Latest news

شاہ مراکش کی سعودی عرب پر حوثی حملوں کی مذمت، خلیجی سلامتی کو مراکش کی سلامتی قرار دے دیا

Spread the love

محمود احمد, September 27,2026

رباط (نیوز اینڈ نیوز) — 27 ستمبر 2026ء

مراکش کے بادشاہ محمد ششم نے سعودی عرب پر حوثیوں کے ڈرون اور میزائل حملوں کی مذمت کرتے ہوئے کہا ہے کہ سعودی عرب اور دیگر خلیجی ریاستوں کی سلامتی مراکش کی اپنی سلامتی کا لازمی حصہ ہے۔ انہوں نے سعودی قیادت کے ساتھ یکجہتی کا اظہار کرتے ہوئے خلیجی ممالک کے اہم مفادات کے تحفظ کو مراکش کے مشترکہ اسٹریٹجک مفادات کا تحفظ قرار دیا ہے۔

مراکش کی سرکاری خبر رساں ایجنسی کے مطابق شاہ محمد ششم نے سعودی فرمانروا شاہ سلمان بن عبدالعزیز اور ولی عہد و وزیراعظم محمد بن سلمان کو الگ الگ پیغامات بھیجے، جن میں سعودی عرب کی سلامتی اور استحکام کے لیے مراکش کی حمایت کا اعادہ کیا گیا۔

شاہی دفتر کے بیان کے مطابق شاہ محمد ششم نے کہا کہ سعودی عرب اور خلیج تعاون کونسل (جی سی سی) کے دیگر ممالک کی سلامتی مراکش کی اپنی سلامتی سے جڑی ہوئی ہے۔ ان کے بقول سعودی عرب پر حملہ مراکش پر حملے کے مترادف ہے اور سعودی عرب سمیت خلیجی ریاستوں کے ساتھ کھڑا ہونا ان کی حمایت کے برابر ہے۔

بادشاہ نے کہا کہ خلیجی ممالک کے اہم مفادات کا دفاع مراکش کے مشترکہ اسٹریٹجک مفادات کے تحفظ کا حصہ ہے۔ انہوں نے سعودی عرب کی خودمختاری، سلامتی اور علاقائی استحکام کے لیے حمایت کا بھی اعادہ کیا۔

یہ بیان سعودی عرب کی جانب سے 26 ستمبر کو ریاض اور خمیس مشیط کی سمت آنے والے حوثی ڈرونز اور میزائلوں کو تباہ کرنے کے دعوے کے بعد سامنے آیا ہے۔ سعودی حکام کے مطابق ان حملوں کو فضائی دفاعی نظام کے ذریعے ناکام بنایا گیا۔

شاہ محمد ششم نے اپنے بیان میں دہشت گرد اور علیحدگی پسند ملیشیاؤں اور ان کی حمایت کرنے والی علاقائی قوتوں سے منسوب خطرات پر بھی تشویش ظاہر کی۔ مراکشی بیان میں ان عناصر پر ہمسایہ ممالک کی سلامتی اور عالمی معیشت کے لیے اہم سمندری راستوں کو خطرے میں ڈالنے کا الزام عائد کیا گیا۔

بیان میں ایران کا نام براہ راست نہیں لیا گیا، تاہم علاقائی تناظر میں اس حوالے کو ایران اور خطے میں اس کے اتحادی گروہوں، بشمول یمن کی حوثی تحریک، سے متعلق سمجھا جا رہا ہے۔ ان گروہوں کی ایران کی جانب سے حمایت اور ان کی کارروائیوں میں ایرانی کردار کے بارے میں مختلف فریقوں کے مؤقف موجود ہیں۔

شاہ مراکش نے حوثیوں اور ان کے بقول انہیں مالی اور عسکری مدد فراہم کرنے والوں کے خلاف بین الاقوامی پابندیاں عائد کرنے کا مطالبہ بھی کیا۔ ان کے مطابق ایسے اقدامات علاقائی سلامتی اور بین الاقوامی بحری آمدورفت کو درپیش خطرات سے نمٹنے کے لیے ضروری ہیں۔

مراکش کے اس بیان میں سعودی عرب اور خلیجی ممالک کے ساتھ اسٹریٹجک تعاون اور علاقائی سلامتی کے حوالے سے اس کے مؤقف کو نمایاں کیا گیا ہے، خصوصاً ایسے وقت میں جب بحیرۂ احمر اور باب المندب کے اطراف کشیدگی کے باعث عالمی تجارت اور توانائی کی ترسیل سے متعلق خدشات بڑھ رہے ہیں۔

نیوز اینڈ نیوز کی وضاحت:
شاہ محمد ششم کے بیان اور سعودی عرب کے ساتھ مراکش کی یکجہتی کی تفصیلات مراکش کی سرکاری خبر رساں ایجنسی کے حوالے سے فراہم کردہ متن پر مبنی ہیں۔ 26 ستمبر کے حملوں اور انہیں ناکام بنانے سے متعلق تفصیلات سعودی حکام کے بیان کے طور پر رپورٹ کی گئی ہیں۔ ایران کے کردار اور حوثیوں کو مالی و عسکری معاونت سے متعلق الزامات کو آزادانہ طور پر ثابت شدہ حقائق کے بجائے متعلقہ فریقوں کے مؤقف کے تناظر میں دیکھا جانا چاہیے۔

ماخذ: مراکش کی سرکاری خبر رساں ایجنسی؛ فراہم کردہ خبر کا متن