Latest news

ایران کا امریکا کو انتباہ، نئی فوجی کارروائی کی صورت میں زیادہ نقصان پہنچانے کی دھمکی

Spread the love

منصور احمد,September 27,2026

تہران (نیوز اینڈ نیوز) — 27 ستمبر 2026ء

ایران کی فوج نے امریکا کو خبردار کیا ہے کہ اگر واشنگٹن نے خطے میں دوبارہ کوئی فوجی کارروائی کی تو ایرانی مسلح افواج اس کا بھرپور جواب دینے اور امریکی افواج کو پہلے سے زیادہ نقصان پہنچانے کے لیے تیار ہیں۔ ایرانی فوج کا یہ بیان امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی جانب سے آبنائے ہرمز کو دوبارہ کھولنے اور کشیدگی ختم کرنے سے متعلق ایرانی تجویز مسترد کیے جانے کے بعد سامنے آیا ہے۔

خبر رساں ادارے روئٹرز کے مطابق ایرانی فوج کے ترجمان بریگیڈیئر جنرل محمد اکرمینیا نے اتوار کو ایرانی سرکاری میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ خطے میں امریکا کی موجودہ صورتحال اچھی نہیں اور واشنگٹن اس صورتحال کے باعث نئی فوجی جارحیت کا راستہ اختیار کر سکتا ہے۔

اکرمینیا نے دعویٰ کیا کہ ایران کی مسلح افواج کسی بھی ممکنہ حملے یا تصادم کا مقابلہ کرنے کے لیے مکمل طور پر تیار ہیں۔ ان کے مطابق اگر امریکا نے دوبارہ فوجی کارروائی کی تو اسے پہلے سے زیادہ نقصان اٹھانا پڑے گا۔

آبنائے ہرمز میں مداخلت پر بھی انتباہ

ایرانی مسلح افواج کے سینئر ترجمان ابوالفضل شیکرچی نے بھی امریکا کو خبردار کیا ہے کہ آبنائے ہرمز میں کسی بھی قسم کی امریکی مداخلت کا بھرپور جواب دیا جائے گا۔

شیکرچی کے مطابق امریکا کے پاس مغربی ایشیا سے نکلنے کے سوا کوئی راستہ نہیں، اور امریکی افواج جتنی جلد خطے سے واپس جائیں گی، انہیں اتنا ہی کم نقصان اٹھانا پڑے گا۔

ایرانی حکام کے بیانات ایسے وقت میں سامنے آئے ہیں جب آبنائے ہرمز کی صورت حال امریکا اور ایران کے درمیان جاری کشیدگی کا مرکزی نکتہ بنی ہوئی ہے۔ عالمی تجارت اور توانائی کی ترسیل کے لیے اہم اس آبی گزرگاہ پر جاری تنازع نے سمندری آمدورفت اور تیل کی عالمی منڈیوں کے حوالے سے بھی تشویش پیدا کر رکھی ہے۔

ٹرمپ نے ایرانی تجویز مسترد کر دی

امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے ایران کی جانب سے آبنائے ہرمز کو سات روز کے اندر دوبارہ کھولنے اور دشمنی ختم کرنے سے متعلق پیش کردہ منصوبہ مسترد کر دیا ہے۔

ایران نے اس سے قبل آبنائے ہرمز کو دوبارہ کھولنے کے لیے امریکی بحری ناکہ بندی میں نرمی اور دیگر شرائط پوری کرنے کا مطالبہ کیا تھا۔ ایرانی وزیر خارجہ عباس عراقچی کے مطابق تہران ثالثوں کے ذریعے واشنگٹن کے باضابطہ اور حتمی جواب کا انتظار کر رہا ہے۔

ایرانی حکام کا کہنا ہے کہ سفارتی حل کے امکانات کو مکمل طور پر ختم نہیں کیا گیا، تاہم ان کے مطابق کسی بھی معاہدے کے لیے ایران کی شرائط اور مطالبات پر پیش رفت ضروری ہے۔

دوسری جانب امریکی حکومت کی جانب سے ایرانی تجویز مسترد کیے جانے اور دونوں ممالک کے فوجی بیانات سے خطے میں کشیدگی برقرار ہے۔ فی الحال کسی نئے معاہدے یا فوجی کارروائی کے حوالے سے حتمی پیش رفت کی تصدیق نہیں ہوئی۔

نیوز اینڈ نیوز کی وضاحت:

ایرانی فوج کے بیانات کو ایران کا سرکاری مؤقف اور ممکنہ امریکی کارروائی کے خلاف انتباہ سمجھا جائے؛ یہ کسی نئی امریکی فوجی کارروائی کی تصدیق نہیں ہیں۔ آبنائے ہرمز کو دوبارہ کھولنے سے متعلق سفارتی رابطے جاری ہونے کی اطلاعات ہیں، تاہم کسی حتمی معاہدے کا اعلان سامنے نہیں آیا۔

ماخذ: روئٹرز، دی اسٹریٹس ٹائمز، الجزیر