وفاقی آئینی عدالتِ پاکستان کے لیے بین الاقوامی سطح پر بڑی کامیابی؛ ترک دنیا کی آئینی عدالتوں کی کانفرنس میں مبصر کی متفقہ رکنیت منظور

Spread the love

منصور احمد, JULY 19,2026

اسلام آباد (نیوز اینڈ نیوز) — 19 جولائی 2026ء

وفاقی آئینی عدالتِ پاکستان نے بین الاقوامی آئینی عدالتی برادری میں ایک انتہائی مقتدر اور تزویراتی سنگِ میل عبور کر لیا ہے۔ پاکستان کی نو تشکیل شدہ وفاقی آئینی عدالت کو “ترک دنیا کی آئینی عدالتوں کی کانفرنس میں متفقہ طور پر مبصر کی حیثیت سے مستقل رکنیت دے دی گئی ہے، جو کہ عالمی سطح پر ملکی عدالتی برادری کے بڑھتے ہوئے کردار اور مؤثر ترین روابط کا واضح ثبوت ہے۔

اتوار کے روز وفاقی آئینی عدالتِ پاکستان کی جانب سے جاری کردہ آفیشل پریس ریلیز کے مطابق، ترک دنیا کی آئینی عدالتوں کی کانفرنس کا تزویراتی قیام 27 اپریل 2022ء کو استنبول (ترکیہ) میں عمل میں آیا تھا، جس کا بنیادی مقصد ترک ممالک کے مابین آئینی انصاف، قانون کی حکمرانی کو مستحکم کرنا اور عدالتی تجربات و بہترین آئینی فقہ کے تبادلے کو فروغ دینا ہے۔ اس اہم تنظیم کے مستقل اور مکمل ارکان میں ترکیہ، آذربائیجان، قازقستان، کرغزستان اور ازبکستان کی سپریم و آئینی عدالتیں شامل ہیں۔

ترک تنظیم کی جانب سے پاکستان کو مبصر کی حیثیت سے شامل کرنے کے اس مقتدر فیصلے سے متعلق جمہوریہ آذربائیجان کی آئینی عدالت کے چیئرمین اور کے موجودہ ٹرم صدر فرہاد عبداللایف نے وفاقی آئینی عدالتِ پاکستان کے چیف جسٹس امین الدین خان کے نام ایک باضابطہ مکتوب ارسال کیا۔ اس خط میں تصدیق کی گئی کہ تنظیم کے دستور کے آرٹیکل 10.4 کے تحت تمام رکن ممالک کی عدالتوں نے پاکستان کی شمولیت کی متفقہ منظوری دی ہے۔ فرہاد عبداللایف نے امید ظاہر کی کہ پاکستان کی ممتاز آئینی مہارت اور اعلیٰ ساکھ تنظیم کی سرگرمیوں میں مثبت کردار ادا کرے گی اور یہ شمولیت ادارہ جاتی روابط کو مزید مضبوط کرے گی۔

وفاقی آئینی عدالتِ پاکستان کے چیف جسٹس امین الدین خان نے اس مقتدر اور تاریخی پیش رفت کا شاندار خیرمقدم کرتے ہوئے اسے پاکستان کی آئینی عدالتی روایت اور وفاقی آئینی عدالت پر بین الاقوامی برادری کے غیر متزلزل اعتماد کا مظہر قرار دیا ہے۔ انہوں نے اپنے تادیبی بیان میں کہا کہ یہ رکنیت وفاقی آئینی عدالت کے قانون کی حکمرانی اور آئینی طرزِ حکمرانی کے فروغ کے عزم کی عکاس ہے۔ اس شمولیت سے پاکستان کو ترک دنیا کی عدالتوں کے ساتھ قریبی روابط استوار کرنے، علمی و ادارہ جاتی مکالمے میں شرکت اور بین الاقوامی تعاون کے ذریعے آئینی بالادستی اور بنیادی حقوق کے مؤثر تحفظ کو یقینی بنانے کے لیے وسیع مواقع میسر آئیں گے۔