کابل میں امریکی سفارت خانہ دوبارہ کھولا جائے اور سرمایہ کاری کی جائے، افغان وزیر خارجہ امیر خان متقی کا مطالبہ

Spread the love

محمود احمد, August 16,2026

کابل (نیوز اینڈ نیوز) — 16 اگست 2026ء

افغانستان کی طالبان عبوری حکومت کے وزیرِ خارجہ امیر خان متقی نے امریکہ سے مطالبہ کیا ہے کہ وہ کابل میں اپنا سفارت خانہ دوبارہ کھولے اور افغانستان کی معیشت و بنیادی ڈھانچے میں سرمایہ کاری کرے۔ امریکی جریدے ‘دی نیویارک ٹائمز’ کو دیے گئے ایک انٹرویو میں افغان وزیرِ خارجہ نے کہا کہ طالبان حکومت امریکہ کے ساتھ جنگ کے باب کو ختم سمجھتی ہے اور باہمی احترام پر مبنی تعلقات اور مثبت روابط کے ایک نئے باب کی خواہش مند ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ کوئی بھی افغان اپنی سرزمین پر کسی غیر ملکی فوج کی موجودگی برداشت نہیں کر سکتا، جبکہ طالبان انتظامیہ امریکہ میں بھی اپنا سفارتی مشن دوبارہ فعال کرنے کے لیے کوشاں ہے۔

افغان وزیرِ خارجہ امیر خان متقی نے واضح کیا کہ افغان انتظامیہ کو غیر ملکی سرمائے کی اشد ضرورت ہے، اس لیے امریکہ سمیت دنیا کا کوئی بھی ملک افغانستان کے معدنی ذخائر اور بنیادی ڈھانچے کے شعبوں میں آزادانہ سرمایہ کاری کر سکتا ہے۔ تاہم انٹرویو کے دوران انہوں نے اس سوال کا براہِ راست جواب دینے سے گریز کیا کہ آیا خواتین کی تعلیم اور حقوق پر پابندیاں عالمی سطح پر طالبان حکومت کو تسلیم کرنے میں بڑی رکاوٹ ہیں۔ دوسری جانب امریکی محکمہ خارجہ نے اپنے تحریری ردِعمل میں واضح کیا ہے کہ طالبان اپنے انسدادِ دہشت گردی کے وعدوں میں ناکام رہے ہیں اور افغانستان کو دہشت گرد گروہوں کے لیے لانچ پیڈ بننے سے نہیں روک سکے، لہٰذا فی الحال تعلقات کی بحالی کا کوئی امکان نہیں اور امریکہ صرف اپنے قومی مفاد کے تحت ہی طالبان سے رابطہ قائم رکھتا ہے۔