Latest news

ایران کے 30 سے زائد سابق عہدیداروں کا این پی ٹی سے نکلنے کا مطالبہ

Spread the love

محمود احمد, September 28,2026

تہران (نیوز اینڈ نیوز) — 28 ستمبر 2026ء

ایران کے 30 سے زائد سابق حکومتی عہدیداروں، جن میں سابق وزرا اور نائب صدور بھی شامل ہیں، نے حکومت سے جوہری ہتھیاروں کے عدم پھیلاؤ کے معاہدے (این پی ٹی) سے علیحدگی کا مطالبہ کیا ہے۔ سابق عہدیداروں نے ایک کھلے خط میں مؤقف اختیار کیا ہے کہ موجودہ حالات میں اس معاہدے کا حصہ رہنا ایران کے قومی مفادات کے مطابق نہیں رہا۔

خط پر دستخط کرنے والوں نے سپریم قومی سلامتی کونسل، حکومت اور پارلیمان سے مطالبہ کیا ہے کہ این پی ٹی کے تحت تعاون روکنے اور معاہدے سے باضابطہ علیحدگی کے قانونی عمل کا آغاز کیا جائے۔

خط میں ایران کی قیادت سے کہا گیا ہے کہ وہ جوہری معاہدے کے حوالے سے ملک کی پالیسی پر نظرثانی کرے اور موجودہ حالات کو مدنظر رکھتے ہوئے ضروری اقدامات کرے۔ تاہم دستیاب معلومات کے مطابق یہ مطالبہ سابق عہدیداروں کی جانب سے کیا گیا ہے، اسے ایرانی حکومت یا پارلیمان کا باضابطہ فیصلہ قرار نہیں دیا جا سکتا۔

سابق نائب صدور اور وزرا بھی دستخط کنندگان میں شامل

خط پر دستخط کرنے والوں میں محمد رضا میرتاج الدینی، محمد رضا رحیمی اور مسعود زریبافان شامل ہیں، جو سابق ایرانی صدر محمود احمدی نژاد کے دور میں نائب صدر کے عہدے پر فائز رہ چکے ہیں۔

سابق وزیر اطلاعات حیدر مصلحی بھی اس خط کے دستخط کنندگان میں شامل ہیں۔ ان کے علاوہ سابق ایرانی صدر ابراہیم رئیسی کے دور میں نائب صدور رہنے والے امیر حسین قاضی زادہ ہاشمی، میثم لطیفی اور انسیہ خزعلی نے بھی معاہدے سے علیحدگی کے مطالبے کی حمایت کی ہے۔

خط میں دستخط کنندگان نے مؤقف اختیار کیا ہے کہ ایران کو اپنے قومی مفادات اور موجودہ حالات کی روشنی میں جوہری پالیسی سے متعلق فیصلے کرنے چاہییں۔ ان کے مطالبے میں معاہدے کے تحت تعاون روکنے اور باضابطہ علیحدگی کے قانونی مراحل شروع کرنے پر زور دیا گیا ہے۔

این پی ٹی کیا ہے؟

جوہری ہتھیاروں کے عدم پھیلاؤ کا معاہدہ، جسے نان پرولیفریشن ٹریٹی (این پی ٹی) کہا جاتا ہے، جوہری ہتھیاروں کے پھیلاؤ کو روکنے، جوہری تخفیف اسلحہ اور جوہری توانائی کے پُرامن استعمال کے لیے بین الاقوامی فریم ورک فراہم کرتا ہے۔

ایران 1970ء میں اس معاہدے کا رکن بنا تھا۔ معاہدے کے تحت ایران نے جوہری ہتھیار حاصل نہ کرنے اور جوہری سرگرمیوں سے متعلق بین الاقوامی ذمہ داریاں قبول کی تھیں۔

ایران کی جانب سے معاہدے سے علیحدگی کا مطالبہ ایسے وقت سامنے آیا ہے جب ملک کے جوہری پروگرام اور بین الاقوامی جوہری نگرانی سے متعلق معاملات عالمی سطح پر توجہ کا مرکز ہیں۔

این پی ٹی سے باضابطہ علیحدگی کا معاملہ محض سیاسی اعلان تک محدود نہیں بلکہ اس میں معاہدے کی متعلقہ شقوں اور قانونی طریقہ کار کی پابندی بھی شامل ہے۔

نیوز اینڈ نیوز کی وضاحت:

یہ مطالبہ ایران کے سابق حکومتی عہدیداروں کی جانب سے سامنے آیا ہے۔ دستیاب معلومات میں ایرانی حکومت کی جانب سے این پی ٹی سے علیحدگی کا کوئی باضابطہ فیصلہ یا قانونی عمل شروع کیے جانے کی تصدیق نہیں ہے۔ ایران کی موجودہ جوہری پالیسی اور مستقبل کے اقدامات سے متعلق کسی نتیجے کے لیے سرکاری اعلان ضروری ہوگا۔

ماخذ: صارف کی فراہم کردہ خبر؛ این پی ٹی سے متعلق بنیادی معلومات