Latest news

امریکی افغانستان جنگ کمیشن کے وفد کی فیلڈ مارشل عاصم منیر سے ملاقات

Spread the love

منصور احمد,September 28,2026

راولپنڈی (نیوز اینڈ نیوز) — 28 ستمبر 2026ء

امریکہ کے افغانستان میں 20 سالہ جنگ کا جائزہ لینے کے لیے قائم کمیشن کے وفد نے جنرل ہیڈکوارٹرز (جی ایچ کیو) راولپنڈی میں چیف آف آرمی اسٹاف و چیف آف ڈیفنس فورسز فیلڈ مارشل سید عاصم منیر سے ملاقات کی، جس میں علاقائی سلامتی، افغانستان کی صورتحال اور باہمی دلچسپی کے امور پر تبادلہ خیال کیا گیا۔

پاک فوج کے شعبہ تعلقات عامہ (آئی ایس پی آر) کے مطابق امریکی وفد میں کمیشن کی رکن شمیلا این چوہدری اور ڈاکٹر کولن ایف جیکسن شامل تھے۔ ملاقات میں افغانستان میں ہونے والی تازہ پیش رفت اور خطے کی مجموعی سکیورٹی صورتحال پر گفتگو ہوئی۔

آئی ایس پی آر کے بیان کے مطابق فیلڈ مارشل عاصم منیر نے افغانستان میں طویل تنازع کے دوران پاکستان کو درپیش مختلف چیلنجز پر روشنی ڈالی۔ انہوں نے زور دیا کہ افغانستان میں امریکی جنگ اور اس کے نتائج کا جائزہ لیتے وقت علاقائی تناظر اور پاکستان کے تجربات کو بھی مدنظر رکھنا ضروری ہے۔

فیلڈ مارشل عاصم منیر نے کہا کہ افغانستان میں جنگ کے سٹریٹیجک، سفارتی اور عملی پہلوؤں کو سمجھنے کے لیے خطے کے حالات اور تنازع سے متاثر ہونے والے ممالک کے تجربات اہمیت رکھتے ہیں۔

بیان کے مطابق امریکی وفد نے افغانستان کے تنازع کے دوران پاکستان کے دیرینہ کردار اور قربانیوں کا اعتراف کیا۔ وفد نے خطے میں امن و استحکام کے لیے پاکستان کی مسلسل کوششوں کو بھی سراہا۔

امریکی وفد کا یہ دورہ افغانستان میں امریکی جنگ کے مختلف پہلوؤں کا جائزہ لینے کے لیے جاری کوششوں کے تناظر میں اہمیت رکھتا ہے۔ پاکستان اس تنازع کے دوران افغانستان کا ہمسایہ ہونے کے باعث سکیورٹی، سفارت کاری اور علاقائی استحکام سے متعلق معاملات میں اہم کردار ادا کرتا رہا ہے۔

تاہم ملاقات میں زیر بحث آنے والے مخصوص واقعات، پاکستان کے تجربات سے متعلق تفصیلی سفارشات یا کمیشن کی آئندہ رپورٹ کے بارے میں مزید معلومات جاری نہیں کی گئیں۔

نیوز اینڈ نیوز کی وضاحت:

یہ خبر آئی ایس پی آر کے فراہم کردہ بیان کی بنیاد پر مرتب کی گئی ہے۔ امریکی وفد کو افغانستان میں امریکی جنگ کا جائزہ لینے والے کمیشن سے وابستہ بتایا گیا ہے۔ ملاقات میں زیر بحث امور کی مکمل تفصیلات اور کمیشن کی حتمی سفارشات تاحال جاری کردہ بیان میں شامل نہیں ہیں۔

ماخذ:
پاک فوج کا شعبہ تعلقات عامہ (آئی ایس پی آر)؛ فراہم کردہ خبر