
محمود احمد, September30,2026
دبئی (نیوز اینڈ نیوز) — 30 ستمبر 2026ء
برطانیہ کی میری ٹائم ٹریڈ آپریشنز (UKMTO) نے کہا ہے کہ آبنائے ہرمز میں گزشتہ روز تین تجارتی بحری جہازوں کو نامعلوم میزائلوں سے نشانہ بنایا گیا، تاہم حملے میں استعمال ہونے والے ہتھیاروں یا ذمہ دار فریق کے بارے میں فوری طور پر کوئی معلومات سامنے نہیں آئیں۔
یو کے ایم ٹی او کے مطابق حملے کی زد میں آنے والے جہازوں میں ایک آئل ٹینکر، ایک مائع قدرتی گیس (LNG) بردار جہاز اور ایک تیسرا تجارتی بحری جہاز شامل ہے۔ ادارے نے واقعے کی اطلاع دیتے ہوئے مزید تفصیلات فراہم نہیں کیں۔
آبنائے ہرمز دنیا کی اہم ترین توانائی کی گزرگاہوں میں شمار ہوتی ہے۔ یہ آبنائے خلیج فارس کو خلیج عمان اور بحیرۂ عرب سے ملاتی ہے اور مشرق وسطیٰ کے توانائی کے عالمی بازاروں تک پہنچنے والے تیل اور گیس کے لیے ایک اہم بحری راستہ ہے۔ اس راستے میں کسی بھی بڑے سکیورٹی واقعے سے عالمی جہاز رانی اور توانائی کی ترسیل پر اثرات مرتب ہونے کا خدشہ رہتا ہے۔
تین مختلف نوعیت کے تجارتی جہازوں کو ایک ہی روز نشانہ بنائے جانے کی اطلاع ایسے وقت میں سامنے آئی ہے جب آبنائے ہرمز کے اطراف بحری سکیورٹی کی صورتحال پہلے ہی کشیدہ ہے۔ تیل بردار جہازوں کے ساتھ LNG کی عالمی ترسیل بھی اس راستے کی اہمیت کو بڑھاتی ہے، کیونکہ خطے سے توانائی کی بڑی مقدار سمندری راستے سے عالمی منڈیوں تک پہنچتی ہے۔
یو کے ایم ٹی او کی جانب سے حملے کے ذمہ دار کا نام یا حملے کی نوعیت سے متعلق مزید تفصیلات جاری نہ کیے جانے کے باعث واقعے کے پس منظر اور ممکنہ ذمہ دار فریق کے بارے میں فی الحال حتمی نتیجہ اخذ نہیں کیا جا سکتا۔
بحری سکیورٹی سے متعلق ادارے عام طور پر ایسے واقعات کے بعد جہاز رانی کرنے والی کمپنیوں کو اضافی احتیاط اور تازہ ترین سکیورٹی ہدایات پر عمل کرنے کی ہدایت کرتے ہیں۔ آبنائے ہرمز سے گزرنے والے تجارتی جہازوں کی حفاظت خطے کی مجموعی سکیورٹی صورتحال اور عالمی توانائی کی سپلائی کے لیے اہم سمجھی جاتی ہے۔
نیوز اینڈ نیوز کی وضاحت:
یو کے ایم ٹی او کے مطابق تین جہازوں کو نامعلوم میزائلوں سے نشانہ بنایا گیا، لیکن دستیاب معلومات میں حملے کے ذمہ دار، میزائلوں کی نوعیت یا جہازوں کو پہنچنے والے نقصان کی تفصیلات موجود نہیں۔ اس لیے کسی ملک یا گروہ کو حملے کا ذمہ دار قرار نہیں دیا گیا۔ واقعے کی مزید تفصیلات متعلقہ بحری اور سکیورٹی اداروں کی تحقیقات یا آئندہ جاری ہونے والی اطلاعات سے واضح ہوں گی۔
ماخذ:
برطانیہ کی میری ٹائم ٹریڈ آپریشنز (UKMTO)