

روزینہ اسماعیل, August 05,2026
بیجنگ (نیوز اینڈ نیوز) — 5 اگست 2026ء
چین نے فلپائن کی وزارتِ دفاع کی جانب سے چین کے قومیتی اتحاد و ترقی کے فروغ کے قانون سے متعلق جاری کردہ بیان کو یکسر مسترد کرتے ہوئے اسے جھوٹ، بدنیتی اور سنگین سیاسی اشتعال انگیزی پر مبنی قرار دیا ہے۔
سی جی ٹی این کے مطابق چین کی وزارتِ خارجہ کے ترجمان لین جیان نے فلپائن کی جانب سے آنے والے بیان پر شدید ردِعمل دیتے ہوئے کہا کہ مذکورہ بیان چین کے اندرونی معاملات میں کھلی مداخلت کے مترادف ہے اور انتہائی سنگین نوعیت کی سیاسی اشتعال انگیزی ہے، جس کی بیجنگ شدید ترین الفاظ میں مخالفت کرتا ہے۔
چینی ترجمان نے واضح کیا کہ فلپائن میں چین مخالف عناصر کا ایک مخصوص اور محدود گروہ اپنے سیاسی اور شخصی مفادات کے حصول اور سمندری حدود میں فلپائن کی مسلسل خلاف ورزیوں پر پردہ ڈالنے کی خاطر سیاسی اور ابلاغی ہتھکنڈے استعمال کر رہا ہے۔ انہوں نے کہا کہ یہ عناصر حقائق کو مسخ کرنے کی ناکام کوششیں کر رہے ہیں، تاہم ان کے ایسے تمام مذموم عزائم کبھی کامیاب نہیں ہوں گے۔
ترجمان نے فلپائن کے ان عناصر کو سخت تنبیہ کرتے ہوئے خبردار کیا کہ وہ چین کے خلاف بے بنیاد الزامات اور بلاوجہ کی اشتعال انگیزیاں فوری طور پر بند کریں، بصورتِ دیگر انہیں اپنے ان منفی اور غیر ذمہ دارانہ اقدامات کی بھاری قیمت چکانا پڑے گی۔
لین جیان نے قومیتی اتحاد و ترقی کے فروغ کے قانون کی اہمیت واضح کرتے ہوئے کہا کہ اس قانون کا نفاذ چین میں تمام مختلف قومیتوں کے قانونی حقوق اور مفادات کے موثر اور بہتر تحفظ کے لیے انتہائی مفید ثابت ہوگا، جبکہ یہ ملک میں قومیتی اتحاد اور مجموعی ترقی کے فروغ کے لیے ایک مضبوط اور مستحکم قانونی ضمانت فراہم کرے گا۔