں سے وابستہ قرار دیا ہے اور افغانستان کی طالبان حکومت پر بھی پاکستان میں دہشت گردی کی سرگرمیوں میں ملوث ہونے کا الزام عائد کیا ہے۔
تاہم ان الزامات کی آزادانہ تصدیق کے لیے مزید شواہد دستیاب نہیں ہیں۔
بیان کے مطابق قومی ایکشن پلان کے تحت وفاقی ایپکس کمیٹی سے منظور شدہ انسدادِ دہشت گردی مہم ’’عزمِ استحکام‘‘ جاری رہے گی، جبکہ سکیورٹی فورسز اور قانون نافذ کرنے والے ادارے ملک میں دہشت گردی کے خاتمے کے لیے کارروائیاں جاری رکھیں گے۔
نیوز اینڈ نیوز کی وضاحت:
ہلاکتوں، برآمدگیوں اور آپریشن کی تفصیلات پاکستانی فوج کے شعبۂ تعلقات عامہ کے بیان پر مبنی ہیں۔ ہلاک ہونے والے افراد کی شناخت اور ان سے منسوب تنظیموں کے بارے میں آزادانہ تصدیق دستیاب نہیں۔ افغانستان کی طالبان حکومت اور بھارت سے متعلق الزامات کو بھی آئی ایس پی آر سے منسوب کیا گیا ہے۔
ماخذ: آئی ایس پی آر: