

منصور احمد,September 09,2026
اسلام آباد (نیوز اینڈ نیوز) — 9 ستمبر 2026ء
وفاقی آئینی عدالت نے اپنے ایک اہم اور تفصیلی تحریری فیصلے میں واضح کیا ہے کہ قانونی داد رسی اور چارہ جوئی کے لیے متعین کردہ مقررہ مدت پر عمل کرنا قانون کا بنیادی اور اہم ترین اصول ہے، اس لیے محض کسی معاملے کو بنیادی حقوق کا مسئلہ قرار دے کر غیر معمولی تاخیر سے دائر کی گئی آئینی درخواست کے ذریعے قانون میں طے شدہ مدت کو نظر انداز یا بائی پاس نہیں کیا جا سکتا۔
وفاقی آئینی عدالت کی جانب سے جاری کردہ تفصیلی تحریری فیصلے میں مذہبی لٹریچر، کتب اور مواد پر پابندی اور ان کی ضبطگی کے خلاف دائر کی گئی متعدد اپیلیں اور درخواستیں بلاجواز تاخیر کی بنیاد پر خارج کر دی گئی ہیں۔ عدالتِ عالیہ نے قرار دیا ہے کہ درخواستوں کی دائرگی میں بغیر کسی ٹھوس وجہ کے غیر معمولی تاخیر قانونی اصطلاح میں “لیشز” کا باعث بنتی ہے، اور آئینی درخواست کے ذریعے قانونی مدت سے بچنے کی ایسی تمام کاوشیں دراصل آئین اور قانون کے جائز عمل کا غلط استعمال ہیں۔
تفصیلی فیصلے میں عدالت نے نشاندہی کی کہ درخواست گزاروں کے پاس صوبائی حکومت کی جانب سے ضابطہ فوجداری کی دفعہ 99 اے کے تحت کی گئی انتظامی کارروائی کے خلاف دفعہ 99 بی کے تحت ہائی کورٹ سے باضابطہ رجوع کرنے کا مؤثر اور متبادل قانونی راستہ موجود تھا۔ اس کے علاوہ متعلقہ آرڈیننس کے تحت بھی متفقہ طور پر اپیل کا حق میسر تھا، تاہم تمام تر درخواست گزاروں نے مقررہ قانونی مدت کے اندر یہ لازمی قانونی راستہ اختیار کرنے کے بجائے انتہائی تاخیر کا مظاہرہ کیا۔
وفاقی آئینی عدالت نے اپنے فیصلے میں بنیادی قانونی نقطہ واضح کرتے ہوئے کہا کہ ریاستی اختیارات کا ہر قسم کا استعمال قانون کے اندر موجود باضابطہ ماخذ سے منسلک ہونا ضروری ہے۔ محض یہ حقیقت کہ کوئی فیصلہ انتظامی افسر کی جانب سے ہوا ہے، اسے ازخود غیر قانونی یا محض صوابدیدی اختیار نہیں بنا دیتی، بلکہ بنیادی سوال یہ ہے کہ وہ اختیار کس بنیادی قانون کے تحت حاصل کیا گیا تھا اور اس کا ماخذ کیا ہے۔
عدالتی فیصلے میں مزید لکھا گیا ہے کہ بنیادی حقوق بلاشبہ آئین پاکستان کی جانب سے فراہم کردہ اہم ترین ضمانتیں ہیں، تاہم ان حقوق کا استعمال ملکی قانون، عمومی پالیسی اور اخلاقیات کے واضح تابع ہوتا ہے۔ مذہبی آزادی سمیت آئین میں درج تمام بنیادی حقوق کو ہمیشہ وسیع تر عوامی مفاد، بین المذاہب ہم آہنگی اور امنِ عامہ کے ساتھ متوازن بنانا قانون کے لیے بے حد ضروری ہے۔
مقدمے کے پس منظر کے مطابق درخواست گزار محمد عبد القدوس نے پنجاب حکومت کے محکمہ داخلہ کی جانب سے 25 جون 2014 کو جاری کردہ ایک نوٹیفکیشن کو چیلنج کیا تھا، جس کے تحت “روحانی خزائن” کی جلد اول سے 23 پر باضابطہ پابندی عائد کی گئی تھی اور تمام دستیاب نقول کو ضبط کرنے کے احکامات دیے گئے تھے۔ اس کے علاوہ دیگر تمام درخواست گزاروں نے بھی مختلف دینی و دیگر لٹریچر اور متنازع مواد کے خلاف کی جانے والی حکومتی و انتظامی کارروائیوں کو عدالت عالیہ میں چیلنج کر رکھا تھا۔
عدالت نے حتمی طور پر قرار دیا کہ درخواست گزاروں نے وقت پر متبادل قانونی چارہ جوئی کا فورم اختیار کرنے کے بجائے برسوں کی تاخیر کے بعد براہِ راست آئینی درخواستیں دائر کی ہیں اور عدالت کے سامنے تاخیر کی کوئی معقول یا قابلِ قبول وجہ بھی پیش کرنے میں ناکام رہے ہیں۔ وفاقی آئینی عدالت نے ہائی کورٹ کے فیصلوں کو بحال رکھتے ہوئے قرار دیا کہ زیرِ نظر فیصلے میں کوئی قانونی یا دائرہ اختیار کی خامی موجود نہیں جس کی بنیاد پر مداخلت کی جائے، اور اسی بنا پر تمام درخواستیں خارج کرتے ہوئے زیر التوا متفرق متفرقات کو نمٹا دیا گیا۔







