افریقہ میں ایبولا وبا کا پھیلائو: چین کا افریقی ممالک کو ہر ممکن طبی امداد اور تعاون کی فراہمی جاری رکھنے کا اعلان

روزینہ اسماعیل, August 05,2026

بیجنگ (نیوز اینڈ نیوز) — 5 اگست 2026ء

چین نے اعلان کیا ہے کہ وہ افریقی ممالک کو ایبولا کی وبا کے خاتمے اور اس کے موثر انسداد کے لیے اپنی استطاعت کے مطابق تمام تر طبی اور فنی تعاون کی فراہمی مسلسل جاری رکھے گا۔

سی جی ٹی این کے مطابق یہ اہم بات چین کی وزارتِ خارجہ کے ترجمان لین جیان نے جمہوریہ کانگو بھیجے گئے چین کے تیسرے طبی ماہرین کے وفد سے متعلق پوچھے گئے ایک سوال کے جواب میں کہی۔ چینی ترجمان نے صورتحال کی حساسیت کو اجاگر کرتے ہوئے کہا کہ ایبولا کی وبا افریقی خطے میں بدستور پھیل رہی ہے، اور چین اس مشکل گھڑی میں افریقی برادر ممالک کو تنہا نہیں چھوڑے گا بلکہ انسدادِ وبا کی تمام تر کوششوں میں اپنی استطاعت کے مطابق مدد فراہم کرتا رہے گا۔

ترجمان لین جیان نے بتایا کہ افریقہ میں ایبولا کی نئی وبا پھوٹنے کے فوراً بعد چین نے اس معاملے کو انتہائی اہمیت دی اور فوری طور پر مسلسل طبی ماہرین اور وبائی امراض کے عالمی ماہرین پر مشتمل وفود جمہوریہ کانگو سمیت متاثرہ ممالک بھیجے تاکہ مقامی انتظامیہ کو وائرس کے پھیلاؤ کو روکنے میں مدد فراہم کی جا سکے، جسے عالمی اور علاقائی سطح پر مختلف حلقوں کی جانب سے بے حد سراہا گیا ہے۔

انہوں نے مزید کہا کہ بیجنگ سے جمہوریہ کانگو پہنچنے والا ماہرین کا تیسرا وفد وبا کی روک تھام اور علاج معالجے کی مقامی عملی ضروریات کے مطابق جمہوریہ کانگو کے صحت کے حکام اور عالمی صحت سے متعلق بین الاقوامی تنظیموں کے ساتھ باہمی تبادلہ خیال اور ٹیکنیکل تعاون کو مزید گہرا کرے گا۔

فلپائنی بیان پر چین کا شدید ردِعمل: چینی وزارتِ خارجہ نے فلپائن کے الزامات کو جھوٹ اور بدنیتی پر مبنی سیاسی اشتعال انگیزی قرار دے دیا

روزینہ اسماعیل, August 05,2026

بیجنگ (نیوز اینڈ نیوز) — 5 اگست 2026ء

چین نے فلپائن کی وزارتِ دفاع کی جانب سے چین کے قومیتی اتحاد و ترقی کے فروغ کے قانون سے متعلق جاری کردہ بیان کو یکسر مسترد کرتے ہوئے اسے جھوٹ، بدنیتی اور سنگین سیاسی اشتعال انگیزی پر مبنی قرار دیا ہے۔

سی جی ٹی این کے مطابق چین کی وزارتِ خارجہ کے ترجمان لین جیان نے فلپائن کی جانب سے آنے والے بیان پر شدید ردِعمل دیتے ہوئے کہا کہ مذکورہ بیان چین کے اندرونی معاملات میں کھلی مداخلت کے مترادف ہے اور انتہائی سنگین نوعیت کی سیاسی اشتعال انگیزی ہے، جس کی بیجنگ شدید ترین الفاظ میں مخالفت کرتا ہے۔

چینی ترجمان نے واضح کیا کہ فلپائن میں چین مخالف عناصر کا ایک مخصوص اور محدود گروہ اپنے سیاسی اور شخصی مفادات کے حصول اور سمندری حدود میں فلپائن کی مسلسل خلاف ورزیوں پر پردہ ڈالنے کی خاطر سیاسی اور ابلاغی ہتھکنڈے استعمال کر رہا ہے۔ انہوں نے کہا کہ یہ عناصر حقائق کو مسخ کرنے کی ناکام کوششیں کر رہے ہیں، تاہم ان کے ایسے تمام مذموم عزائم کبھی کامیاب نہیں ہوں گے۔

ترجمان نے فلپائن کے ان عناصر کو سخت تنبیہ کرتے ہوئے خبردار کیا کہ وہ چین کے خلاف بے بنیاد الزامات اور بلاوجہ کی اشتعال انگیزیاں فوری طور پر بند کریں، بصورتِ دیگر انہیں اپنے ان منفی اور غیر ذمہ دارانہ اقدامات کی بھاری قیمت چکانا پڑے گی۔

لین جیان نے قومیتی اتحاد و ترقی کے فروغ کے قانون کی اہمیت واضح کرتے ہوئے کہا کہ اس قانون کا نفاذ چین میں تمام مختلف قومیتوں کے قانونی حقوق اور مفادات کے موثر اور بہتر تحفظ کے لیے انتہائی مفید ثابت ہوگا، جبکہ یہ ملک میں قومیتی اتحاد اور مجموعی ترقی کے فروغ کے لیے ایک مضبوط اور مستحکم قانونی ضمانت فراہم کرے گا۔